جمعرات , 19 جولائی 2018

اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان دینے والے احمد الطیبی کی زندگی کی مختصر داستان

تاریخ پیدائش: 19 دسمبر 1958ء
جائے پیدائش: طیبہ شہر،مقبوضہ فلسطین
شریک حیات: ڈاکٹر فی الطیبی
بچے:2 بیٹیاں
تعلیم: الطیبی نے بیت المقدس میں واقع ’’عبری یونیورسٹی‘‘ سے میڈیکل سائنس کی سند حاصل کر رکھی ہے۔

مختصر تعارف: احمد الطیبی سنہ 1948ء کے عرب کے نام سے جانے جانے والے فلسطینیوں میں شمار ہوتے ہیں وہ ایک میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی ہیں جنہوں نے 1996 میں ’’عربی تبدیلی تحریک‘‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ،وہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن ہیں اور اس حوالے سے مشہور ہیں کہ انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان کے خلاف قرارداد منظور ہونے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران ہی اذان دی اور اسرائیلیوں کو چیلنج کیا کہ وہ اذان کی آواز کو روک کر دکھائیں۔

احمد الطیبی مقبوضہ بیت المقدس کا شہر الطیبہ میں 1958ء کو ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جسے صہیونیوں نے 1948ء میں یافا نامی فلسطینی شہر سے نکال دیا تھا جو بعد میں بیت المقدس منتقل ہوگئی تھی۔

عملی زندگی۔
الطیبی نے 1993ء سے 1996ء تک سابق فلسطینی صدر یاسر عربات کے سیاسی مشیر کے عہدے پر فائز رہے،اپنے اس عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد الطیبی نے اسرائیلی انتخابات میں حصہ لیا اور ’’عربی تبدیلی تحریک‘‘ کے ٹکٹ پر رکن اسرائیلی پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

1999ء کے بعد الطیبی بطور رکن اسرائیلی پارلیمنٹ کئی مرتبہ منتخب ہوئیں اور وہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں تشکیل پانے والی کئی کمیٹیوں کا حصہ رہیں۔

سیاسی تجربہ:
احمد الطیبی نے 1996 میں عربی تبدیلی تحریک کے نام سے اپنی سربراہی میں ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی،اس سال اسرائیلی الیکشن کمیشن نے الطیبی کی جماعت رجسڑڈ کیا،اس وقت اسرائیل میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے الطیبی کی (جو کہ یاسر عرفات کے سیاسی مشیر بھی تھے) اسرائیلی ریاست سے وفاداری کو مشکوک قرار دیا۔

1996ء کے اسرائیلی عام انتخابات میں الطیبی کی نومولود سیاسی جماعت نے حصہ نہیں لیا ،البتہ 1999ء میں الطیبی انتخابات میں حصہ لیا اور ان کی جماعت نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی دو نشستیں حاصل کیں۔

فلسطینیوں کی اسرائیلیوں کے خلاف مزاحمتی عمل میں بھی الطیبی کا نمایاں کردار رہا،الاقصیٰ انتفاضہ کے نام سے مشہور تحریک میں وہ زخمی ہونے والے سب سے پہلے فلسیطنی تھے۔الطیبی اس وقت زخمی ہوئے تھے جب انہوں نے سابق اسرائیلی وزیراعظم ایرئل شارون کو 28 دسمبر 2000ء میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

الطیبی کئی مواقع پر فلسطینیوں کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیلی افواج سے الجھ پڑیں اور 2002 میں انہیں فلسطینیوں کے علاقے میں داخلے سے منع کر دیا گیا۔علاوہ ازیں اسرائیلی الیکشن کمیشن نے الطیبی کے الیکشن لڑںے پر پابندی عائد کر دی۔البتہ انہوں نے اپنے خلاف اس فیصلے کو معطل کروانے میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد 2003ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور ایک بار پھر کامیابی حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے رکن بن گئے۔

احمد الطیبی اسرائیلی پارلیمنٹ کا حصہ بن کر اسرائیل کے خلاف جدوجہد کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اسرائیل میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

نومبر 2016ء میں طیبی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں اس وقت اذان دی جب اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس میں اذان پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کروائی،انہوں نے اذان پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران دیا اور حکومت کو برملا چیلنج کر دیا کہ اذان بند نہیں ہو گی۔

یہ بھی دیکھیں

بن سلمان نے آخر اپنی والدہ کو نظر بند کیوں کر رکھا ہے؟

(تسنیم خیالی) مشہور ہسپانوی اخبار’’ایل مونڈو‘‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں سعودی ولی عہد محمد ...