منگل , 24 اپریل 2018

امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں اب تک کتنے پیسے خرچ ہوئے؟

(تسنیم خیالی)
2001ء میں نائن الیون واقعہ کے بعد امریکہ نے دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف ایک نام نہاد جنگ کا آغاز کیا،اس جنگ کی ابتداء افغانستان سے ہوئی جہاں تحریک طالبان افغانستان  کی حکومت تھی اور امریکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ افغانستان سے طالبان اور القاعدہ کا نام و نشان ختم کر دے گا۔

البتہ افغانستان میں امریکہ کی جنگ تاحال جاری ہے اور امریکہ اپنا یہ دعویٰ پورا نہیں کرسکا،الٹا اب افغانستان میں دہشت گرد تنظیم داعش بھی سرگرم ہوچکی ہے ۔افغانستان کے بعد امریکہ نے عراق کے خلاف جنگ شروع کی۔

2003ء میں وہاں پر دہائیوں سے قائم صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ تو کر دیا مگر ملک دہشت گردی کے شکنجوں میں جکڑ دیا گیا۔اب بھی امریکی افواج عراق میں سرگرم ہیں، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے اور کبھی عراقی افواج کی لاجسٹک مدد کے بہانے۔

عراق کے بعد امریکہ نے شام ،لیبیا،نائیجریا اور متعدد دیگر ممالک میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بہانہ بناتے ہوئے دخل اندازیاں کی اور کرتا آرہا ہے،اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے آخر اب تک دہشت گردی کے خلاف اپنی نام نہاد جنگ پر کتنے پیسے خرچ کر دیے ہیں۔

اس حوالے سے امریکی رسالہ دی نیشن نے اپنے حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں ٹیکس ادا کرنے والی عوام نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اب تک 5.6 ٹریلین ڈالر پیسہ ٹیکس کی صورت میں ادا کیا ہے،رسالے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ رقم اصل رقم سے کم ہوگئی ،کیونکہ امریکی صدر نے گزشتہ ماہ اپنے ایک ٹویٹ میں سابقہ امریکی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ گزشتہ سالوں میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ پر 7 ارب ٹریلین ڈالر خرچ کر دیے ہیں۔

ٹرمپ کی ٹویٹ سے واضح ہوتا ہے کہ اس میں افغانستان،لیبیا اور نائجیریا جیسے ممالک کا ذکر نہیں جو مشرق وسطیٰ میں واقع نہیں۔اب 7 ٹریلین ڈالر کی رقم امریکی صدر ٹویٹر کے ذریعے بتا رہے ہیں اور قوی امکان ہے کہ یہ رقم اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

امریکی رسالے کے مطابق اس وقت 76 ممالک میں امریکی فوجی موجود ہیں جہاں وہ مختلف قسم ،مقاصد اور اہداف کے لیے موجود ہیں۔

رسالے کے مطابق امریکہ کی ان ممالک میں سرگرمیاں بھی مشکوک ہیں،کیونکہ ان ممالک میں کچھ ایسے بھی ہیں جن میں بہت سے شہر ملبوں کا ڈھیر بن چکے ہیں اور وہاں کے شہری بڑی تعداد میں ہجرت کر کے دوسرے ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ نے نہ صرف دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے بلکہ اس جنگ نے امریکی عوام کا بھی جینا مشکل کر دیا ہے کیونکہ اس جنگ میں صرف ہونے والے پیسے کا زیادہ تر حصہ ٹیکس کی صورت میں امریکی عوام سے ہی لیا جارہا ہے جس کی وجہ سے بلا شبہ امریکی عوام کو مشکلات کا سامنا ہورہا ہے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے بعد بھی دہشت گردی کم نہیں ہوئی بلکہ آئے دن بڑھتی جارہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے فروغ کیلئے جاری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ کو درد کس چیز کا ہے؟

ٹھیک ایک سال قبل بھی خان شیخون کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ...