منگل , 24 اپریل 2018

اردن داعش کے نشانے پر آگیا ہے

(تسنیم خیالی)
چند روز قبل اردن میں دہشت گرد تنظیم داعش کی ایک بڑی کارروائی ناکام بنانے کا اعلان کیا گیا ہے،اردنی سیکورٹی فورسز نے اس حوالے سے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ داعش نے بڑے پیمانے پر حکومتی عمارتوں اور شخصیات کے ساتھ ساتھ دینی شخصیات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا تھا،البتہ اردنی سیکورٹی فورسز نے اس منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے 17 اردنی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے ،جن کا تعلق داعش سے ہے۔

اعلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں سے بڑے پیمانے پر اسلحہ برآمد کیا گیا ہے،اردن میں دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائی ایک بڑی کامیابی ہے اور بلاشبہ داعش کی ناکامیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔البتہ یہ اردن کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی بھی ہے ،جسے اردنی حکومت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

اردن میں ہونے والے اس واقعے سے یوں لگ رہا ہے کہ اب اردن کے اتحادی اردن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور داعش کو اردن پر مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں ،مگر کیوں؟
اردن نے پچھلے دنوں اپنے اہم اتحادی ممالک (سعودی عرب ،امارات،امریکہ،مصر اور اسرائیل) کی مخالفت کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حق میں بیت المقدس کے معاملے پر آواز بلند کی ہے اور بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اقدام کی مخالفت کی جس کے بعد بلاشبہ اردن کے اتحادیوں کو اردن کے اس اقدام نے آگ بگولہ کر دیا ہے۔

پہلے تو ان ممالک نے اردن میں حکومت کا تختہ الٹنا چاہا اور اس ضمن میں اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے خلاف فوجی انقلاب کی کوشش کی گئی جس میں عبداللہ دوم کے دو بھائی اور ایک چچا زاد ملوث تھے ،اس انقلاب کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور اس میں ملوث تمام افراد کو قبل از وقت ریٹائرڈ کر کے ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔

اب جبکہ بغاوت کی کوشش ناکام ہوگئی ہے تو اردن کے خلاف داعش کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے ،اردن کو چاہیے کہ انتہائی محتاط انداز میں اس سازش کا مقابلہ کرے کیونکہ عراق اور شام میں تو داعش کا تقریباً خاتمہ ہوچکا ہے اور داعش کے حامی ممالک پورا زور لگارہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں داعش کا وجود قائم رہے اور انہیں داعش کیلئے اردن میں نیا ٹھکانہ بنانے کا موقع مل گیا ہے۔

اردن کے خلاف ہونے والی اس سازش سے ثابت ہورہا ہے کہ سعودی عرب ،امارات،امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کسی کے بھی اتحادی نہیں ہوسکتے،یہ ممالک جب چاہیں کسی بھی ملک کے ساتھ غداری کرتے ہوئے اپنے مفادات اور پالیسیوں کی خاطر اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ کو درد کس چیز کا ہے؟

ٹھیک ایک سال قبل بھی خان شیخون کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا ...