پیر , 23 اپریل 2018

میں بھی زینب ہوں!

(تحریر : سیدہ سائرہ بانو)

میں ایک عورت ہوں۔ اللہ نے مجھے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا ہے۔ ایک ماں بیٹی بہن اور بیوی کی حیثیت سے میرے دین نے مجھے قابلِ احترام قرار دیا ہے۔ مجھے دین اور ریاست کی طرف سے حقوق دیے گئے ہیں۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزاد شہری ہوں۔ ریاست اس بات کی ذمہ دار ہے کہ وہ میرے حقوق کی حفاظت کرے۔ میں گھر سے باہر اس احساس کے ساتھ نکلتی ہوں کہ میرے شہر کی گلیاں اور سڑکیں محفوظ ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے میری حفاظت کے لئے کمربستہ اور ہوشیار ہیں۔ اور اگر میرے ساتھ کوئی حادثہ یا سانحہ پیش آیا تو ریاست مجھے تحفظ اور انصاف فراہم کرے گی۔ لیکن افسوس کہ آج ایک حساس ترین موضوع پر لکھتے ہوئے مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ شاید اس ملک میں مجھ سے زیادہ غیر محفوظ اور کوئی شہری نہیں۔

مجھے لگتا ہے جیسے میں بھی زینب ہوں۔ میرے شہر کی گلیوں میں درندے دندنداتے پھر رہے ہیں اور ان کا جرم ریاست کے لئے قابلِ گرفت نہیں رہا۔ قانون نے اپنی آنکھیں پھوڑ ڈالی ہیں اور اس کے لئے مجرم کا مکروہ چہرہ قابلِ شناخت نہیں۔ یہ سچ ہے کہ جس معاشرے میں بے گناہ کی بجائے مجرم کو تحفظ فراہم کیا جائے وہاں جرائم کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ مجرموں کو شہ ملتی ہے اور وہ سرِ عام جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کے صوبہ پنجاب میں چند شدید نوعیت کے جرائم کا تناسب دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔ ان میں بچوں پر جنسی تشدد کا جرم سرِفہرست ہے۔ قصور شہر کی سات سالہ زینب اور اُس جیسی سینکڑوں بیٹیاں جنسی درندگی کا شکار ہونے کے بعد ابدی نیند سو چکی ہیں۔

چند ہفتے قبل پنجاب کے شہر اوکاڑہ کی ایک معصوم بچی کو جنسی تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ قصور شہر میں یہ جرم سالہاسال سے ہو رہا ہے۔ سن 2009 کے بعد سے اس کے تناسب میں اضافہ ہوا اور اب تک تین سو کے قریب جنسی تشدد کے کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اب میں یہ سوال نہیں کروں گی کہ ان کیسز میں ملوث مجرمین کو قرار واقعی سزا کیوں نہیں ملی۔ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ پنجاب کی پولیس سیاسی ہے۔ اس محکمہ میں نیچے سے لے کر اوپر تک کی ہر پوسٹ پر سیاستدان خریدے ہوئے افراد کو متعین کرتے ہیں۔ کس جرم کی ایف آئی آر کٹے گی اور کس کی نہیں۔ یہ سب ان کی مرضی سے ہوتا ہے۔ پنجاب کے محکمہ پولیس کی کارکردگی پر مزید کچھ لکھنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ بس ایک جملہ کہوں گی کہ وردی کا رنگ بدل دینے سے کرتوتوں کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔

غیر انسانی جرائم اور فرائض میں کوتاہی کی مذمت اپنی جگہ لیکن ہم میں سے بےحسی کی مذمت کوئی نہیں کرتا۔ ہم اپنے ارد گرد کے مسائل سے دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں۔ "میرا کام صرف شور مچانا ہے اور مسائل کا حل نکالنا صرف ریاست کا فرض ہے” والی سوچ نے ہمیں غیر ذمہ دار اور بےحس بنا دیا ہے۔ اخلاقی و معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وہ شہر کہ جس کی گلیوں میں جنسی درندگی کا کھیل ایک عرصہ سے جاری ہو وہاں سرِ عام ایک شخص کا کسی معصوم بچی کو نامعلوم مقام کی طرف لے کر جانا یقینا باعثِ تشویش ہے۔ مگر افسوس کہ ارد گرد کے لوگوں میں سے کسی نے بھی اس پہلو پر توجہ نہیں دی۔ شاید سب مطمئن تھے کہ وہ معصوم بچی ان کے اپنے گھر کی زینب نہیں تھی۔ اُن کی زینب محفوظ تھی لہذا انہیں اِس زینب سے کوئی سروکار نہ تھا۔

میں بحیثیت بیٹی اور بہن کے یہ یقین رکھتی ہوں کہ میرے والد اور بھائی میری بہت عزت کرتے ہیں اور وہ میرے اور اپنے رشتے کی حدود و قیود سے بخوبی آگاہ ہیں۔ لیکن میرے لئے یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ میرے گھر کے مرد دوسرے گھروں کی خواتین کا بھی اتنا ہی احترام کریں جتنا وہ اپنے گھر کی عورتوں کا کرتے ہیں۔ یہ ایک تربیتی نکتہ ہے جس پر ہم سب کو بہت زیادہ کام کرنا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بیٹوں کو اس بات کی تربیت دیں کہ وہ خواتین کا احترام کریں اور اپنی بیٹیوں کو سکھائیں کہ وہ مَردوں سے محتاط رہیں۔ انسان کی پہلی تربیت گاہ اس کا گھر ہوتی ہے۔ والدین کو اپنے رشتے کے حوالے سے بچوں کے سامنے محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

دیہاتی علاقوں میں تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے اس تربیتی پہلو کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ بچوں کے ذہنی و نفسیاتی امراض کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس قسم کا پس منظر رکھنے والے بچے بھی بڑے ہو کر جنسی تشدد کرتے ہیں۔ ان جرائم کی روک تھام کے لئے ہمیں اپنا اخلاقی فریضہ ادا کرنا ہوگا۔ مناسب طریقہ کار کے ذریعہ بچوں کی جنسی تشدد کے حوالے سے تربیت کی جانی چاہیے۔ بچوں کو اس بات کا ضرور شعور دیں کہ وہ کسی اجنبی کی باتوں میں نہ آئیں۔ بچوں کے والدین یا سرپرستوں کو بھی ان کی نگرانی سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ مجموعی طور پر ریاست شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے لیکن امن و سکون کے قیام میں شہریوں کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ اپنے حق کے لئے آواز ضرور اٹھائیے لیکن اپنی ذمہ داریوں کو فراموش مت کیجئے۔ میں بھی زینب ہوں۔ آپ کی بیٹی اور بہن ہوں۔ میری حفاظت کرنا آپ کے ذمہ ہے۔ میرے حق میں آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ میری حفاظت بھی کیجئے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر میزائل مارتے ہوئے امریکیوں اور یورپیوں کی گھبراہٹ

محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہو تو کسی بھی فوجی طاقت پر بھروسہ نہیں کیا ...