منگل , 31 مارچ 2020
تازہ ترین

فلسطین سے متعلق کمیٹی کا تہران اجلاس

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کی فلسطین سے متعلق کمیٹی نے بیت المقدس کے خلاف ٹرمپ کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ایران کے دارالحکومت تہران میں اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کی فلسطین سے متعلق کمیٹی نے اپنے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کا اقدام فلسطینی عوام کے حقوق کی کھلی پامالی ہے-

مذکورہ کمیٹی نے کہا ہے کہ بیت المقدس ہمیشہ فلسطین کا دارالحکومت باقی رہے گا اور مسئلہ فلسطین عالم اسلام کے سب سے اہم مسئلے کے طور پر سرفہرست رہے گا-

مذکورہ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بیت المقدس کی آبادی کا تناسب بگاڑنے، اس کی اسلامی اور مسیحی شناخت ختم کرنے، شہر کے اسلامی مقدسات کو مٹانے اور اس کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی صیہونی حکومت کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوں گی-

اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کی فلسطین سے متعلق کمیٹی نے اپنے اجلاس میں کہا ہے کہ سبھی فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی، صیہونی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور آزاد فلسطینی مملکت کے قیام سے کہ جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، فلسطینی عوام کے حقوق کی بازیابی ممکن ہو گی-

فلسطین سے متعلق کمیٹی نے بیت المقدس کو صیہونی حکومت کا دارالحکومت قرار دینے کے ٹرمپ کے فیصلے کو فلسطینی عوام کے حقوق پر ڈاکہ بتایا اور کہا کہ اس اقدام سے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے اور علاقہ مزید بدامنی اور بحران سے دوچار ہو گا-

اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کی فلسطین سے متعلق کمیٹی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ اس عالمی ادارے میں فلسطین کو مکمل رکنیت دے-

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے قومی آشتی کے عمل میں تیزی ضروری ہے تاکہ قومی اتحاد اور سبھی وسائل کو بروئے کار لا کر فلسطین کے مسئلے کو درپیش خطرات کا مقابلہ کیا جائے-

اسلامی ملکوں کی انٹرپارلیمنٹری یونین کی فلسطین سے متعلق کمیٹی کا ہنگامی اجلاس پیر کو تہران میں منعقد ہوا جس میں گیارہ اسلامی ملکوں کے پارلیمانی وفود نے شرکت کی-

فلسطین سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تازہ ترین امریکی اور صیہونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں-اردن کے پارلیمانی وفد کی رکن حیا القرالہ نے اجلاس میں کہا کہ فلسطین اور اسلامی مقدسات اردن کی اہم ترجیحات میں ہیں-

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی حمایت اور دفاع کے معاملے پر کوئی سودا نہیں ہو سکتا- ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس علاقے میں امن واستحکام کی کنجی ہے-

الجزائر کے رکن پارلیمنٹ یوسف عجیسہ نے بھی اس اجلاس میں کہا کہ فلسطین کا بیت المقدس کے بغیر اور بیت المقدس کا مسجد الاقصی کے بغیر کوئی تصور نہیں ہے اور عرب اور مسلمان اقوام کو چاہئے کہ وہ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں-

افریقی ملک چاڈ کے رکن پارلیمنٹ عمرداؤد نے بھی کہا کہ بیت المقدس کو صیہونی حکومت کا دارالحکومت قرار دینے کا ٹرمپ کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے-

انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کے رکن نورحیاتی علی اسقاف نے بھی امریکی اقدام کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی ملکوں کے اٹھ کھڑنے ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے اور اسلامی ملکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کی مدد کریں-

یہ بھی دیکھیں

کورونا وائرس: وزیراعلیٰ بلوچستان کا وفاقی حکومت پر مدد فراہم نہ کرنے کا الزام

کوئٹہ: وزیراعلیٰ پلوچستان جام کمال خان نے وفاقی حکومت، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی …