منگل , 23 جنوری 2018

افغانستان میں امریکی پروجیکٹ "داعش” کا مقصد ایران اور پاکستان کو غیر مستحکم بنانا ہے

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں داعش کا اثر و رسوخ، معاشی بحران، قومی اختلافات، مغربی انٹیلی جنس بالخصوص سی آئی اے کی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
داعش کے ازبکستان، تاجکستان، قرقیزستان، پاکستان، عراق اور قزاقستان میں سرگرم افراد بھی اب افغانستان پہنچ گئے ہیں اور حزب اسلامی ازبکستان جو پاکستان میں بھی سرگرم تھی، داعش سے مل گئی ہے۔
داعش، افغانستان میں بھی شام اور عراق کی طرز پر جنگ کر رہی ہے، وہ مختلف افراد کو جذب کرنے کے لیے جہاد النکاح کو بھی رواج دے رہے ہیں۔
افغانستان میں داعش کے علاقوں کی شناخت کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ 2 محوروں میں آپریشن کر رہے ہیں:
1 مشرقی حصہ: جس میں صوبہ ننگرہار، خوست اور کونڑ و غیرہ شامل ہیں۔
2- شمال مغربی حصہ: جس میں صوبہ فاریاب اور جوزجان اور سرپل شامل ہیں۔
داعش افغانستان کے شمال میں بھی درزآب، قوش جوزجان، بلچراغ، فاریاب، شہر صیاد، سرپل میں سرگرم ہے اور علاقہ میرزاولنگ بھی اس علاقے کے نزدیک ہے۔
اگرچہ داعش افغانستان کے ان علاقوں میں سرگرم ہے، لیکن طالبان اور عوامی رضاکار فورس سے مقابلے کی وجہ سے داعش کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان کی موجودہ امریکہ نواز حکومت پر اپنے ہی نمائندگان پارلیمنٹ نے داعش کی حمایت اور اس گروہ کے دہشتگردوں کو امداد رسانی کا الزام عائد کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی داعش کی سرگرمیاں وقتاً فوقتاً زور پکڑتی جارہی ہیں جس کی مقتدر حلقوں کی جانب سے تصدیق بھی کی جاچکی ہے تاہم اس درندہ صفت گروہ کے دہشتگردوں کے عزائم خاک میں ملانے کیلئے علاقائی اتحاد کی ضرورت ہے جس کیلئے راہ ہموار ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ کیساتھ پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی آنے کے بعد اس ملک کے اکثر سیاسی و مذہبی رہنما اسلام آباد کا تہران کیساتھ اتحاد قائم کرنے پر تاکید کررہے ہیں تاہم ان قیاس آرائیوں کو حقیقت میں بدلنے کیلئے وقت درکار ہے

یہ بھی دیکھیں

امریکا: ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان ڈیل، حکومت کا ’شٹ ڈاؤن’ ختم

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومتی جماعت ریپبلکن اور اپوزیشن ڈیموکریٹس کے درمیان ڈیل کے بعد امریکی سینٹ ...