جمعرات , 18 اکتوبر 2018

افریقہ میں ہونے والی خانہ جنگی میں اسرائیل ملوث ہے:یہودی ربی کے انکشافات

(ترجمہ:تسنیم خیالی)
شلومو افینر نامی ایک یہودی ربی نے نیوز ون نامی ویب سائٹ پر اپنے ایک کالم میں انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل براعظم افریقہ کے بہت سے ممالک کو ہتھیار فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں جنگجوؤں کو جنگی تربیت بھی دیتا ہے ،یوں خانہ جنگی کا شکار ان افریقی ممالک میں ہونے والی قتل و غارت گری ،خواتین کی آبروریزی اور لوگوں کی نقل مکانی میں اسرائیل ملوث ہے۔

دوسرے لفظوں میں براعظم افریقہ میں بہنے والے خون سے اسرائیلوں کے ہاتھ رنگے جاچکے ہیں اور وہ اس خون سے بری نہیں۔اپنے کالم میں افینز مزید کہتے ہیں کہ دنیا میں اس قسم کی رپورٹوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جن میں بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل افریقی ممالک میں ہونے والی خانہ جنگوں میں لڑنے والے دونوں اطراف کو اسلحہ فروخت کر رہے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ ان رپورٹوں میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسرائیل خانہ جنگی لڑںے والے جنگجوؤں کی تربیت بھی کر رہا ہے ،افینر کے مطابق اب تو یورپی دنیا کو اسرائیل کے اس کردار کا علم ہوچکا ہے اور دنیا کے مختلف ٹی وی چینلز بشمول اسرائیلی ٹی وی چینلز پر اس حوالے سے خبریں اور تجزیے آتے رہتے ہیں۔

افینر مزید کہتے ہیں کہ اسرائیل سے ہتھیار خریدنے والے ممالک کی فہرست بہت لمبی ہے اور اس فہرست میں آخری اضافہ جنوبی سوڈان اور میانمار کا تھا جہاں مسلمان اقلیت کے خلاف نسل کشی کی جارہی ہے ،جن ممالک کو اسرائیل ہتھیار فروخت کر رہا ہے ان ممالک میں سے بیشتر میں قتل عام ،آبروریزی ،چھوٹے اور نوملود بچوں کا قتل اور دیہات اور قصبوں کا جلاؤ گھیراؤ اور شہریوں کے گھروں کو نذر آتش کیا جارہا ہے۔
البتہ اس حوالے سے افینر کے مطابق اسرائیلی حکومت خاموش ہے اور رپورٹوں کو نظر انداز کررہی ہے ،حکومت کے علاوہ اسرائیلی سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔حالانکہ یہ معاملہ اب کوئی راز نہیں رہا اور شواہد بھرے پڑے ہیں۔

یہ بھی ہے کہ اسرائیل ان ممالک کو ہتھیار فروخت کرکے بڑے پیمانے پر مالی فوائد حاصل کر رہا ہے۔جس کی وجہ سے اسرائیلی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔تبھی تو اسرائیل ہتھیار فروخت کرنے والے دس بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

افینز کا آخر میں کہنا تھا کہ اقتصادی مفادات ہوں یا پھر سیاسی کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کسی بھی ملک میں ہونے والی خانہ جنگی میں مداخلت کرے اور اسے بڑھائے خواہ وہ اسرائیل ہی کیوں نہ ہو؟

افینر کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل صرف فلسطینیوں کا قاتل نہیں بلکہ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں کے عوام اسرائیلیوں کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں ،بے شک اسرائیلی فوجی ان ممالک میں موجود نہیں مگر ہتھیار تو اسرائیلی ضرور ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

’انتفاضہ الاقصیٰ‘ کے 18 سال، انقلاب کا سفر جاری!

فلسطین میں سنہ 2000ء میں غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز تسلط کے خلاف فلسطینی عوام ...