جمعہ , 20 جولائی 2018

قطر کے بائیکاٹ کے حوالے سے کچھ نئی باتیں سامنے آنے لگی

(تسنیم خیالی)
5 جون 2017 کو سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے قطر کے ساتھ اپنے تمام تعلقات منقطع کر دیے، اس صورت حال کو اب 6 ماہ سے بھی زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور مستقبل قریب میں اس معاملے کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے بقول انہوں نے یہ اقدام اس لئے کیا ہے کہ قطر دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور اپنے پڑوسی خلیجی و عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے، یہی نہیں بلکہ قطر کے ایران کے ساتھ گہرے اور خوشگوار تعلقات ہیں جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں (خیر یہ اور بات ہے کہ قطر پر جس قسم کے الزامات عائد ہیں، وہی سب کچھ بائیکاٹ کرنے والے ممالک بھی کر رہے ہیں) اس معاملے کے کچھ عرصے بعد بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے بائیکاٹ ختم کرنے کے لئے قطر کے لئے متعدد شرائط عائد کر دیں۔قطر کی بات کی جائے تو اس نے سرے سے ہی اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی اور قطر کے خلاف سازش قرار دیا، نیز قطر نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی تمام تر شرائط مسترد کرتے ہوئے ان شرائط کو قطر کی خود مختاری اور آزادی پر حملہ قرار دیا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ یہ معاملہ اتنی جلدی ختم ہونے والانہیں اور اس میں مزید کشیدگی پیدا ہو گی۔

قطر کے بائیکاٹ کے معاملے پر قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے حال ہی میں قطر ٹی وی کو دیئے گئے اپنے ایک انٹر ویو میں انکشاف کیا ہے کہ امارات نے قطر کا بائیکاٹ ایک خاتون کی وجہ سے کیا ہے۔

آل ثانی کے مطابق قطر کے بائیکاٹ سے دو ماہ قبل اماراتی میڈیا پر قطر کی شدید مخالفت کی جا رہی تھی جسکی وجہ سے قطر نے اماراتی حکام سے اس حوالے سے دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہوئےاختلاف کو مل جل کر حل کرنے کی تجویز دی البتہ اماراتیوں نے معاملے کے حل کے بجائے قطر میں رہائش پذیر ایک اماراتی اپوزیشن رہنما کی اہلیہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا، اماراتیوں کا کہنا تھا خاتون کو امارات کے حوالے کرو، بدلے میں اماراتی میڈیا قطر کی مخالفت بند کر دے گا۔

آل ثانی کے مطابق اس اماراتی مطالبے نے قطری حکام کو ایک بار پھر چونکا دیا البتہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے خاتون کو امارات کےحوالے نہ کرنے کا عندیہ دے دیا کیونکہ یہ خاتون کسی بھی جرم میں ملوث نہیں تھی اور نہ ہی قطر میں غیر قانونی طور پر مقیم اور نہ ہی وہ مزید کسی بھی غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث ہے لہٰذا اسے امارات کے حوالے کرنے کا کوئی جواز نہیں، علاوہ ازیں قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قطر کسی بھی صورت میں خاتون کو کسی بھی ملک کی سیکورٹی فورسز کے حوالے نہیں کریگا کیونکہ یہ عربوں کی عادت اور اصول کی خلاف ورزی ہے، اس انکار کے دو ماہ بعد قطر کے بائیکاٹ کا آغاز کیا گیا جو آج بھی جاری ہے اس کے علاوہ قطری وزیر نے اپنی گفتگو میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بائیکاٹ سے ایک روز قبل قطری نیوز ایجنسی پر ہونے والے سائبر حملے میں بھی بائیکاٹ کرنے والے ممالک میں سے دو ملوث ہیں جن کے خلاف قطر قانون کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔

قطری وزیر خارجہ کے انکشاف سے معلوم ہوتا ہے کہ قطر کے بائیکاٹ کا معاملہ کافی پیچیدہ ہے اور اس بائیکاٹ کے پیچھے کئی وجوہات ہونے کے ساتھ ساتھ کئی مقاصد بھی ہیں، 6 ممالک نے یہ بائیکاٹ کیا ہوا ہے اور لگتا ہے کہ تمام ممالک کے اپنے اپنے مقاصدا وروجوہات ہیں۔

البتہ یہ بائیکاٹ فی الحال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا اور آہستہ آہستہ مزید انکشاف منظر عام پر آئیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

نگرانوں کی جانبداریاں اور قائدؒ کی ہدایات

(ذوالفقار احمد چیمہ) پہلے بھی پنجاب اور سندھ کی نگران حکومتوں کو کوئی غیرجانبدارنہیں سمجھتا ...