جمعرات , 21 نومبر 2019

زینب بیٹی کے قاتلوں کی 27 نشانیاں!

(وقار احمد ملک)
ایمان فاطمہ شہید ہوئیں تو ریاست کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہوا لیکن جس نے خبر سنی اس کا دل رنج و غم سے چور ضرورہوا۔ ایمان فاطمہ پر کچھ لکھا اور دوسرے دن لینہ حاشر سے گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ میں تین دن سے سو نہیں پا رہی اور کچھ لکھنے کا خیال آتا ہے تو ہاتھ کانپتے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی اس جانورستان میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمارے نوحوں سے کچھ نہیں ہونا۔ حد سے زیادہ تعداد میں لکھے گئے نوحے حساسیت کے قاتل ہو سکتے ہیں۔ دنیا کا کوئی فرد ایمان فاطمہ کے درد کو بیان نہیں کر سکتا۔ جذبات کے اظہار کے لیے الفاظ اور جملوں کی بھی حدود و قیود ہیں اور آپ بار بار نوحوں میں ایک جیسا رونا روتے رہیں گے تو اس سے حساسیت کم ہوتی چلی جائے گی۔ لفظ بے اثر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اور جب لفظ تاثیر کھو بیٹھیں گے تو ہم بات چیت کیسے کریں گے؟ خیال کا اظہار کیونکر ہو گا؟ لفظ کی حرمت کو بچانا ہو گا۔

آج صبح پھر ایک پھول سا چہرہ دیکھا۔ کیسا دیس ہے جہاں پھولوں کو پاؤں کے جوتوں کے نیچے کچل کر جوتوں اور زمین کو رنگ دیا جاتا ہے۔ سننے میں آیا کہ ایمان فاطمہ کے قاتلوں کو پکڑے جانے پر گولی مار دی گئی تھی۔ لیکن کیا یہ حل ہے؟ اس معاشرے میں ایسے قاتل جومعصوم بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیتے ہیں کتنی تعداد میں ہیں؟ بچوں کو بچانے کے لیے اس معاشرے میں کوئی اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

میں جب چھوٹا تھا تو منفی کرداروں اور مجرموں کے بارے میں یہی رائے رکھتا تھا کہ ایسے منفی کردار صرف فلموں میں ہوتے ہیں۔ ولن کی ایجاد فلموں کو ہٹ کرانے کے لیے کی گئی وگرنہ ایسے ولن ہمارے آس پاس تو کہیں نظر نہیں آتے۔ سب اتنے اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کہ معاشرے کے ولن، فلمی ولنوں کی طرح گدھے نہیں ہوتے بہت شاطر ہوتے ہیں۔ نفسیات سے شد بد ہوئی تو اسی معاشرے میں ہیرو ڈھونڈنے نکل پڑے کہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ آ رہا تھا تو خال خال۔

زینب اور ایمان فاطمہ کے نوحے نہیں لکھے جاسکتے۔ میں نے ہاتھ اٹھا دیے ہیں۔ یاد پڑتا ہے ایدھی صاحب کی وفات پر پاکستانی پرچم سرنگوں ہوا تھا۔ خود آج ایدھی صاحب سے جا کر پوچھیے کہ صاحب ایمان فاطمہ اور زینب جیسے سیکڑوں بچوں کے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے، ریاست کو آپ کی وفات پر علامتی حساسیت دکھانی چاہیے یا ان بچوں پر جو ظلم ہوا ہے اس پر سر میں مٹی ڈالنی چاہیے۔؟ ایدھی صاحب کا جواب ہی میرا جواب ہو گا۔

شاید آپ کو زینب کے قاتلوں کی نشانیاں پڑھ کر حیرانی ہو۔ آپ میں سے کچھ یقین بھی نہ کر سکیں لیکن میرا آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے کیونکہ ان باتوں کو ہضم کرنے کے لیے ہزار متغیرات اہم ہیں، ہو سکتا ہے آپ عمر کے اس ابتدائی حصے میں ہوں یا ریاست کے پڑھائے اسباق کے زیر اثر ہوں۔ آپ سے گلہ نہیں لیکن ایک درخواست ہے کہ آنکھیں کھول کر دیکھتے جائیے۔ ان نشانیوں کو ذہن میں رکھ کر اور تعصبات کو شکست دینے کی کامیاب کوشش کے بعد شاید ہمارے اتفاق رائے کی راہ ہموار ہو سکے۔

ایمان فاطمہ زینب بیٹی کے قاتلوں کی 27 نشانیاں۔
نمبر 1: کہے گا۔ زینب اور ایمان فاطمہ کے ساتھ جو کچھ ہوا بہت ظلم ہے۔ بڑا گناہ ہے۔ لیکن اللہ کے کاموں میں کس کا دخل۔ اس کی مرضی اسی میں تھی۔

نمبر 2: کھانا کھا رہا ہے۔ پسند نہیں آ رہا۔ موڈ آف ہوگیا۔ بیوی کو کڑوی کسیلی سنائیں۔ بچوں کو ڈانٹنے کے چند بہانے تراشے۔ کھانا کھا چکا ہے۔ کھانے کے بعد کی دعا پڑھی۔ کہا اللہ تیرا شکر ہے تو نے رزق دیا ہم کسی قابل نہیں تھے۔

نمبر 3: کہے گا۔ ایسے واقعات دنیا میں کہاں نہیں ہوتے لیکن پاکستان میں ہو جائے تو اتنا شور مچایا جاتا ہے جیسے ان جرائم کا گڑھ یہی ملک ہے۔ بھئی یہ جرائم دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ پھر اپنی دلیل کے جواز کے لیے امریکہ اور یورپ کے من گھڑت اشاریے پیش کر دے گا۔

نمبر 4: نہ صرف کہے گا بلکہ یقین رکھے گا کہ دنیا کے 195 ممالک میں پاکستان وہ ملک ہے جو رمضان کی مبارک ساعتوں میں بنا اور اس کے قیام کے پیچھے کچھ روحانی اور آسمانی قوتیں براہ راست ملوث تھیں۔ اور یہ کہ یہ ملک قیامت تک کے لیے قائم دائم رہے گا کیونکہ اس کی حفاظت اور انتظامات یہی قوتیں کر رہیں ہیں۔

نمبر 5: اپنی بیس پچیس سالہ نوکری میں نظام کو حقیر سمجھے گا اور تہہ دل سے یقین رکھے گا کہ اگر اس کو موقع مل جائے اور بلا شرکت غیرے ساری طاقت حاصل ہو جائے تو وہ اس ملک کو ٹھیک کرنے کی صلاحیتیں رکھتا ہے۔

نمبر 6: کسی بھی حلقے میں مخالف سیاسی جماعت کے جیتنے پر یہ جملہ کہے گا۔ “ اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا یہاں جاہلیت کا راج ہے“

نمبر 7: کسی مخصوص مذہبی عمل کے بارے میں یہ یقین رکھے گا کہ اس عمل کو کرنے کے بعد سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں چاہے ان کی نوعیت کتنی ہی حساس کیوں نہ ہوا اور انسان ایک بچے کی مانند معصوم ہو جاتا ہے۔

نمبر 8: ایسا ہر مذہبی عمل جس سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں کے بارے میں یہ یقین بھی رکھے گا کہ اس کی تو فیق، اللہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے اور اسی کو عطا فرماتا ہے جس کے گناہ بخشنے کا ارادہ فرمائے۔

نمبر 9: ٹی وی دیکھتے ہوئے، ہاتھ میں موبائل پر فیس بک استعمال کرتے ہوئے، سامنے اپنے بچے کو کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے دیکھ رہا ہو گا اور کہے گا، جب تک اس دھرتی پر یہود و ہنود و نصاریٰ موجود ہیں مسلمانوں کے اچھے دن نہیں آ سکتے۔

نمبر 10: یورپ اور امریکہ میں وقت گزارے گا۔ وہاں دھوکے سے شادی کر کے شہریت حاصل کرے گا اور اپنی بیٹیوں کو جوان ہوتے دیکھ کر حواس باختہ ہو جائے گا اور بیٹیوں کو وطن واپس بھیجنے کی کوشش کرے گا۔

نمبر 11: کہے گا یورپ میں بہترین نظام ہے لیکن انہوں نے یہ نظام اسلام سے حاصل کیا ہے۔ اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل کر کے آج وہ کہاں پہنچ گئے ہیں اور ہم نے ان تعلیمات میں غفلت برتی جس کی وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔

نمبر 12: موسیقی سنے گا۔ دل بہلائے گا لیکن موسیقی والوں کے بارے میں تحقیر آمیز جملے کہے گا۔ ان کی عاقبت خراب ہونے کے بارے میں دل سے یقین رکھے گا۔

نمبر 13: جب دیکھے گا کہ اتھارٹی(پولیس، والد) نہیں دیکھ رہی تو قانون توڑے گا۔ قانون کا اتباع اتھارٹی کے ڈر سے کرے گا نہ کے ہم دلی کے باعث۔

نمبر 14: مذہبی اعمال و احکام کے بارے میں دیو مالائیت لیے خیالات رکھے گا۔

نمبر 15: جہیز کو غلط کہے گا لیکن اپنی شادی پر سسرال کو ایک فہرست تھما دے گا یا اپنی بیٹی کی شادی پر علی الاعلان مہنگی گاڑی جہیز میں دے گا۔ دوسروں کی شادی پر پٹاخوں کو ناگواریت سے دیکھے خود اپنی باری پر خواہش کرے گا کہ توپوں سے گولہ باری کرے

نمبر 16: خود جہاں محبت کی شادی کرنا چاہے گا اس خاندان کے بارے میں یہ گمان رکھے گا کہ ان کو خوش دلی سے رشتہ دینا چاہیے بلکہ ان کو اس بات پر نازاں ہونا چاہیے کہ میں ان کے ہاں شادی کر رہا ہوں لیکن اپنی بیٹی کہیں اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہے تو آسمان سر پر اٹھا لے گا۔

نمبر 17: سائنس کی کامیابیوں کو مذہبی صحائف سے ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔ سائنس کی کسی واضح کامیابی جس کی دلیل کو صحیفے سے برآمد نہ کر سکنے کی صور ت میں بوتھی ریت میں گھسا لے گا لیکن اگر اس کامیابی کے حوالے سے غیر متعلقہ ہلکا سا اشارہ بھی پائے تو کاں کاں کر کے آسمان سر پر اٹھا لے گا۔

نمبر 18: دس پیش گوئیاں کرے گا۔ کسی ایک جزوی پیش گوئی کی کامیابی پر اس کو اپنی ذہانت کی دلیل بنا کر لائے گا باقی ساڑھے 9 پیشگوئیوں کا ذکر بھی نہیں کرے جو غلط ثابت ہوئیں۔

نمبر 19: اپنے خاندان کی عورتوں کو قابل احترام اور قابل عزت جانے گا اور یقین رکھے گا کہ ساری انسانیت کو ان خواتین کی عزت کرنی چاہیے۔ خود گلی کے نکڑ میں کھڑا ہو کر تاڑا تاڑی کرے گا۔

نمبر 20: علم کے حوالے سے یہ یقین رکھے گا کہ علم صرف دینی ہے۔ انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد عقیدے کی درستگی ہے اور ساری زندگی دوسروں کے عقیدے کو درست کرنے میں صرف کر دینی چاہیے ( اپنا عقیدے کو درستگی کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو آفاقی ہے اور درست ہے)

نمبر 21: اگر کسی مقام پر اپنی بہن کو سڑک پر جاتا دیکھے اور کچھ افراد کو دیکھے جو اس کو غور سے دیکھ رہے ہوں تو اس کا دل چاہے کہ ان کی آنکھیں نکال دے۔ تھوڑی دیر بعد خود اس مقام سے تھوڑا ہٹ کر دوسروں کی بہنوں کے جسموں کے دلاآویز خطوط پر عش عش کر رہا ہوگا۔

نمبر 22: اپنے خاندان کی عورتوں سے ہٹ کر باقی تمام عورتوں کا تعارف اس کے نزدیک جنسی تجسیم کا ہو۔

نمبر 23: کبھی عورت کو مرد کی پسلی سے زیادہ حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرے کبھی اس کا مقام مرد کے جوتوں کے آس پاس متعین کرے، کبھی عورتوں کو زیادہ گناہ گار ہونے پر جہنم بھرنے کی بات کرے۔ گناہ گار عورت کی تعریف یہ ہو کہ ہر وہ عورت جو بغیر نکاح کے جنسی تعلق قائم کرے۔ لیکن جو عورت خود اس سے جنسی تعلق قائم کرے وہ محبوبہ ٹھہرے اور تعلق ٹوٹنے پر یہ گماں رکھے کہ شیطان کا بہکاوا تھا۔ اللہ معاف کرنے والا ہے ہم کمزور انسان ہیں۔

نمبر 24: عورت کو سب سے بڑی آزمائش قرار دے۔ کہے کہ یہ عورت ہے جو مرد کو گناہ کی جانب راغب کرتی ہے۔

نمبر 25: اپنے ہر گناہ، ہر کمی، ہر جرم کو من جانب شیطان قرار دے۔ شیطان کے بارے میں یہ گمان رکھے کہ انسان کو بہکا دیتا ہے وگرنہ انسان تو بہت معصوم ہے۔ انسان خود سے کوئی جرم نہیں کرتا۔ شیطان کے بہکاوے میں آکر کسی جرم کے سرزد ہونے کے بعد صدق دل سے معافی مانگ لینی چاہیے تو گناہ دھل جاتے ہیں۔

نمبر26: کسی گناہ کی چبھن ہونے پرا یسی روایات کا سہارا لے کہ۔ کسی نے نناوے قتل کیے اور مایوس ہوا کہ میں کیسے بخشا جاؤں گا اور پھر اس کو بخش دیا گیا اور وہ پکار اٹھا کہ آپ کی رحمت کےکوئی حدود و قیود نہیں۔ یہاں رحمت کا ذکر کرتے ہوئے ذہن میں عدل کی خلاف ورزی کو جگہ نہ دے۔ نہ ہی کوئی ایسی تحقیق کرنے کی کوشش کرے کہ۔ یہ کب ہوا؟ کہاں ہوا؟ کیسے ہوا؟ اپنے گناہ کے جواز کے لیے کمزور سے کمزور دلیل کی حتمیت کا دل سے قائل ہو۔

نمبر 27: انسانیت کے خلاف ہر قابل نفرت جرم کرنے والے کے خلاف ایک فتویٰ نما جملہ کہے گا۔ کہ کوئی مسلمان ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ ۔ اگر آپ ثابت کر دیں کہ یہ جرم ایک مسلمان نے ہی کیا ہے جو پچھلی بیس نسلوں سے مسلمان ہے اور یہ مسلمان نماز بھی پڑھتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ تو کہے گا۔ نماز پڑھنے اور مسلمان گھرانے میں پیدا ہو جانے سے انسان مسلمان تھوڑا ہو جاتا ہے
شاید یہ نشانیاں 27 سے کہیں بڑھ کرہوں لیکن خیال کا عمومی خدوخال کسی حد تک واضح ہو گیا۔

کالم کی دم: میں اپنے چچا کے ساتھ ہوٹل پر بیٹھا تھا۔ ایک شخص آیا جس نے اپنی بیٹی کو انتہائی سفاکی سے قتل کیا تھا۔ ہم نے منہ دوسری طرف کر لیا کہ اس سے ہاتھ نہ ملانا پڑے۔ ہم سے تھوڑی دور وہ چند افراد کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ چند ہی لمحوں بعد ہمارے کانوں میں اس کی آواز گونجی۔ “نہیں آپ نے ضرور آنا ہے ان عالم صاحب کی باتوں کی تاثیر ہی الگ ہے شریعت پر بہت کمال علم رکھتے ہیں“۔ میں نے اپنے چچا اور چچانے مجھے دیکھا۔ نظریں ملیں۔ اور خاموشی ہی خاموشی میں آنکھوں نے ایک دوسرے کو بہت کچھ کہہ ڈالا۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

عدالت عظمیٰ کا بابری مسجد کے حوالے سے تامل برانگیز فیصلہ اور ہندوستان کے مسلمان

تحریر: خیبر تحقیقاتی ٹیم جیسا کہ پہلے سے امید کی جا رہی تھی اور حالات …