پیر , 23 اپریل 2018

کیا ڈونلڈ ٹرمپ احمق ہے؟

صدر ٹرمپ کی اگست 2017 میں بیان کردہ افغانستان اور اس خطے کے بارے پالیسی کیوجہ سے پاکستان میں جو غم و غصہ پیدا ہوا تھا وہ ابھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے ایک ٹویٹ دے مارا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پاکستان کے سیاسی اورعوامی حلقوں میں امریکہ اور ٹرمپ کے خلاف نفرت شدید ہوگئی۔ قارئین کی یاددہانی کے لئے 22 اگست کے پالیسی بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوجیں افغانستان میں طویل عرصہ قیام کریں گی۔ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں اور اگر پاکستان ان کو تباہ نہ کرے گا تو اس کو بھگتنا پڑے گا۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دہشتگردوں کی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہندوستان کو اس خطے میں مزید بڑا رول دینے کا عندیہ دیا تھا۔ موجودہ ٹویٹ میں انہوںنے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ سے اربوں ڈالر لے کر امریکہ کو بیوقوف بناتا رہا ہے۔ اس نے ان دہشتگردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف امریکہ افغانستان میں لڑ رہا ہے اگر پاکستان ایکشن نہیں لے گا تو ہم خود لیںگے۔ پاکستان میں مختلف حلقے ا س امریکی پالیسی اور ٹویٹ پر تین طرح کا رد عمل دکھا رہے ہیں۔ کچھ ٹرمپ کو احمق سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان بیانات کو اہمیت نہ دی جائے۔ کچھ کا خیال ہے کہ امریکہ سب سے بڑی عسکری اور معاشی طاقت ہے ۔ اسکے ساتھ تعلقات خراب ہونے سے بچانا چاہئے جبکہ ایک حلقے کا خیال ہے کہ بس کافی ہوگیا ، ہماری قربانیوں کا یہ صلہ ہمیں قبول نہیں۔
صدر ٹرمپ کو پاکستان میں ہی نہیں امریکہ میں بھی عوام اور میڈیا کی ایک بڑی تعداداحمق قرار دیتی ہے۔ اور یہ الیکشن سے پہلے بھی کہا جاتا تھا۔ ٹرمپ نے الیکشن مہم کے دوران اور بعد میں بھی اپنے بارے میں ہمشیہ یہ کہا کہ اس میں دو خوبیاں ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ بہت امیر ہے اور دوسرا یہ کہ وہ بہت ذہین ہے۔ اسکے امیر ہونے پر کسی نے شبہ نہیں کیا لیکن اس کے ذہین ہونے پر سوال اٹھتے رہے ۔میرے خیال میں وہ جس عہدہ پر پہنچا ہے ایک احمق نہیں بلکہ ایک ذہین شخص ہی پہنچ سکتا ہے۔ اس نے صدارت کے ٹکٹ کے لئے مہم چلائی کامیاب رہا اور پھر صدارتی مہم کے دوران اس کے بہت سے بیان اور فیصلے میڈیا میں مقبول نہ تھے لیکن پولنگ بوتھ پر مقبول ثابت ہوئے ۔ وہ ایک روایتی سیاستدان نہیں اور سیاست اور سفارت کاری کی مہذب زیان استعمال نہیں کرتا لیکن وہ جو کچھ کررہا ہے وہ امریکہ کی پالیسی کے مطابق اور اگلے الیکشن میں کامیاب ہونے کیلئے ۔ بیت المقدس کو ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود اسرائیل کا دارالخلافہ اس نے اس لئے تسلیم کیا ہے کہ امریکہ کی یہودی لابی کی مکمل حمایت حاصل رہے ۔میرے خیال میں اسکو احمق نہ سمجھنا چاہئے اسکے بیانات کو سنجیدگی سے لے کر اپنی پالیسی بنانی چاہئے۔ اگر آپ اس کو احمق سمجھتے ہیں تو میرے خیال میں اسکو او رزیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ احمق لوگ جو کہتے ہیں وہ اکثر کر گزرتے ہیں۔
وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بگاڑنا عقلمندی نہ ہوگی۔ ان کے مطابق امریکہ سے بگاڑ کا مطلب ہے امریکہ کو پاکستان کے اندر بھی دہشتگردوں پر حملے کا جوا زفراہم کرنا ہے اور اقتصادی نقصانات بھی ہماری برداشت سے باہر ہونگے۔ امریکہ سے براہ راست امداد یا قرضہ بند ہوجائے گا۔ امریکہ سے تجارت بند ہونے سے بھی شدید نقصان ہوسکتا ہے۔ اسکے ساتھ دوسرے بین الاقوامی اداروںمثلاً ورلڈ بینک پر بھی امریکہ کا بہت اثر و رسوخ ہے اور وہ ان اداروں سے بھی ہماری امداد یا قرضہ بند کرواکے ہمیں مشکلات کا شکار کرسکتا ہے ۔ اس حلقے کا خیال ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے جائز مطالبات تسلیم کرلینے چاہئیں اور اگر پاکستان میں دہشتگردوں کے کوئی اڈے وغیرہ ہیں تو ان کو ختم کردینا چاہئے۔ جہاں تک امریکہ سے تعلقات خراب نہ کرنے کا سوال ہے یقینا ایک معقول مشورہ ہے لیکن امریکہ کے ارادے صرف دہشتگردی کے حوالہ سے نہ ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ امریکہ افغانستان میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے نہ آیا تھا بلکہ اسکے دیگر اہم مقاصد تھے۔ امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم یا کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ یہاں بیٹھ کر چین پرنظر رکھنا چاہتا ہے جو عظیم عسکری اور معاشی قوت بن کر ابھر رہا ہے۔ اب سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بھی امریکہ کا ہدف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو چین کے مقابلے کی عسکری قوت بنانا بھی امریکہ کے مقاصد میں شامل ہے۔ پاکستان میں اب دہشتگردی کے کوئی ٹھکانے نہیں ۔یہ بات امریکہ بخوبی جانتا ہے کیونکہ سیٹلائٹ کے ذریعے پورے علاقے پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس کے باوجود دہشتگردوں کا ذکر اور یہ کہنا کہ وہ ایٹمی اثاثوں تک پہنچ سکتے ہیں یقینا بدنیتی پر مبنی ہے۔ امریکہ اس بہانے ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول چاہتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے ایٹمی اسلحہ استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ بات درست ہے کیونکہ روایتی اسلحہ اورفوج کے حوالے سے ہندوستان کو ہم پر برتری حاصل ہے اور ہندوستان کی کسی بڑی جارحیت کی صورت میں پاکستان یقینا اپنی ایٹمی قوت استعمال کرسکتا ہے۔ ہمارے بہت سخت کنٹرول اور کمانڈ سسٹم کی وجہ سے یہ بالکل ممکن نہیں کہ دہشتگرد ایٹمی اسلحہ تک پہنچیں لیکن اگر امریکہ ہندوستان کو مزید مسلح کرتا رہے گا تو ہندوستانی جارحیت کے جواب میں یہ خدشہ یقینا موجود ہے ۔اگر امریکہ چاہتا ہے کہ یہ خدشہ نہ رہے تو اس کا یہ حل قطعا ًنہیں ہے کہ ہمارے ایٹمی اسلحہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگرکوئی ایسی کوشش کی گئی تو یقینا اسکے نتائج بہت تباہ کن ہونگے۔ یہ بات امریکہ پر بہت واضح ہونی چاہئے۔ اگر امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایٹمی اسلحہ کے استعمال کا خطرہ نہ رہے تو وہ دونوں ملکوں کے درمیان جھگڑے کی وجہ ختم کروائے یعنی کشمیر کا مسئلہ کشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق حل کروائے۔
ٹرمپ کی پالیسی کے بارے پاکستان میں تیسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسکی ہرزہ سرائی کو مزید برداشت نہ کیا جائے ۔صاف صاف بتادیا جائے کہ ہمیں اسکی امداد کی ضرورت نہیں ۔ ہم نے پاکستان میں دہشتگردی کو کنٹرول کرلیا ہے۔ افغانستان میں اسکی ذمہ داری ہے ہم اس میں کوئی کرداراد ا نہ کریںگے۔ امریکہ کو صاف صاف بتادیا جائے کہ اگر پاک سرزمین پر کوئی جارحیت ہوئی تو اسکا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ اب تک کا ہمارا حکومتی رد عمل اس قسم کا ہے لیکن سفارتی آداب کو مد نظررکھتے ہوئے زبان اتنی سخت استعمال نہیں کی گئی۔ اگر امریکہ ہم پر مزید دبائو بڑھاتا ہے تو پاکستان ان کو دی گئی زمینی اور فضائی راہ داری بند کرسکتا ہے جس کے بعد امریکہ کا افغانستان میں رہنا تقریباً نا ممکن ہوجائے گا۔ یہ بات غالباً امریکہ کو سمجھ آگئی ہے کیونکہ امریکہ کے عسکری ذمہ داروں نے ہمارے آرمی چیف کو فون کرکے کہا ہے کہ امریکہ کا پاکستان میں دراندازی کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور یہ کہ دیگر امور پر بھی تعلقات جلد معمول پر آجائیں گے۔ یہ تبدیلی صرف ہماری مضبوط موقف کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔
پاکستان میں حکومت مخالف حلقے بہت تنقید کرتے ہیں کہ چار سال تک پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہ تھا اس لئے پاکستان کو سفارتی سطح پر بہت مشکلات درپیش ہیں۔ وہ لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وزارت خارجہ میں دو تجربہ کار مشیر موجود تھے اور ساری وزارت خارجہ اور ISI کا امور خارجہ کا محکمہ بھی پوری طرح کام کررہا تھا۔امریکہ کے مشہور وزیر خارجہ ہینری کسنجر نے کہا تھا کامیاب ڈپلو میسی کیلئے ضروری ہے کہ اس کے پیچھے ایک بڑی عسکری قوت ہو اور اس قوت کو استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر ہورہا ہو۔ اسی صورت میں ہی دوسرا فریق آپکی بات سمجھتا ہے اور مانتا ہے۔ پاکستان کے وزارت خارجہ کا قلمدان وزیراعظم نوازشریف کے پاس تھا یعنی ایسے شخص کے پاس جس نے امریکی صدر کی دھمکیوں کے باوجود ایٹمی دھماکے کر ڈالے۔(بشکریہ نوائے وقت)

یہ بھی دیکھیں

شام پر میزائل مارتے ہوئے امریکیوں اور یورپیوں کی گھبراہٹ

محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہو تو کسی بھی فوجی طاقت پر بھروسہ نہیں کیا ...