پیر , 23 اپریل 2018

بن سلمان سے جان چھڑانا اتنا آسان نہیں

(تسنیم خیالی)
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ نومبر کو جب بیسیوں سعودی شہزادوں ،کاروباری شخصیات اور موجودہ و سابقہ حکومتی عہدیداروں کو بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا تھا تو سبھی کو اس بات پر یقین تھا کہ یہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور گرفتاری کے پیچھے کچھ اور مقصد ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہوتا جارہا تھا کہ مقاصد میں سے ایک گرفتار افراد سے پیسے وصول کرنا ہے ،سادہ لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ بن سلمان نے امیر سعودی شخصیات کے خلاف سرکاری سطح پر اغوا برائے تاوان مہم چلائی۔

گرفتاریوں کے ایک ماہ گزرجانے کے بعد آہستہ آہستہ لوگوں کو آزد کرنا شروع کیا گیا،البتہ یہ آزادی مفت میں نہیں تھی ،آزاد ہونے والوں سے اربوں ڈالر ’’تاوان کی صورت میں وصول کیے گئے جو بن سلمان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئے ،مگر ابھی بن سلمان کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو ڈیل کرنے کیلئے تیار نہیں اور عدالت میں پیش ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں جن میں ارب پتی شہزادہ الولید بن طلال شامل ہے جن کا موقف یہی ہے کہ انہیں بلامعاضہ رہا کیا جائے یا پھر عدالت میں پیش کیا جائے۔

تاوان دے کر رہا ہونے والوں کے حوالے سے سبھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے پیسے دے کر بن سلمان سے جان چھڑائی اور آزاد ہوگئے ہیں،مگر ایسا ہرگز نہیں۔

باوثوق سعودی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق بن سلمان نے جن افراد کو پیسے لیکر آزاد کیا ہے اب ان کے پیروں میں ٹریکر نصب کرنے جارہے ہیں تاکہ ہمہ وقت ان کا تعاقب کیا جاسکے ۔

ذرائع کے مطابق یہ ایک قسم کی نظربندی ہوگی جس کے ذریعے بن سلمان کو ہر وقت اس بات کا علم ہوگا کہ رہا ہونے والے افراد کہاں اور کیا کررہے ہیں۔ان ٹریکرز سے اس بات کو حتمی بنایا جائے گا کہ رہا افراد ایسی کسی بھی جگہ نہیں جارہے جہاں ان کے جانے پر پابندی عائد ہے۔

ایک اور سرپرائز یہ بھی ہے کہ ممکن ہے کہ ان ٹریکرز کے ذریعے رہائی پانے والے افراد کی گفتگو بھی سنی جائے کہ کہیں وہ حکومت اور نظام کے خلاف کوئی سازش تو نہیں کر رہے ۔

ان انکشافات سے واضح ہوتا ہے کہ بن سلمان انتہائی چالاک اور ناقابل اعتماد شخص ہیں جس سے جان چھڑانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔بن سلمان اس وقت صرف اور صرف غنڈہ گردی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بلاشبہ ان کے مخالفین میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ان اقدامات سے سب سے زیادہ نقصان دراصل بن سلمان ہی کو حاصل ہوگا،کیونکہ آج نہیں تو کل وہ دن ضرور آئے گا جس میں بن سلمان کی طاقت میں کمی آئے گی تب بن سلمان کے ساتھ کیا ہوگا اس کا خیال کسی کو بھی نہیں ،خود بن سلمان کو بھی نہیں جو اس وقت طاقت کے نشے میں دھت ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان پر افغان سرحد کے پار سے حملہ: امن کیسے قائم ہو گا؟

پاکستان میں افغان سرحد کے پار سے نئے حملے کے باعث دونوں ممالک کے مابین ...