منگل , 24 اپریل 2018

بھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کیساتھ بدسلوکی

بھارت سمیت دنیا بھر کی عدالتیں اور قوانین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی انسان کا جرم اس سے انسان ہونے کا شرف نہیں چھینتا، اسلئے اسکے جرم کی سزا دیتے ہوئے بھی اسکے چند بنیادی حقوق قائم رہتے ہیں لیکن اس امر میں بھی کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں کہ ہماری دنیا میں آج بھی جیلیںتشدد کی تجربہ گاہیں ہیںجہاں انسانوں کو نہایت برے حالات میںرکھا جا تا ہے۔ بھارت کی بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل سے آزاد ہونیوالے کشمیری قیدیوں کی دلخراش داستانیںانسانی حقوق اور جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہیں ۔ یہ سب کچھ اس ریاست میں ہو رہا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کی دعوے دارہے۔ بھارت کی تہاڑ جیل سمیت تمام جیلوں میں کشمیری قیدیوں کیساتھ کی جانیوالی بدسلوکی کوئی نئی بات نہیں۔جیل سے کشمیری قیدیوں کے خطوط اور مختلف ذرائع سے موصول ہونیوالی خبروںسے پتہ چلتاہے کہ کشمیری قیدی بھارت میں حراست کے دوران کس قدر ذہنی کرب اور جسمانی تکلیفوں سے گزرتے ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبردار کی حیثیت سے اقوامِ متحدہ نے جہاں عام انسانوں کے بنیادی حقوق کی تشریح کی ہے وہیں اس نے جیل کے قیدیوں کے بھی حقوق کا تعین کیا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اقوامِ متحدہ ان حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں قطعی طور پر ناکام ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر خاص طور پر اس سلسلے میں عالمی اداروں کی لاپروائی، غفلت اور بے حسی کا شکار نظر آتا ہے۔1955 میں اقوامِ متحدہ نے سیاسی قیدیوں کیساتھ جیل کے ا ندر سلوک کیلئے اصول مرتب کیئے ۔ اس کے 60 سال بعدیعنی 2015امیں ان اصول وضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے انہیں مزید بہتر بنایا گیا۔ دسمبر2015 میں اقوامِ متحدہ نے ایک تاریخی قرارداد کے ذریعے افریقہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما نیلسن منڈیلا کے نام سے منسوب ، جنہوں نے اپنی زندگی کے 27قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے، منڈیلا رولز (Mandela Rules) متعارف کرائے جسکے بعد اس امید کا اظہار کیا گیا کہ دنیا بھر میں جیلوں میں قید سیاسی قیدیوں کے حالات میں سدھار آئیگا۔اقوامِ متحدہ کے ان ترمیم شدہ اصولوں کے مطابق سیاسی قیدیوں کی عزت و وقار کا احترام لازمی ہے۔ بحیثیت انسان قیدیوں کیساتھ عزت و احترام کا سلوک کیا جائیگا اور ان کیساتھ تشدد، ظالمانہ غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک سے اجتناب کیا جائیگا۔ ریاست میں قیدیوں کی صحت کا برابری کی سطح پر خیال رکھا جائیگا اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ جیل کے نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر دی جانیوالی سزاؤں اور پابندیوںکے سلسلے میں بھی غیر انسانی سزاؤں اور پابندیوں سے اجتناب کیا جائیگا جیسے پینے کے پانی کی فراہمی کو روکنا۔ جیل کی انتظامیہ کو کہا گیا کہ وہ جیل میں ایسی فضا کے قیام کو یقینی بنائے جس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی نوبت ہی نہ آئے۔ اسی طرح قیدِ تنہائی کی سزا کو بھی مشروط کر دیا گیا ۔ زیرِ حراست ہونیوالی اموات اور تشدد کی تحقیقات کے سلسلے میں بھی قواعدوضوابط سخت کئے گئے اور جیل کی انتظامیہ کو اس سلسلے میں قیدیوں کے خاندان کو انکے حالات سے مکمل طور پر آگاہ رکھنے کا پابند کیا گیا ۔ جیل کی انتظامیہ کو ایسے افراد یا گروہوں کے تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات کرنے کیلئے کہا گیا جو کمزور ہوں یا جو اپنی حفاظت نہ کرسکتے ہوں یا جنہیں آسانی سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہو۔ 2012 کےUN Legal Aid Principles and Guidelines کے تحت زیرِ حراست افراد کواپنے دفاع کیلئے قانون تک رسائی کو یقینی بنایا گیا اور کہا گیا کہ قیدیوں کو دورانِ حراست ٹرائل سے پہلے بھی مکمل قانونی مدد حاصل کرنے کی سہولت دی جائے۔ قیدیوں کی شکایا ت اورجیل کے معائنہ کیلئے بھی دوہرا نظام متعارف کروانے کیلئے کہا گیا کہ جیل کے اندر خود احتسابی کا نظام ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد اداروں کو بھی تحقیقات کروائی جائیں اور یہ بھی کہ وہ اپنی تحقیقات کی رپورٹ بنائیں۔ علاوہ ازیںقیدیوں کو شکایات کے بعد ہر قسم کے خطرات اور دھمکیوں سے محفوظ رکھنے کے اقدامات بھی کیئے جائیں۔شکایات کی تحقیقات کرنیوالے آزاداداروں کے اختیارات بھی وسیع کیئے جائیں گے جنہیں اپنی تحریری رپورٹس کو شائع کرنے کی اجازت حاصل ہوگی۔ایک طرف تو یہ حقوق ہیں جن کا تقاضا اقوامِ متحدہ نے کیا ہے اور دوسری جانب کشمیری قیدی ہیںجنہیں انسان ہی تسلیم نہیں کیا گیا۔ ان تمام حقوق کا مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاسی قیدیوںکیساتھ روا رکھے جانیوالے سلوک کیساتھ موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہیں منڈیلا رولز کے تحت ملنے والے ہر حق سے محروم کر دیا جاتا ہے اور بھارتی افواج اور پولیس کی حراست میں آتے ہی ان کیساتھ غیر انسانی سلوک کی ابتداء ہو جاتی ہے۔ کشمیری قیدیوں کو مہینوں پر محیط تفتیشی عمل سے گزرنا پڑتا ہے جہاں ان پر انسانیت سوز ظلم کئے جاتے ہیں۔انہیں اپنے ناکردہ جرائم کو قبول کرنے کیلئے ہر قسم کی جسمانی اور ذہنی اذیت دی جاتی ہے۔ کشمیری قیدیوں کو عموماً اپنے تحفظ کیلئے قانونی مدد حاصل کرنے سے بھی محروم رکھا جاتاہے۔ کہیں جیل کے نظم و ضبط کے نام پر ، کہیں ریاست اور جیل کی سکیوریٹی کے نام پر کشمیری قیدیوں کو تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔International Commission of Jurists نے مقبوضہ کشمیر میں نافذ قوانین کو کالے قوانین قرار دیا ہے۔ان قوانین کے تحت کشمیریوں کو مسلسل قید میں رکھا جاتا ہے۔ بھارت کی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کو غیر معیاری خوراک دی جاتی ہے ، انہیں ناکافی طبی امداد میسّر ہوتی ہے حتیٰ کہ ان قیدیوں کو پہننے اور اوڑھنے کیلئے بھی ناکافی کپڑے دئیے جاتے ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ کشمیری قیدیوں سے ایسی اطلاعات بھی ملیں کہ دوران علاج انکے جسم سے ان کا ایک گردہ یا جسم کے اہم ا اعضاء چوری کر لئے گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارتی جیلوں میں کشمیری قیدیوں کیلئے انسانی حقوق کے نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور بھارت نے کشمیری قیدیوں کو کبھی انسان سمجھا ہی نہیں کہ انکے بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ بھارت کے انہی مظالم کی وجہ سے آج کشمیری یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ جب کسی مقبوضہ علاقے میں ایک استبدادی نظام کے تحت لوگوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہو، جہاں مقامی لوگوں کو کوئی حقوق حاصل نہ ہوں، حتیٰ کہ انہیں زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم کردیا جائے، جہاں ہر گزرتے دن کیساتھ لوگوں کی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہو، جہاں کسی فرد کو اپنی موت کے انتخاب کے سوا کوئی اختیار حاصل نہ ہو، جہاں قبضہ کرنیوالوں کی طرف سے مایوسی کے تحفے کے علاوہ کچھ نہ ملتا ہو، تو انکے پاس کھونے کیلئے کیا باقی رہ جاتا ہے؟ایسے لوگوں کی محرومی ہی ان کا حوصلہ بن جاتی ہے اور ایسا نظام جسکی بنیاد ہی انسانی استحصال اور غلامی پر رکھی گئی ہو اور جسکے تحت معصوم انسانوں کا مسلسل قتل کیا جارہا ہو، انہیں اندھا کیا جارہا ہو یا انہیں معذور بنایا جارہا ہو، جہاں خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہو، جہاںبیگناہ افراد کوکالے قوانین کے تحت جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر مسلسل قید اور حراست میں رکھا جاتا ہو، ایسا نظام قائم رہنے کا ہرگز مستحق نہیں۔(بشکریہ نوائے وقت)

یہ بھی دیکھیں

سرمایہ کاری کی آڑمیں توسیع پسندی کی صہیونی سازش!

قابض صہیونی ریاست ارض فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کے لیے ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال ...