جمعرات , 18 اکتوبر 2018

قومی یکجہتی ہی سلامتی کی ضمانت ہے

(کالم نگار | مخدوم محمد ذکی ایڈووکیٹ)

ہنری کیسنجر نے ٹھیک کہا تھا کہ امریکہ کا مخالف ہونا اتنا خطرناک نہیں جتنا امریکہ کا دوست ہونا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جن ممالک نے ہمیشہ امریکہ کی مخالفت کی ہے انہیں تو امریکہ کچھ کہہ نہیں سکا لیکن جن بدقسمت ممالک نے امریکہ سے دوستی کا دم بھرا وہ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے زیرعتاب ہی رہے اور اُن بدقسمت ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ کولڈ وار کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کی لگتی تھی۔ امریکہ تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا بلکہ سوویت یونین نے بے عزت کر کے امریکہ کو لائوس اور ویت نام سے نکالا۔ اب کچھ عرصہ سے امریکہ نے توپوں کا رخ شمالی کوریا کی جانب کر رکھا ہے۔ شمالی کوریا کو صفحہ ہستی سے مٹانے تک کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ مگر شاباش ہے اس عظیم ملک کی عظیم قیادت پر جس نے تمام امریکی بڑھکوں کو ’’ٹھینگا‘‘ دکھا کر خاموش کرادیا۔

افغانستان میں امریکہ مٹھی بھر طالبان سے 17 سالوں سے لڑ رہا ہے۔ 51 ممالک کی ڈیڑھ لاکھ نیٹو افواج نے بھی اپنا تمامتر زور لگا کر دیکھ لیا جبکہ طالبان کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ امریکیوں نے طالبان کے علاقوں میں دل کھول کر بمباری بھی کی ہے۔ تمام ’’بموں کی ماں‘‘ جیسے طاقتور ترین بم تک استعمال کئے۔ تورابورا کی پہاڑیوں کو بمباری کر کے ریزہ ریزہ کر ڈالا لیکن طالبان آج بھی اپنی پوزیشنوں پر موجود ہیں۔ افغانستان کا 40فیصد علاقہ آج بھی انکے قبضے میں ہے اور امریکہ آج بھی اسی طرح نامراد ہے جس طرح پہلے دن تھا۔ مستقبل میں بھی فتح کی کسی قسم کی امید نظر نہیں آتی جبکہ پاکستان 1948ء سے امریکہ کا دوست چلا آرہا ہے۔ امریکی دوستی کی وجہ سے سوویت یونین سے لڑنا پڑا۔ امریکہ کا فرنٹ لائن سٹیٹ اور نان نیٹو اتحادی بنا۔ امریکی جنگ اپنے گلے میں ڈال لی۔ 74 ہزار سے زائد بے گناہ عوام کی قربانیاں دیں۔ سوا کھرب ڈالر کا اپنا معاشی نقصان کر ڈالا اور آج ہمارا عظیم دوست امریکہ ہماری کوششوں اور ہماری قربانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے الٹا ہمیں مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ اپنی تمام بیوقوفیوں اور ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا ہے اور اب کھلی دھمکیوں سے بڑھ کر کھلی دشمنی پر اتر آیا ہے جبکہ امریکہ کو یہ بھی پتہ ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر امریکہ افغانستان میں قطعاً کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ان دھمکیوںکی پشت پر بھارت ہے جو ہمارا ازلی دشمن ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے امریکہ کے کندھوں پر سوار ہے۔
امریکی عہدیداروں کی طرف سے بار بار بیان آرہا ہے کہ ’’پاکستان اگر ہمارا ساتھ دے گا تو بہت فائدے میں رہیگا ورنہ بہت نقصان اٹھائیگا‘‘ امریکہبھارت کی خواہش پر جو کچھ ہم سے چاہتا ہے وہ تو ممکن نہیں۔ اسی لئے پاکستان نے ’’ڈومور‘‘ کے جواب میں ’’نومور‘‘ کہہ دیا ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ اپنی دھمکی کے دوسرے حصے یعنی ’’پاکستان نے اگر تعاون نہ کیا تو بہت نقصان اٹھائیگا‘‘ پر ہر صورت عمل کرنا چاہتا ہے۔ اب تک کی عالمی میڈیا میں آنیوالی خبروں کے مطابق پاکستان کیخلاف تین امریکی حواری امریکہ سے اتحاد کر چکے ہیں اور یہ متحدہ طور پر کارروائی کرینگے۔ یہ ہیں بھارت، اسرائیل اور افغانستان۔ ان تینوں ممالک کے پاکستان کے خلاف مفادات ہیں۔ امریکہ پاکستان کو طالبان کیخلاف لڑا کر مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بلوچستان میں سی پیک امریکہ اور بھارت دونوں کو چبھ رہا ہے لہٰذا امریکہ اور بھارت ملکر بلوچستان اور کراچی میں دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں تاکہ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کیا جا سکے۔ اس تحریک کی ابتداء ’’آزاد بلوچستان بینرز‘‘ کی شکل میں جنیوا اور لندن سے ہوتی ہوئی واشنگٹن ڈی سی پہنچ چکی ہے اور اب دن بہ دن اس میں شدت لائی جاری ہے۔ امریکہ نے اپنی دھمکی میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان اپنے علاقے سے بھی محروم ہو سکتا ہے جبکہ اسرائیل، بھارت اور امریکہ تینوں کا مشترکہ مفاد ہے کہ پاکستان کو اسکے ایٹمی اثاثوں سے محروم کر دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے امریکہ اور اسرائیل نے امریکہ میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی شروع کر رکھی ہیں جس کی تفصیل میں نے اپنے ایک سابق کالم میں دی تھی۔ افغانستان اور کچھ پاکستانی پشتون رہنمائوں کی شدید خواہش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کی سرحد ختم کرکے اسے دریائے سندھ (اٹک) تک لایاجائے اور تمام پشتون علاقہ افغانستان کے ساتھ شامل ہو۔
ان حالات میں پاکستان کیخلاف خطرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی کو سخت خطرہ ہے۔ پاکستان کیخلاف پاکستان کے دشمنوں کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کے اندرونی حالات بھی اس وقت ٹھیک نہیں۔ یہ حالات خراب کرنے میں بھی شاید کسی نہ کسی دشمن کا ہاتھ ہو۔ تمام سیاسی پارٹیاں اس وقت اپنی اپنی ڈفلیاں بجا رہی ہیں اور یوں پاکستان کے خلاف خطرات میں اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔ آرمی چیف نے مناسب الفاظ میں دشمن کو بتا دیا ہے کہ ہم دوسروں کی جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لڑ سکتے۔ ساتھ ہی انہوں نے قوم سے متحد ہونے کی اپیل بھی کی ہے کیونکہ ہم صرف متحد ہو کر ہی دشمن سے لڑ سکتے ہیں اور قومی سلامتی کی حفاظت کر سکتے ہیں لہٰذا قومی اتحاد اسوقت ملکی سلامتی کے لئے اہم ترین ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عالمی تیل مافیا،استعماری دھمکیاں اور ہندوستان

(عادل فراز) عالمی بازار میں کچّے تیل کی دن دوگنی اور رات چوگنی قیمتوں میں ...