منگل , 23 جنوری 2018

سعودی عرب نے آخر ترکی کے آگے اپنی اوقات دکھا دی

(تسنیم خیالی)
ٹویٹر پر سرگرم ’’العہد الجدید‘‘ نامی اکاؤنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اعلیٰ ترک عہدیدار سے واضح طور پر کہا ہے کہ سعودی عرب شام میں سرگرم کرد جماعت (Pkk) کی امریکہ کے ذریعے بھر پور مدد کرے گا اور سعودی عرب کا یہ فیصلہ اس مرحلے میں حتمی ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ (Pkk) کو ترکی نے کالعدم جماعت قرار دے رکھا ہے اور یہ وہی کردوں کی جماعت ہے جو ترکی میں بھی سرگرم اور کردوں کی ترکی سے علیحدگی کی کوشش کرتی آرہی ہے ،اس سعودی فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ شام میں اب سعودی عرب اور ترکی کی راہیں جدا ہوگئی ہیں۔

جب کردوں نے رقہ کو امریکی مدد سے داعش سے آزاد کرایا تھا تب بن سلمان کے قریب ترین ساتھیوں میں سے ایک ثامر السبہان نے رقہ کا علاقہ عین عیسی کا دورہ کیا تھا اور وہاں پر کنٹرول سنبھالنے والی کرد فورسز سے ملاقات کی تھی ،اس ’’وزٹ‘‘ کو ترکی نے اپنے خلاف سعودی اقدام گردانا کیونکہ ترکی کے نزدیک یہ کردی دہشت گرد ہیں جو ترکی کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔
اب علاقے میں ایک نئی دشمنی قائم ہوگئی ہے اور یہ دشمنی شام کے خلاف سرگرم دو اتحادی یعنی سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہوئی ہے ،اس نئی دشمنی کی چند وجوہات ہیں جنہیں بیان کرنا ضروری ہے۔

سب سے پہلے تو ترکی نے کچھ عرصہ قبل بڑی کروٹ لیتے ہوئے شام میں روس اور ایران کا ساتھ دینا شروع کیا اور اپنے اتحادیوں کو چھوڑ دیا ،ترکی نے یہ کروٹ اس لیے کی تاکہ وہ کردوں کا مقابلہ کرے اور انہیں شام میں آزاد کرد ریاست قائم کرنے نہ دے اس لیے اس نے بشارالاسد کے جانے کا مطالبہ بھی بند کر دیا کیوں کہ ترکی یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ بشارالاسد کی بقاء سے ہی شام کی تقسیم نہیں ہوگی اور کردی ریاست کا پراجیکٹ ناکام ہوجائے گا مگر دوسری جانب سعودی عرب،امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی اولین کوشش یہی ہے کہ بشارالاسد کسی طرح اقتدار چھوڑ دیں اور شام کی تقسیم ممکمن ہو۔اسی بنا پر اب سعودی عرب شام میں کردوں کا ساتھ دے رہا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ قطر کے بائیکاٹ کے معاملے میں ترکی نے سعودی عرب کی نہیں بلکہ کھل کر قطر کی حمایت کی اور قطر کے بائیکاٹ کی بھرپور مذمت کی ،یہی نہیں بلکہ ترکی نے قطر کی اقتصادی و انسانی طور پر مدد کی جس کی وجہ سے قطر بائیکاٹ کے شروع کے ہی دنوں میں سنبھل گیا اور آج وہ بائیکاٹ کے باوجود مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے اور آہستہ آہستہ قطر اس بائیکاٹ کے منفی اثرات پر غلبہ حاصل کر رہا ہے۔

سب سے بڑھ کر ترکی نے قطر کے دفاع کیلئے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی قطر بھیج دیے۔ترکی کے ان اقدامات نے جہاں قطریوں کے دل جیت لیے وہیں قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک بالخصوص سعودی عرب کو آگ بگولہ کر دیا جس کے بعد دشمنی تو شروع ہونی تھی ۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر جہاں سعودی عرب خاموش تماشائی بنا رہا وہیں ترکی اس اقدام کے خلاف انتہائی سرگرم دکھائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے عالم اسلام میں سعودی عرب کی نہیں بلکہ ترکی کی واہ واہ ہورہی ہے۔

کل کے اتحادی اور آج ایک دوسرے کے دشمن سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالات انتہائی خراب ہوتے جارہے ہیں جو کہ علاقے کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک اور قابل غور بات یہ ہے کہ سعودی عرب ایک ایسا ملک بن چکا ہے جو کسی بھی اعتماد کے قابل نہیں اور وہ کسی بھی وقت پیٹھ میں چھرا گھونپ سکتا ہے خواہ وہ پیٹھ اس کے اتحادی کی ہی کیوں نہ ہو۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی، امریکی اور بھارتی گٹھ جوڑ خطرناک

(نصرت مرزا ) سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے تہران میں 17 جنوری 2018ء ...