پیر , 23 اپریل 2018

دہشت گردی کے سوال پر چین کا تعمیری مؤقف

سید مجاہد علی
چین نے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر الزام عائد کرنے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور دنیا کا ہر ملک کسی نہ کسی طرح اس مسئلہ کا سامنا کررہا ہے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کے ذریعے ان عناصر سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا۔ چین کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ امریکہ مسلسل پاکستان کے خلاف یہ الزام عائد کررہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ مائیک پومپیو نے ایک انٹرویو میں یہ الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے ان عناصر کے خلاف کارروائی کی تو ہم بھی پاکستانیوں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے ورنہ امریکہ کی حفاظت کے لئے مناسب اقدام کئے جائیں گے۔ امریکی لیڈروں کے بیانات امریکی قیادت کی بد حواسی اور پاکستان کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان الزام تراشی کے اس سنگین ماحول میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے نہایت معقول اور متوازن بات کی ہے۔ امریکی لیڈر بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں لیکن وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عذر کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ 2003 میں کسی مناسب ثبوت کے بغیر جھوٹے پروپیگنڈا کی بنیاد پر عراق کے صدر پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ ان کے پاس ہلاکت خیز ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور وہ دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں۔ بعد میں یہ الزامات غلط ثابت ہوئے۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی حکومت کا تختہ ضرور الٹ دیا لیکن اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں ہلاکت، تباہ کاری اور دہشت کے فروغ کے ایک لامتناہی سلسلہ کا آغاز بھی کیا۔ امریکی مفاد کی اسی جنگ کی وجہ سے داعش جیسا دہشت گرد گروہ طاقتور ہؤا۔ اب یہ معلومات تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ امریکہ اور اس کے عرب حلیف ملکوں نے داعش اور اس قسم کے گروہوں کو مستحکم کرنے کے لئے کردار ادا کیا تاکہ اس خطہ میں ایران کا اثر و رسوخ کم کیا جاسکے ۔

شام میں سات برس سے جاری خانہ جنگی اور اس کے تناظر میں دہشت گردی کے فروغ کو عالمی طاقتوں کے مفادات کی لڑائی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اگر یہ سب ملک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی پالیسی سے گریز کرتے ہوئے صرف انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرتے تو شر پسند عناصر کا قلع قمع کیا جاسکتا تھا۔ لیکن امریکہ اور دیگر ملکوں کی مفاد پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے پورا مشرق وسطیٰ خانہ جنگی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور فی الوقت اس کے خاتمہ کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔ اسی طرح امریکی سی آئی اے کے سربراہ کا یہ بیان بھی گمراہ کن ہے کہ پاکستان نے اگر امریکی خواہشات کے مطابق فوجی کارروائی نہ کی تو امریکہ خود اپنے شہریوں کی حفاظت کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے امریکہ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی طالبان نے کبھی امریکہ یا دیگر مغربی اہداف پر حملہ کی بات کی ہے۔ وہ صرف اپنے ملک میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ یہ وہی جنگ ہے جو ستر اور اسی کی دہائی میں سویٹ یونین کے خلاف لڑی گئی تھی اور امریکہ نے بڑھ چڑھ کر مجاہدین کا ساتھ دیا تھا۔ اسی جنگ کے شکم سے طالبان پیدا ہوئے جن کو شکست دینے کے لئے گزشتہ سترہ برس سے جنگ کی جارہی ہے اور اب پاکستان کو اس جنگ میں جھونکنے کے لئے دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے۔چینی وزارت خاجہ کے ترجمان لو کانگ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں ایک دوسرے پر انگشت نمائی سود مند نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس حوالے سے قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں ۔ ان کا اعتراف کیا جانا ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنانے کے لئے الزام تراشی کی بجائے تعاون اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کے رویہ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ چین نے یکم جنوری کو صدر ٹرمپ کے پاکستان دشمن ٹویٹ کے بعد بھی پاکستان کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ امریکہ کی الزام تراشی بلا جواز ہے۔ امریکی صدر نے اس ٹویٹ میں پاکستان پر جھوٹ بولنے اور امریکی لیڈروں کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ پندرہ برس میں 33 ارب ڈالر امداد وصول کرنے کے باوجود پاکستان ان عناصر کو پناہ دیتا ہے جو افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کرتے ہیں۔ بعد میں سامنے آنے والی خبروں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ دراصل پاکستانی فوج کو افغان طالبان کے خلاف ایک طویل جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے تاکہ صدر ٹرمپ افغانستان میں کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرسکیں۔
امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف عسکری اقدامات کے بہت کم آپشن ہیں۔ اسی طرح وہ تن تنہا افغانستان میں طالبان کا مقابلہ کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ اس لئے پاکستان پر معاشی، سفارتی اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان نے اگرچہ گزشتہ اگست میں ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بعد اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو امریکی امداد کی ضرورت نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف اس کی خدمات اور قربانیوں کا احترام کیا جائے۔ تاہم امریکہ کے تازہ تر ین دباؤ کے بعد ملک کے سیاسی رہنماؤں نے تو امریکی امداد کو غیر اہم قرار دیا ہے اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ شراکت اور رفاقت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن پاکستانی فوج اور سفارتی ذرائع مسلسل امریکیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان سے افغان جنگ میں براہ راست شرکت کے حوالے سے ’مہلت ‘ مانگنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عسکری امداد پر پابندی کے بعد پاک فوج کے کسی ترجمان نے یہ نہیں کہا کہ اگر امریکہ پاکستانی فوج کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کرتا تو وہ خود ہی یہ امداد وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ تذبذب کا یہ رویہ امریکی قیادت کو یہ باور کروا رہا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی لئے امریکی وزارت دفاع نے آج ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرنے کا واضح ہدف دیا گیا ہے۔ اگر پاکستان یہ کام کرے گا تو معطل امداد بحال کردی جائے گی۔
اب دیکھنا ہے کہ پاکستان امریکی دباؤ قبول کرتا ہے یا چین کی طرح واضح اور دو ٹوک پالیسی اختیار کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لئے پہلے انگشت نمائی اور الزام تراشی کا سلسلہ بند کیا جائے ۔ پھر مل کر اس کے خلاف کامیابی کی ایسی منصوبہ بندی کرلی جائے جو یکساں طور سے فریقین کی ضرورتوں کو پورا کرسکے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر میزائل مارتے ہوئے امریکیوں اور یورپیوں کی گھبراہٹ

محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہو تو کسی بھی فوجی طاقت پر بھروسہ نہیں کیا ...