جمعرات , 19 جولائی 2018

’’یار کی یاری ‘‘ یا ’’غدار سے یاری؟‘‘

محمد ریاض علیمی
پاک امریکا تعلقات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد پاکستان اور امریکا کے باقاعدہ تعلقات استوار ہوئے۔ یہ تعلقات مختلف نشیب و فراز سے گزرتے رہے۔ ۱۹۶۰ء سے پہلے تک پاک امریکا تعلقات پھر بھی بہتر تھے کیونکہ امریکا نے پاکستان کی نومولود ریاست کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خواب دیکھ رکھے تھے۔ جب پاکستان نے چین سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو امریکا کو یہ نا گوار گزرا۔ اس دوستی کے بعدپاک امریکا تعلقات میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں۔ پاکستان نے ہر وقت امریکا کو اپنا خیر خواہ سمجھا لیکن امریکا نے اپنی ذات سے کبھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ کبھی امریکا نے اپنے مفاد کی خاطرپاکستان کو آسمانوں کی سیر کراتے ہوئے اوجِ ثریا تک پہنچادیا اور کبھی وہاں سے زمین پر دے مارا۔ امریکا نے پاکستان کا تعارف ایک دہشت گرد مددگار ریاست کے حوالے سے کروایا۔

پاک-امریکا تعلقات ہمیشہ عجیب و غریب نوعیت کے رہے ہیں۔ بظاہر امریکا پاکستان کا خیر خواہ ہونے کا دعوے دار ہے لیکن حقیقتاً پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو نقصان پہنچانے والاثابت ہوا ہے۔ امریکا نے پاکستان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اور ہم اس کے آلۂ کاربن کر استعمال ہوتے رہے۔ پاکستان نے امریکا کو خوش کرنے کے کیا کیا جتن نہیں کیے۔ پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا۔ پاکستان نے امریکا کی خوشنودی کے لیے دو پاکستانیوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کو راتوں رات چھوڑدیا۔ پاکستان نے عافیہ صدیقی کے متعلق امریکا سے کوئی بات نہیں کی کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے۔پاکستان نے اپنی صلاحیتیں امریکا کی رضا مندی حاصل کرنے میں صرف کی ہیں لیکن امریکا نے کسی بھی پلیٹ فارم سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اسامہ بن لادن کے معاملہ میں بھی پاکستا ن کو مورد الزام ٹھہراگیا۔ جب پاکستان نے ایٹمی میدان میں کامیابی حاصل کرنا شروع کی تو امریکا کو یہ بھی ناگوار گزرا۔ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو امریکا کی طر ف سے پاکستان پر مختلف پابندیاں عائد کردی گئیں۔ اسی طرح نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا جس کے باعث پاک امریکا تعلقات مزید خراب ہونا شروع ہوگئے۔ امریکا نے ہمیشہ اپنی خصلت دکھاتے ہوئے اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان کے سر دھرا اور اپنی کوتاہیوں کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالتا رہا ہے۔

اگر پاک امریکا تعلقات کی مختصر تاریخ کے تناظر میں ٹرمپ کے حالیہ بیان کا جائزہ لیا جائے جس میں اس نے نئے سال کی پہلی صبح پاکستان کی وفاداریوں کو فراموش کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو 15سال میں 33ارب ڈالرز کی امداد دی گئی لیکن پاکستان نے اس امریکی امداد کے جواب میں امریکا کودھوکہ دیا۔ دہشت گردوں کے خلاف افغانستان میں امریکی جنگ کے ان 15سالوں کے دوران پاکستان نے امریکا سے بہت کم تعاون کیا بلکہ جن دہشت گردوں کو امریکا افغانستان میں تلاش کرتا رہا انہیں پاکستان نے اپنے ہاں پناہ گاہیں فراہم کیں۔ اس ٹوئٹ کے بعد پاکستان کی طرف سے فوری طور پر کوئی رد عمل یا بیان سامنے نہیں آیا۔ اس موقع پر پاکستان کا دفاع چین نے کیا۔ لیکن پاکستان کے نام ’’نہاد غیرت مند ‘‘حکمرانوں نے ڈرتے ہوئے چار دن کے بعد گھسے پٹے جوابات دیے۔ ایک جواب یہ دیا گیا کہ ٹرمپ کا ٹوئٹ بہت افسوسناک اور ہماری عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اورہمارے قومی وقار کے منافی ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان ہماری شناخت پر طمانچہ ہے۔ ہمیں اس ٹوئٹ کا بہت سوچ سمجھ کر خوداری، دلیری اورسمجھداری کے سا تھ جواب دینا ہے۔ اسی طرح وزیر دفاع کی جانب سے اس ٹوئٹ کا دفاع اس طرح کیا گیا کہ پاکستان نے امریکا کو گزشتہ سولہ سالوں میں القاعدہ کے خلاف آپریشن کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود اور ائیر بیسز دیے لیکن اس کے بدلے میں پاکستان کو امریکا سے صرف بے اعتمادی ملی۔ اس کے علاوہ اور بھی رسمی بیانات دیے گئے۔ صرف پاک آرمی نے امریکا کو منہ توڑ جواب دیا کہ ہمیں امریکا سے کسی بھی مالی یا عسکری امداد کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اعلیٰ حکام میں سے کسی نے ڈنکے کی چوٹ پر جواب دینے کی ہمت نہیں کی۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے ’’غیر ت مند ‘‘ حکمرانوں کی غیرت کا جنازہ پہلے ہی نکلا ہوا ہے۔ ہمارے حکمرانوں میں امریکا کو جواب دینے کی ہمت نہیں ہے۔ ہمارے حکمران صرف رسمی بیان بازی کرسکتے ہیں۔ وہ صرف اجلاس طلب کرسکتے ہیں اور کمیٹیاں بناسکتے ہیں۔ اس سے آگے ان کی اوقات نہیں ہے کیونکہ حکمران طبقہ کی اکثریت امریکا کی غلام ہے۔ اس لیے امریکا کے در کی چوکھٹ پر پلنے اور بڑھنے والے اسے جواب دینے کی ہمت کیونکر کریں گے۔

پاکستان نے اپنی سرزمین میں امریکا کو جگہ دی کہ وہ پاک سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے افغانستا ن میں حملے کرے اور دہشت گردوں کا صفایا کرے اور وہاں امن قائم کرے۔ پاکستان نے امریکا کا مکمل ساتھ دیا، اسے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی۔ امریکا نے اس کے احسان میں پاکستان کو ہی دہشت گرد ملک کہہ دیا۔

امریکا کی یہ احسان فراموشی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد پاکستان کے متعلق یہی راگ الاپتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کسی بھی ملک کی مدد اس وقت تک کرتا ہے جب تک اسے مفاد نظر آتے ہیں مگر جونہی اس کے مفاد پورے ہوجاتے ہیں تو وہ اس احسان مند قوم کا غیر انسانی طریقے سے استحصال شروع کردیتا ہے۔ حالانکہ امریکا خود کو دنیا میں امن کے قیام کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہاں انسانوں کی وقعت اور قدرو قیمت جانوروں سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ امریکا جب کسی ملک پر حملہ کرتا ہے اسے بے دردی سے نیست و نابود کردیتا ہے۔ وہاں کے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی نہیں چھوڑتا۔ عراق، شام، مصر، لیبیا اور فلسطین وغیرہ میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہورہاہے وہ سب امریکا کی نام نہاد امن کی ٹھیکیداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

دوسروں کو دہشت گرد قرار دینے والا خود امریکا سب سے بڑا دہشت گرد ثابت ہورہا ہے۔ امن قائم کرنے کی آڑ میں جو جنگ امریکا کررہاہے ہمارے ’’دانشور ‘‘ لوگ اس کی حمایت کرتے کرتے نہیں تھکتے۔ ایک ایٹمی اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہم نے کبھی مسلمان ممالک پر ہونے والے ظلم کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھائی؟ کیا کبھی ہم نے مظلوم مسلمان ممالک کی مدد کی؟ ہم صرف امریکا کے یہود و نصاریٰ، اسرائیل اور غیر مسلم ممالک کی حمایت کرتے رہے اور انہیں خوش کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔ جس کا نتیجہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ایک ملک ہماری وفاداریوں سے خوش نہیں ہوتا، آئے دن وہ ہماری وفاداریوں کو جوتے کی نوک پر ٹھکراتے ہوئے ہم پر الزامات عائد کردیتا ہے تو پھر ہم ان سے وفاداری کیوں کریں؟ جب امریکی قوم اور حکمران کسی طور پر خوش نہیں ہوتے تو ہم انہیں خوش کرنے کی کوشش کیوں کریں؟ ہم ان کو خوش کرنے کے لیے جتنی بھی کوشش کرلیں یا انہیں اپنا گہرا دوست بنانے کی کوشش کرلیں حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کبھی بھی ہمارے خیر خواہ نہیں بن سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پہلے ہی فرمادیا تھا کہ یہودو نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ۔ تاریخ کے کسی بھی موڑ پر یہود نصاریٰ مسلمانوں کے خیر خواہ ثابت نہیں ہوئے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے دوست تو کیا ہم نے تو اسے اپنا آقا اور قائد بنایا ہوا ہے اور ہم اسی کے اشارے پر چل رہے ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یار نے ہم سے غداری نہیں کی بلکہ ہم نے غدار کو یار بنایا ہوا ہے۔ اس نازک صورتحال کے موقع پر مسلمانوں کوہوش اور عقل و خرد کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اقوام متحدہ کی کشمیر رپورٹ، بھارتی اعتراض مسترد

(عارف بہار) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر انٹونیو گوئٹرس نے کشمیر میں انسانی حقوق ...