منگل , 21 مئی 2019

9/11 انکوائری کمیشن رپورٹ ، امریکی سعودی تعلقات کشیدہ ہونے کا امکان

e69f77d7903330417c15881364de3ca6

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی تاریخ کے سب سے بڑے دہشتگردی حملے میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کی صورتحال اپنے آخری مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب کسی بھی وقت 9/11 انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے وہ صفحات منظر عام پر آسکتے ہیں کہ جو امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات کو ہمیشہ کے لئے بدل کر رکھ دیں گے۔ اخبار ڈیلی میل کے مطابق امریکی حکومت 9/11 رپورٹ کے سعودی عرب سے متعلقہ 28 صفحات کا کچھ حصہ منظر عام پر لانے کی تیاری کرچکی ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ ان صفحات میں سے کون سے حصے ابتدائی مرحلے میں دنیا کے سامنے لائے جاسکتے ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بین روڈز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر اوباما نے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر کو مذکورہ صفحات کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ کونسے حصے شائع کئے جائیں۔امریکی سینیٹر باب گراہم کا کہنا ہے کہ 9/11 دہشت گردی کے ذمہ دار 19 دہشت گردوں میں سے 15 سعودی شہری تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ان 19 افراد نے اتنی بڑی کارروائی اپنے طور پر کی یا انہیں کوئی حکومت مدد فراہم کررہی تھی۔ ان کا اشارہ سعودی حکومت کی طرف ہے۔ 9/11 تحقیقاتی کمیشن میں شامل رہنے والے ٹم رومر کہتے ہیں کہ یہ 28 صفحات ابتدائی پولیس رپورٹ جیسے ہیں، جن میں الزامات، اشارے، گواہان کے بیانات، ہائی جیکروں کے متعلق معلومات اور مختلف لوگوں سے ان کی ملاقاتوں کے شواہد موجود ہیں۔ واضح رہے کہ 9/11 تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ 838 صفحات پر مشتمل تھی، جن میں سے متنازعہ 28 صفحات کی اشاعت اس وقت امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے حکم پر روک دی گئی تھی جس میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ آوروں کے سعودی عرب حکام کے ساتھ گہرے رابطے کا انکشاف کیا گیا ہے۔اے پی کے مطابق مذکورہ دستاویزات کیپٹل کے تہہ خانے میں ایک نہایت محفوظ کمرے میں رکھی گئی ہیں، جس میں 9/11 کے حملوں میں ہائی جیکرز کا سعودی حکام کے ساتھ رابطہ سامنے آیا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والے پائلٹوں کا تعلق سعودی عرب سے تھا جن کے سعودی عرب کے حکام کے ساتھ گہرے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ سعودی عرب کوشش کررہا ہے کہ یہ رپورٹ سامنے نہ لائے جائے اس لئے اس نے امیرکہ کو دھمکی بھی دی ہے کہ وہ اپنے اثاثے امیرکہ سے نکال لےگا ۔مذکورہ پینل کے شریک چیئرمین اور فلوریڈا سے ڈیموکریٹک کے سابق سینیٹر بوب گراہم اور دیگر کا کہنا ہے کہ مذکورہ 28 صفحات میں اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ سعودی عرب کے حکام ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ آوروں سےر ابطے میں رہے ہیں۔جس سے اس نظریہ کو قوت ملتی ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ تھا۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران نے ہی تہذیبوں کے درمیان گفتگو کا نظریہ متعارف کرایا، صدر ڈاکٹر روحانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہذیبوں …