بدھ , 17 اکتوبر 2018

امریکہ کی ایران کے خلاف ایٹمی پابندیاں معطل رکھنے کی مدت میں توسیع/ ایران کے خلاف مزید پابندیاں

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ایران کے خلاف ایٹمی پابندیاں 120دن تک معطل رکھنے میں توسیع کردی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف مزید پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ایران کے خلاف ایٹمی پابندیاں 120 تک معطل رکھنے میں توسیع کردی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کے خلاف مزید پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔ سی این این کےمطابق امریکی صدر نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کی روشنی میں ایران کے خلاف ایٹمی پابندیاں 120 تک معطل کرنے کا یہ آخری موقع ہے ۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اگر مشترکہ ایٹمی معاہدے میں امریکی صدر کے مد نظر تبدیلیاں نہ کی گئیں تو وہ مشترکہ ایٹمی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ ادھر امریکہ کی وزارت خزانہ نے ایران میں انسانی حقوق کو بہانہ بنا کر ایران کی 14 حقیقی اور حقوقی شخصیات کوپابندیوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکی صدر کے بیان کو ایٹمی معاہدہ کمزور کرنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کردے گا۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران کے جوہری معاہدے کو کمزور کرنے کا کوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اقتصادی پابندیوں سے استفادہ کر رہا ہے:نمائندہ ایران

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے نے کہا ہے کہ ...