جمعہ , 20 جولائی 2018

وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کم کر دیئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پلاننگ کمیشن کی جانب سے 12 جون کو پبلک سیکٹر پر مشتمل ترقیاتی منصوبوں (پی ایس ڈی پی) کے لیے صرف 3 کھرب 44 ارب روپے جاری ہوئے جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت مالی سال 2018-2017 کا خسارہ محدود رکھنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات میں کمی لارہی ہے۔
واضح رہے کہ ترقیاتی اسکیموں کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد مختص ہیں جبکہ حکومت نے اس کا صرف 34 اعشاریہ 4 فیصد خرچ کیا جو تقریباً 3 کھرب 44 ارب روپے بنتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے گزشتہ برس پی ایس ڈی پی پر 8 سو ارب روپے مختص کیے تھے اور اسی عرصے میں 13 جنوری 2017 تک 300 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے تحت استعمال میں لائے گئے تھے جو 37 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
ترقیاتی منصوبوں سے متعلق منظورشدہ طریقہ کارکے مطابق حکومت کو سال کی پہلی سہ ماہی میں کل رقم کا 40 فیصد تقریباً 400 ارب روپے جاری کرنے چاہیے تھے۔
مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حکومت نے 30 ارب روپے قانون سازوں کی سفارشات پر کمیونٹی ڈویلپمنٹ منصوبوں اور تقریباً 9 ارب روپے پرائم منسٹر یوتھ پروگرام پر خرچ کیے۔کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت سڑکوں کی تعمیر، سیوریج اور پانی کا نظام بہتر بنانے سمیت دیگر پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزراء کو سال کی پہلی سہ ماہی میں 92 ارب جاری کیے جو کل رقم کا 29 فیصد بنتا ہے جبکہ کل تخمینہ 3 کھرب 21 ارب روپے ہے۔
وفاقی حکومت کے زیرِانتظام قبائلی علاقے (فاٹا)، کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے حکومت نے 71 ارب روپے میں سے 33 ارب روپے جاری کیے۔
رقم کی تقسیم کے منظور شدہ طریقہ کار کی رو سے حکومت موجودہ سال پہلی دو سہ ماہی میں 20 فیصد فنڈز جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں 30، 30 فیصد فنڈز جاری کرنے کی پابند ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اسلام آباد میں ہفتہ وار بازار میں آگ لگنے سے سیکڑوں دکانیں خاکستر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور موڑ کے قریب واقع ہفتہ وار بازار میں آگ لگنے سے ...