جمعہ , 20 جولائی 2018

ٹرمپ کی جنونیت۔۔۔آخر کب تک؟

ذہنی پسماندگی اور غلامی کب جنم لیتی ہے؟؟ سائنسدانوں کے ایک گروہ نے پانچ بندروں کو ایک پنجرے میں بند کیا۔ اس پنجرے میں انہوں نے ایک سیڑھی اور اس کے اوپر کچھ کیلے رکھے۔ تجربہ شروع ہوا۔ جب کوئی بندر سیڑھی پر چڑھنا شروع کرتا تو سائنسدان نیچے کھڑے ہوئے بندروں پر ٹھنڈا پانی برسانا شروع کر دیتے۔ جب ہر بار ایسا ہوا تو اب جیسے ہی کوئی بندر کیلوں کی لالچ میں اوپر جانے کی کوشش کرتا ، نیچے کھڑے ہوئے بندر اس کو سیڑھی پر چڑھنے نہ دیتے اور خوب مارتے ۔ کچھ دیر کے بعد کیلوں کے لالچ کے باوجود کوئی بھی بندر سیڑھی پر چڑھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ سائنسدانوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے ایک بندر کو بدل دیا جائے۔ پہلی چیز جو نئے آنے والے بندر نے کی وہ سیڑھی پر چڑھنا چاہتا تھا لیکن فوراََ ہی اسے دوسرے بندروں نے مارنا شروع کردیا ۔ کئی دفعہ پٹنے کے بعد نئے آنے والے بندر نے ہمیشہ کے لیے طے کرلیا کہ وہ سیڑھی پر نہیں چڑھے گا حالانکہ اسے معلوم نہیں کہ کیوں؟ سائنسدانوں نے ایک اور بندر تبدیل کیا اور اس کا بھی یہی حشر ہوا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس پہلے تبدیل ہونے والا بندر بھی اسے مارنے والوں میں شامل تھا ۔ اس کے بعد تیسرے بندر کو تبدیل کیا گیا اور اس کا بھی یہی حشر ( پٹائی ) ہوا۔ یہاں تک کہ سارے پرانے بندر نئے بندر سے تبدیل ہو گئے اور سب کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہا ۔ اب پنجرے میں صرف نئے بندر رہ گئے جس پر کبھی سائنسدانوں نے بارش نہیں برسائی لیکن پھر بھی وہ سیڑھی پر چڑھنے والے بندر کی پٹائی کرتے ۔ اگریہ ممکن ہوتا کہ بندروں سے پوچھا جائے کہ تم کیوں سیڑھی پر چڑھنے والے بندر کو مارتے ہو ، یقینا وہ جواب دیں گے کہ ہمیں نہیں معلوم ؟ ہم نے تو سب کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۔۔۔ احباب ۔۔! سوچنا یہ ہے کہ ہم بھی کہیں ایسا تو نہیں کر رہے ۔ کہیں ہم بند گلی میں تو نہیں پہنچ چکے جہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہ آ رہا ہو ۔

امریکہ سرکار نے اپنے مفادات کی تکمیل کی خاطر پوری مسلم امہ کو ایک عجیب دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان میں مسلکی بنیادوں پر اس طرح کا نفاق ڈالا ہے جو کبھی بھی مندمل نہ ہوسکے گا۔ اب وہ ایک دوسرے سے بات کرنا تو درکنار دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ جن ملکوں کی حکومتوں نے آلہ کار بننے سے انکار کیا ان پر حیلے بہانوں سے مختلف حربے اختیار کر کے ان کو نشانِ عبرت بنا دیا۔ ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا تو پہلے عراق کو ایران کے ساتھ ٹکرا دیا۔ پھر کویت پر قبضہ کے لیے اکسایا۔ جب کویت پر قبضہ ہو گیا تو عراق میں گھس گیا۔ ایران کے گرد گھیرے کا مسئلہ بھی حل ہو گیا اور اس عراق کے تیل پر بھی قبضہ کر لیا۔ حمایت کرنے والے عراقی اب بغلیں بجاتے پھر رہے ہیںاور ملک خون خون ہے۔ اسی طرح شام ، افغانستان ، مصر وغیرہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ مسلم امہ میں اس کے آلہ کار حکومتوں پر براجمان ہیں ۔ یہ چند ٹکوں کے عوض اپنے ملک کو گروی رکھ دیتے ہیں ۔ یہ بد دیانت لوگ ملکی دولت لوٹ کر اپنے اپنے کھاتوں میں منتقل کر دیتے ہیں اور ملک کو قرض کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ اگر کبھی ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو بھی جائے تو فوراََ اپنے پسندیدہ ملک فرار ہوجاتے ہیں۔ جس کا خمیازہ وہاں کے عوام کو صدیوں بھگتنا پڑتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ کے لیے ان ممالک سے خراج وصول کرتا رہتا ہے ا ور ان کے مفادات کو زک پہنچاتا رہتا ہے۔امریکہ جس کا دوست ہے اسے کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔
حال ہی میں امریکہ میںایک جنونی ٹرمپ عنان اقتدار پر براجمان ہواہے، یہ پاگل جنونی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ پوری مسلم امہ کو چیلنج کیا ہوا ہے ا ور امریکہ میں ان کے داخلے پر پابندی ہے۔ پاکستان کو آج کل فل ٹارگٹ کیا ہوا ہے اور ڈو مور کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔ نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ کچھ دن پہلے آئی ایس آئی نے جنوبی وزیرستان میں چھاپامار کاروائی کر کے ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کو پکڑا۔ حیرانگی اس وقت ہوئی جب ان کے (TTP) ساتھ امریکی سی آئی اے اہلکار بھی شامل تھے۔ ان کی حکمت عملی میں پاکستان کی معروف سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ یا بم دھماکے سے زندگیوں کا خاتمہ تھا۔ تمام پکڑے گئے لوگ نامعلوم مقام پر منتقل کر دیئے گئے۔ اب اصل گیم یہاں سے شروع ہوتی ہے ۔ امریکی خاص خاص نمائندگان کیپاکستان آمدورفت شروع ہوگئی ، صدر ٹرمپ کے روئیے میں عارضی طور پر نرمی آگئی تھی ۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلا، اس تمام خوشامد کا مقصد یہی تھا کہ پاکستان جنوبی وزیر ستان سے گرفتار امریکی سی آئی اے ایجنٹوں کو فوری طور پر امریکہ کو واپس کردے اورکسی قسم کی کوئی خبر اپنے میڈیا پر نشر نا کرے۔ جب ناکامی ہوئی تو پھر پاکستان پر الزامات کی بو چھاڑ کردی ۔ اربوں ڈالرز کی امداد کو لے کے بیٹھ گیا۔ کیا یہ امداد پاکستان کو گل چھرے اڑانے کے لیے دئیے گئے تھے؟ نہیں اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے دئیے گئے تھے۔ جب وہ مقاصد پورے ہوگئے تو آنکھیں پھیر لیں۔ حالانکہ اس ضمن پاکستان کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ مزید کتنا نقصان اٹھائیں؟ اس کے برعکس چین اور روس کا پاکستان پر دبائو ہے کہ ٹی ٹی پی کے مددگار ان امریکی ایجنٹوں کو منظر عام پر لایا جائے ، تاکہ عالمی برادری کو معلوم ہوسکے کہ جہاد کے نام پر پاکستان میں انارکی پھیلانے والی ٹی ٹی پی کو امریکی و بھارتی آشیر باد حاصل ہے۔ لیکن موجودہ حکومت میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ اتنا بڑا سٹیپ( Step )لے۔ بلکہ یہ حکومت تو ملک دشمنی میں دشمنوں سے بھی چار قدم آگے ہے۔ اب وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلم امہ متحد ہوجائے اور نئی صف بندی کرے۔ نئے دوست تلاش کیے جائیں۔ پاکستان سمیت پوری مسلم امہ بشمول اچھے دوست( چین ، روس ، جرمنی، شمالی کوریا) امریکہ کو خدا حافظ کہنا ہو گا۔ ہاں! جس دن امریکہ کو احساس ہوگیا کہ یہ سب متحد ہو گئے ہیں تو وہ الٹے پائوں دوڑ جائے گا۔اب مسلم امہ کو ہی کردار ادا کرنا ہوگا۔ تمام مسلکی اور فروعی مسائل سے چھٹکارا پانا ہوگا ۔ذہنی پسماندگی اور غلامی کے طوق کو گلے سے اتار پھینکنا ہو گااور پنجرے سے باہر آنا ہوگا ۔ انڈونیشیا سے لیکر مراکش تک مسلمان ملکوں کا ایک وسیع جال ہے۔ ویسے بھی نان مسلم ممالک کا وسیع حلقہ بھی امریکہ کے خلاف ہو چکا ہے۔
نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کی امت بنی نوع انسان میں وہ آخری امت ہے جو منصب ِ شہادت پر فائز کی گئی ہے۔ چنانچہ پوری انسانیت کی کامیابی کا انحصار اب اسی گروہ پر ہے۔ بیسویں صدی عیسوی کی آخری دہائی تک آتے آتے واضح طور پر محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ امت تاریخ انسانی کے اس مرحلے میں داخل ہو چکی تھی جس کی خبر دیتے ہوئے آنحضور ﷺ نے فرمایا تھا: عنقریب قومیں تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے بلاوہ دیں گی، جیسے بھوکے جانور کھانے پر ٹوٹ پڑنے کے لیے بلاوا دیتے ہیں۔( ابو دائود و بیہقی)۔ اس اندوہناک صورت حال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ جو دنیا کی وہ واحد گروہ ہے جسے ماضی ، حال اور مستقبل کاکافی علم ( ماکان وما ھوکائن)دیاگیا ۔ آج حیران اور ناواقف راہ بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ چودہ صدیاں بعد اب قیامت کے آثار ظاہر ہونے کی رفتار تیز تر ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے گویا کوئی ہار ٹوٹ جائے اور یکے بعد دیگرے دانے گرنے لگیں۔ ان حالات کا تقاضا تھا کہ قرآن و احادیث مبارکہ کی روشنی میں امت کی صورتِ حال کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا، موجودہ حالات کی تبدیلی کو صحیح زاویہ سے دیکھا جاتا اور آئندہ کے لیے خطوط کار کی نشاندہی کی جاتی تاکہ یہ امت اپنے فرض منصبی کو کماحقہ سر انجام دے کر پوری انسانیت کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔(بشکریہ نوائے وقت)

یہ بھی دیکھیں

نگرانوں کی جانبداریاں اور قائدؒ کی ہدایات

(ذوالفقار احمد چیمہ) پہلے بھی پنجاب اور سندھ کی نگران حکومتوں کو کوئی غیرجانبدارنہیں سمجھتا ...