منگل , 23 جنوری 2018

خون بشر کو مایۂ ارزاں مت جانئے!

(پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری)

6 دسمبر 2017 دنیائے اسلام کے لیے یوم سیاہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مسلمان فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف سالانہ ’’یوم القدس‘‘،مناتے ہیں۔اسلام دشمن اور غیر متوازن انسان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل نوازی میں یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دے کر مشرق وسطیٰ میں جنگ اور نفرت کے شعلوں کو ہوا دی ہے۔اگر اس مسئلہ کو صبر وتحمل اور امن و اماں کے نقطہ نظر سے طے نہ کیا گیا تو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ہے جو ایٹمی ہوگی اور بقول برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسیل دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔اس میں کوئی شک و شعبہ نہیں کہ یروشلم یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے نزدیک مقام مقدس ہے۔تاریخی طور پر یروشلم میں حضرت سلیمانؑ کا تعمیر کردہ معبد ہے جو قبلہ انبیائے بنی اسرائیل تھا۔فلسطین کا یہ شہر حضرت عیسٰیؑ کی جائے پیدائش اور مرکز تبلیغ تھا۔مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت لوطؑ نے عراق سے ہجرت کی اور فلسطین میں قیام پذیر ہوئے۔620ء میں پیغمبر اسلام حضرت جبرئیل ؑ کی معیت میں مکہ سے بیت المقدس تشریف لائے اور یہاں سے معراج آسمانی کا سفر شروع ہوا۔639ء میں حضرت عمرؓ کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت فلسطین پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا۔پہلی صلیبی جنگ میں یورپی عیسائیوں نے 70 ہزار مسلمانوں کو تہ تیغ کیا اور فلسطین پر قبضہ کرلیا۔1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضہ سے آزاد کرایا۔انگلستان اور امریکہ کی سازباز سے 1948ء میں یہودیوں نے ریاست اسرائیل کا علان کیا۔1967ء میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ میں اسرائیل نے امریکہ اور برطانیہ کے حمایت و امداد سے فلسطین اور ہمسایہ چند مسلمان ممالک کے علاقوں پر قبضہ کرلیا اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔اقوام متحدہ کی قرار داد اور اوسلو معاہدہ کے مطابق اسرائیل کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو واگزار کرنا ہوگا۔دو ریاستوں کے قیام پر اسرائیل نے اوسلو معاہدہ میں دستخط کیے ہیں۔امریکی صدر جمی کارٹر اور صدر بل کلنٹن نے کوشش کی کہ اسرائیل اور فلسطین پر امن رہ کے دو ریاستی حل کے فارمولہ کو عملی جامہ پہنائیں لیکن اسرائیل نے ہمیشہ وعدہ خلافی کی۔ریاستی دہشت گرد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس امریکی فیصلہ کو ’’تاریخی سنگ میل‘‘قرار دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی کشنر یہودی کی بیوی ہے جوکہ صیہونی ہے۔گویا صیہونیت ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر میں داخل ہوچکی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اسلام دشمنی کی بدولت یہودی لابی کی حمایت و امداد سے امریکہ کا صدر بنا ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ مسلمان ممالک نے یکسر امریکی صدر کے فیصلے کو رد کردیا ہے۔فلسطینی مظاہرے کررہے ہیں اور اسرائیلی ان پر گولیاں برسارہے ہیں ۔ اسلامی اتحاد کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک،روس اور چین کو ہمنوا بنایا جائے۔پوری دنیا مذہبی جنونیت کاشکار ہے۔شعائر اللہ کا احترام لازم مگر خون انسان کی توقیرسنگ و خشت کی توقیر سے برتر ہے۔انتہا پسندی باعث فساد ہے۔اعتدال پسندی ایک متوازن معاشرے کو جنم دیتی ہے۔تاریخ اسلاممیں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ صحابہ کرام ؓ نے کبھی رسولؐ کی بارگاہ میں ’’سجدہ تعظیمی‘‘ادا کیا ہو یا آپ کے پاؤں پر سر رکھا ہو یا پابوسی کی ہو۔وہ پیغمبر اسلامؐ پر جان نچھاور کرنے کو ہمہ وقت آمادہ رہتے تھے مگر جبہ سائی اور سجدہ ریزی صرف اور صرف بارگاہ پروردگار کے لئے مخصوص تھی اور آج تک ہے ۔گار ہے۔‘‘قرآن مجید نے لسانی،نسبی،حسبی،لونی ،قومی اور قبیلائی امتیازات کی یکسر نفی کردی۔شرافت و نجابت ،حکمت و فراست اور اعمال صالحہ کی بنیاد پر اتقاء کو وجہ عظمت ناپاک قرار دیتے ہیں۔ایک دوسرے کے ساتھ رسم وراہ اور شادی بیاہ سے گریزاں ہیں۔ہندومت توہین انسانیت کا مذہب ہے لیکن مسلمانون پر کیا عتاب و عذاب ہے یہ بھی فرقہ واریت اور قبیلوں میں تقسیم ہیں۔بقول اقبال …
فرقہ بندی ہے کہی اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنےکی یہی باتیں ہیں
صوفی اور سلفی کے درمیان راہ اعتدال یہ ہے کہ اولیاء اللہ عوام کا تزکیہ نفس کریں اور اصلاح معاشرہ کا کار پیمبری کریں۔خانقا ہی نظام میںاصلاحات کریں کیونکہ موجودہ خانقاہیت رجعت پرستی،سجادہ نشینی،سیاست بازی اور اوہام پرستی کاشکار ہوچکی ہے۔مشرکانہ حرکات سے مکمل اجتناب برتا جائے۔جبکہ سلفی مسلک والے انتہا پسندی،سخت گیری اور شدت پسندی سے گریز کریں۔توحید خالص اللہ کی بندگی کا نام ہے۔ولایت کی نفی توحید نہیں۔احترام رسالت توحید ہی کا حصہ ہے۔اولیاء اﷲ کا اور شعائر اللہ کا احترام حکم قرآن ہے۔اعتدال پسندی روح اسلام ہے۔لبنان میں حزب اللہ بنیان مرصوص کی صورت نصر اللہ کی زیر قیادت اسرائیل کو للکار رہی ہے جبکہ ترکی اور مصر نے اسرائیلی حکومت کو تسلیم کررکھا ہے۔امریکہ کی سرپرستی میں کچھ عرب ممالک بھی اسرائیل نوازی میں پیش پیش ہیں۔مسلمان علماء مسلکی اور فقہی مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔گلشن میں آگ لگی ہوئی ہے اور اہل گلشن کو شاخ نازک پر اپنے اپنے آشیاں کی فکر ہے۔عراق ایران جنگ اغیار کی سازش تھی۔آج پھر ایران اور سعودی عرب میں جنگ کرانے کیلئے امریکہ اور اسرائیل نے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔یمن میں ایران اور سعودی عرب کے مفادات کو ابھارا جارہا ہے۔او آئی سی کا متحرک ہونا بقائے ملت اسلامیہ کیلئے ضروری ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرکے اسرائیل نوازی اور اسلام دشمنی کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔اسرائیل غاصب اور ریاستی دہشت گردہے۔اقوام متحدہ کی 1949 کی قرار داد اور اوسلو معاہدہ کے تحت اسرائیل کو فلسطینی مقبوضہ علاقوں سے دست بردار ہونا ہےا ور دو ریاستوں کے وجود کو تسلیم کرنا ہے۔ریاست فلسطین اور ریاست اسرائیل،امریکہ نے بیت المقدس میں سفارت خانہ منتقل کرکے اقوام متحدہ کی قرار داد اور اوسلو معاہدہ سے انحراف کیا ہے۔یروشلم کو دارلحکومت بنانا اسرائیل کی بدمعاشی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی قانون شکنی کی بدترین مثال ہے۔ساری زمین کو مسجد یعنی سجدہ گاہ قرار دیا گیا۔لیکن اصطلاحی معنوں میں مسجد ایک مخصوص جگہ ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے اور اسے تقدس حاصل ہے ۔جس رخ چاہو منہ پھیر کر خدا کی عبدات کرو کیونکہ خدا ہرسمت موجود و جلوہ گر ہے لیکن مسلمان کو حرم کعبہ کی طرف سجدہ کرکے مرکزیت کی دعوت دی گئی۔وحدت و مرکزیت میں قوت بھی ہے اور اتحاد و اخوت بھی۔اسلام نے امن عالم کی بشارت دی اور قتل و غارت کی ممانعت کی لیکن کعبہ کو جائے امن قرار دیا ۔سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 67 میں ارشاد ہوا۔ ’’ہم نے حرم کعبہ کو جائے امن بنادیا‘‘۔حرم کو محترم و مقدس بنادیا گیا ۔حرم میں انسان کا خون بہانا ممنوع ہے۔یہ ایک استعارہ ہے۔دراصل ہر مقام پر انسان کا خون ناحق بہانا گناہ ہے۔قرآن مجید نے ایک شخص کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔جبکہ ایک انسان کے قتل کو قتل انسانیت قرار دیا ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے جب تکفیری مکتب فکر جو دوسرے کلمہ گو مسالک کا قتل کرتے ہیں اور ان کے نام کے ساتھ ’’قاری‘‘اور ’’حافظ‘‘لکھا ہوا ہوتا ہے۔یہ قرآن مجید کو پڑھتے تو ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔ عربی زبان میں ناظرہ برائے ثواب پڑھتے ہیں۔قرآن مجید کو بغیر تفہیم کے حفظ کرتے ہیں لیکن نہ ہی قرآن کی تفہیم ہے اور نہ ہی قرآن پر عمل کرتے ہیں۔امریکہ میں گورے اور کالے کے درمیان نفرت ہے۔چند برس پہلے تک امریکہ کے کئی ہوٹلوں کے باہر یہ لکھا جاتا تھا۔’’یہاں کتوں اور کالوں کا داخلہ ممنوع ہے‘‘۔رنگ کے تفاوت پرانسان کی توہین و تذلیل کی جاتی تھی۔برطانیہ میں انگریزی اور آئیریش کے درمیان لسانی تضادات و فسادات اسکائش اور انگریزون سے تنازعہ،کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے مناقشات۔بھارت میں ہندی اور اردو زبان کی رقابت۔سندھ اردو اور سندھی کا مقالیسہ،گویا رنگ و زبان کی مقاومت نے دنیا بھر میں صدیوں سے حقارت و کدورت کی آتش کو بھڑکا رکھا ہے۔دین امن و سلامی اسلام رنگ و زبان و حسب و نسب کی تفریق و تمیز کو باعث عناد و فساد نہیں بلکہ باعث تعارف قرار دیتا ہے۔سورۃ الروم کی آیت نمبر 22 میں ارشاد ربانی ہے۔’’اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔بے شک اس میں اہل علم کے لئے نشانیاں ہیں۔‘‘اسی طرح سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 13 میں ارشاد ربانی ہے۔’’اے لوگو ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیز

یہ بھی دیکھیں

شمالی اور جنوبی کوریا میں مذاکرات

(ظہیر اختر بیدری ) دنیا کے سیاستدانوں کی مہربانی سے دنیا جہنم بنی ہوئی ہے، ...