اتوار , 15 دسمبر 2019

لو جی۔۔۔۔۔۔۔۔ترکی کا اسرائیل کے حوالے سے اصل موقف سامنے آگیا

(تنسیم خیالی)
ٹرمپ کا بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور اسرائیل میں واقع امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد سب سے زیادہ شور اور واویلا ترکی نے مچایا تھا ،ترکی نے ہی استنبول میں او آئی سی کا اجلاس بلایا اور وہ ترکی تھا جس نے اقوام متحدہ میں یمن کے ساتھ مل کر ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کی تھی اور وہ ترک صدر رجب طیب اردگان ہی تھے جنہوں نے ٹرمپ کے فیصلے کے بعد پریس کانفرنس منعقد کروائی اور اس میں اسرائیل کو قابض اور دہشت گرد ملک قراردیا تھا۔

ویسے تو مجھے اس بات میں کوئی شبہ نظر نہیں آرہا تھا کہ اردگان ’’ڈرامے بازیاں‘‘ کر رہے ہیں کیونکہ مصر اور اردن کے بعد ترکی وہ اسلامی ملک ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔

میں یہ کر دوں گا، میں وہ کردوں گا! ٹرمپ کا فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہےجیسے اردگانی نعروں کے بعد اب ترکی کا اسرائیل کے حوالے سے اصل موقف سامنے آگیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اردگان فلسطین اور بیت المقدس کے معاملے میں ڈرامے بازیاں ہی کر رہے تھے۔

ترک وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے حال ہی میں وائس آف اسرائیل نامی اسرائیلی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی مسئلہ فلسطین میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود اسرائیل کے ساتھ قائم تعلقات کو ختم نہیں کرے گا۔کیونکہ دونوں ممالک کے باہمی مفادات ہین،اوگلو کا مزید کہنا تھا کہ ترکی یہودیت کا دشمن نہیں البتہ ترکی کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیلی موقف قبول نہیں۔

اوگلو کے نزدیک مسئلہ فلسیطن کا حل دو ریاستوں کے قیام میں ہے اور ترکی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔

اب قابل غور بات یہ ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان آخر ایسے کون سے مشترکہ مفادات ہیں جن کے آگے بیت المقدس جیسی مقدس ترین مقام کی بھی کوئی ’’نعوذ باللہ‘‘ حیثیت نہیں۔

کیا یہ مشترکہ مفادات بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کیلئے تو نہیں؟کیا یہ مشترکہ مفادات ایران کی مخالفت تو نہیں؟کیا یہ مفادات مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری رکھنا تو نہیں؟

مشترکہ مفادات جو بھی ہوں اوگلو کی باتوں سے یہی سمجھ آتی ہے کہ ترکی کیلئے یہ مفادات بیت المقدس سے ضروری ہیں اور اب اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ترک صدر کیلئے نہ بیت المقدس ،نہ فلسیطین اور نہ ہی فلسطین کی عوام اہمیت کے حامل ہیں ،اردگان کو صرف اور صرف اپنے مفادات اور مقاصد سے غرض ہے ،چاہے یہ مفادات اسرائیل کے ساتھ ہی جڑے کیوں نہ ہوں ۔

اسرائیل کو قابض اور دہشت گرد ریاست کہنے والے اردگان سے کوئی پوچھے کہ کیا اس قسم کی ریاست کے ساتھ تعلقات استوار کرنا دہشت گردی نہیں؟ کیا فلسطین پر قابض ریاست کے ساتھ تعلقات استوار کرنا قبضے میں شراکت داری نہیں؟

اس دور میں اردگان جیسے ڈرمے باز حکمرانوں کی وجہ سے ہی صیہونی ،مسلمانوں کے فلسطین پر قابض ہوسکے اور آج بھی اردگان جیسے ڈرامے باز حکمرانوں کی وجہ سے صیہونی مسلمانوں سے بیت المقدس چھیننے میں کامیاب ہوئے۔

اردگان کو ایک سچا مسلمان لیڈر سمجھنے والے حضرات کیا ترکی کے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مفادات بیت المقدس سے ضروری ہیں؟

یہ بھی دیکھیں

لیبی فوج نے مصراتہ میں ترکی کا اسلحہ گودام تباہ کردیا

لیبیا کی قومی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے …