جمعرات , 19 جولائی 2018

سعودی عرب کو ایران امریکہ دشمنی سے کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

(تسنیم خیالی)
اس بات سے قطر نظر کہ ایران امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے کہ نہیں البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے ممالک کی یہی کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دشمنی اور کشیدگی جاری رہے اور ان ممالک میں سعودی عرب کی یہ کوشش کیوں ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور دشمنی جاری رہے؟

بعض لوگوں کے نزدیک اسکی وجہ سیاسی اختلافات ہیں اور بعض کا یہ ماننا ہے کہ اس کی وجہ مذہبی اور دینی اختلافات ہیں، البتہ اس سعودی پالیسی کی ایک وجہ اقتصادی بھی ہے کہ ممکنہ طور پر اہم وجہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اقتصادی وجوہات لیبیا اور عراق جیسے ممالک کے حوالے سے سعودی موقف کی بنیاد تھی۔

فرض کریں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جاری رہتی ہے اور خوا نخواستہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے تو بلا شبہ ایران اپنے تیل اور دیگر پیداوار کی ترسیل روک لے گا اور اگر وہ ترسیل نہیں بھی روکتا تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ایران کو حاصل نہیں ہو گی کیونکہ تب تک ایران پر پھر سے عالمی پابندیاں عائد کر دی جائینگی جس کے نتیجے میں ایران تیل کی منڈی میں اپنا حصہ کھو بیٹھے گا، دوسری جانب اگر خدا نخواستہ جنگ شروع ہو جاتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو گا اور یہ اضافہ مزید بڑھے گا اگر ایران جنگ کے دوران ابنائے ہرمز کی بندش کر دیتا ہے اس صورت حال میں سب سے زیادہ فائدہ سعودی عرب کو حاصل ہو گا چونکہ سعودی عرب تیل کی فروخت کرنے والاسب سے بڑا ملک ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ مالی فائدہ اس کو ہی حاصل ہو گا، یہی نہیں بلکہ جنگ کی صورت حال میں سعودی عرب نے اپنی پیداوار بڑھا دینی ہے تا کہ ایرانی تیل کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور سعودی عرب میں موجودہ اقتصادی بحران کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب کی کوشش اور بھی تیز ہو گئی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہو جائے۔

اسی طرح عراق اور لیبیا کے معاملے میں بھی سعودی عرب کی یہی پالیسی تھی کیونکہ عراق اور لیبیا دونوں ہی تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں اور انہیں جنگ میں دھکیلنے سے سعودی عرب کو ہی سب سے زیادہ اقتصادی فائدہ حاصل ہوا۔

بلاشبہ عالم اسلام پر حکمرانی اور علاقے پر اجارہ داری بھی ان وجوہات میں شامل ہے جس کی بناء پر سعودی عرب کی کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی قائم رہے اور اس میں اضافہ ہو، البتہ اقتصادی وجوہات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

اس بات سے سبھی اتفاق کرتے ہیں کہ ایرانی نظام انتہائی سمجھدار حکمت رکھنے والانظام ہے تو پھر وہ سعودی عرب کو ایسا کیوں کرنے دے رہا ہے؟ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جاری رہنے کے پیچھے دو وجوہات ہیں اور دونوں وجوہات کے پیچھے ایران نہیں بلکہ امریکہ ہے پہلی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں آنے والی تمام حکومتیں کسی بھی ملک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو اسرائیل کے ساتھ اس ملک کے تعلقات پر استوار کرتی ہیں اب آپ سوچیں کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات قائم کیسے کر سکتی ہے جو اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہ کرنے کےساتھ ساتھ اسرائیل کو نیست و نابود دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے، ایران تمام فلسطینی مزاحمت کی تنظیموں کی حمایت کرتا ہے جبکہ امریکہ اسرائیلی سلامتی کو اپنی سلامتی تصور کرتا ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ جن ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرتا ہے ان ممالک کے معاملات اور خود ارادیت میں دخل اندازی کرتا ہے جو کہ ایران جیسی غیرت مند قوم کو کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔

اگر امریکہ اپنی یہ دو خصلتیں بدل دے تو ایران امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم کر سکتا ہے مگر امریکہ نے ایسا کرنا نہیں۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

اقوام متحدہ کی کشمیر رپورٹ، بھارتی اعتراض مسترد

(عارف بہار) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر انٹونیو گوئٹرس نے کشمیر میں انسانی حقوق ...