بدھ , 17 اکتوبر 2018

چیئرمین نادرا کی تقرری کیلئے عمل جاری رکھا جائے‘ ہائیکورٹ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین نادرا کی تقرری کے حتمی نوٹیفکیشن کو عدالتی فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے وفاق کو تقرری کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیئرمین نادرا کی تقرری کے اشتہار میں عمر کی حد سے متعلق درخواست پر وفاق اور نادرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ہے۔
مذکورہ درخواست ڈی جی نادرا طلحہ سعید نے دائر کی تھی جس میں موقف اپنایا گیا کہ وہ سال 2000ء سے نادرا میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور چیئرمین کے عہدے کے لئے مکمل طور پر کوالیفائی کرتے ہیں۔ پچھلی بار چیئرمین نادرا کی تقرری کے وقت سائل نے بھی درخواست دی تاہم انہیں چیئرمین نہیں لگایا گیا۔ اس مرتبہ چیئرمین نادرا کی تقرری کے لئے دئیے گئے اشتہار میں عمر کی حد 55 سال رکھی گئی ہے جبکہ نادرا آرڈیننس کے مطابق ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے اور چیئرمین کے عہدے کی معیاد تین سال ہے۔ اگر ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال ہے تو چیئرمین کی تعیناتی کے لئے دس سال کا فرق کیوں رکھا گیا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انہیں چیئرمین نادرا کے عہدے پر تعیناتی کے عمل سے باہر رکھنے کے لئے عمر کی حد 55 سال رکھی گئی ہے لہٰذا عمر کی حد کو بڑھایا جائے۔ جمعرات کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے درخواست گزار کے وکیل خرم ایم ہاشمی کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مذکورہ احکامات جاری کر دئیے۔

یہ بھی دیکھیں

(ن) لیگ کے دور میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ:حکومتی ذرائع

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم ...