پیر , 23 اپریل 2018

ریاست اور برف کا بلاک

(وسعت اللہ خان)
احد تمیمی کا خاندان جانے کس مٹی کا بنا ہے کہ اسے ڈر ہی نہیں لگتا بلکہ جب سے ایک اسرائیلی فوجی کے گالوں پر اس سولہ سالہ بچی کے طمانچے کی گونج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے تب سے ڈر کو احد تمیمی سے ڈر لگنے لگا ہے۔جس جج کے سامنے اس بچی کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا۔اس نے پوچھا تم نے اس باوردی فوجی کو طمانچہ کیسے مارا؟ احد نے کہا میری ہتھکڑیاں کھول دو تاکہ عملاً بتاؤں کہ کیسے مارا۔
کسی بھی ریاست کے لیے بری خبر یہ نہیں کہ اس پر کسی بیرونی قوت نے حملہ کردیا یا کسی گروہ نے بغاوت کردی۔ بری خبر یہ ہے کہ جو لوگ اس ریاست میں رہتے ہیں یا اس کے زیرِ نگیں ہیں، ان میں سے ریاست کا ڈر نکل گیا۔اس کے بعد ریاست اور آسمان تلے رکھے برف کے بلاک میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔
معروف یہودی مورخ آئزک ڈوشر کہتے ہیں کہ جو لوگ اسرائیل کو ایک غاصب ریاست سمجھتے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہودی شوق سے نہیں آئے بلکہ زمانی جبر انھیں فلسطین کھینچ کے لایا۔یوں سمجھ لیجیے کہ ایک یہودی نے جان بچانے کے لیے جلتی عمارت سے چھلانگ لگائی اور اتفاقاً نیچے کھڑے فلسطینی پے جا گرا یوں وہ فلسطینی بھی اچھا خاصا زخمی ہوگیا۔ایسے حالات میں آپ چھلانگ لگانے والے کو کتنا قصور وار ٹھہرائیں گے؟
آئزک ڈوشر کی دلیل میں خاصا وزن ہے پر ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔جب یورپ کی جلتی ہوئی عمارت سے جان بچانے کے لیے یہودی نے نیچے چھلانگ لگائی تو جو فلسطینی اس کے بوجھ تلے دب کر ہڈیاں تڑوا بیٹھا اس سے معذرت کرنے یا مرہم پٹی کے بجائے اسے مارنا کیوں شروع کردیا اور پھر اس گرنے والے یہودی کی چوتھی نسل اس فلسطینی کی چوتھی نسل کو کیوں مار رہی ہے؟
احساسِ جرم بھلے انفرادی ہو کہ اجتماعی اس سے دو طرح سے نمٹا جاسکتا ہے۔یا تو آپ یہ اعتراف کرکے دل ہلکا کرلیں کہ مجھ سے زیادتی ہوگئی اور اب میں اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کروں گا۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ ایک احساسِ جرم کو دبانے کے لیے اس پر دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں جرم کا بوجھ رکھتے چلے جائیں اور آخر میں ایسے نفسیاتی مریض بن جائیں جو اس احساس سے ہی عاری ہو کہ کیا جرم ہے اور کیا جرم نہیں۔
پہلا گروہ جس نے نازی جرائم میں شرکت یا خاموش کردار ادا کرنے کا کھلا اقبال کرکے ذہنی کشمکش سے نجات حاصل کرلی وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کی جرمن قوم تھی۔مغربی جرمنی نے نہ صرف نازی نظریے کو کالعدم قرار دیا بلکہ ہٹلر کے ستم گزیدہ یہودیوں کو ان کی املاک لوٹائیں اور متاثرین کو اسرائیلی ریاست کی معرفت لگ بھگ پانچ ارب ڈالر معاوضہ بھی ادا کیا۔مگر کیا ستم ظریفی ہے کہ نازیوں کا نشانہ بننے والے یہودیوں نے کنسنٹریشن کیمپوں سے چھوٹنے کے تین برس کے اندر ہی اپنی مظلومیت خود غرضی اور ظلم کے ہاتھ فروخت کردی اور فلسطینیوں کو اپنی مجبوریاں سمجھانے کے بجائے انھی کے سینے پر چڑھ بیٹھے۔اپنی بحالی کی بنیاد فلسطینیوں کی بے گھری پر رکھی اور دور دور تک احساسِ ندامت بھی نہیں۔
صیہونی اسرائیلی کہتے ہیں کہ انھیں احساسِ جرم کیوں ستائے۔وہ تو اپنے آباء کی زمین پر دوبارہ آن بسے ہیں۔ یہ فلسطینی تھے جنہوں نے ساڑھے تین ہزار سال پہلے یہودیوں کی چھوڑی زمین پر قبضہ کرلیا تھا۔ہم نے تو بس انیس سو اڑتالیس میں قبضہ چھڑوایا ہے۔کیا اپنی زمین واپس لینا اتنا ہی بڑا جرم ہے؟
اب میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ مورخ آئزک ڈوشر کا نظریہِ مجبوری مانوں یا صیہونیت کا نظریہِ سینہ زوری۔اگر بیک وقت دونوں نظریے بھی تسلیم کرلوں تب بھی دونوں نظریات میں مغذرت یا افہام و تفہیم کی روح کا شائبہ تک نہیں۔کیا یہ کسی مبنی بر حق قوم کی ثابت قدمی ہے یا پھر احساسِ جرم کو دبانے کے لیے مسلسل کوشاں قوم کی اکڑ۔ مجھے تو پیروں کے نشانات ثابت قدمی سے زیادہ احساسِ جرم کی پیداوار اکڑ کی طرف جاتے نظر آتے ہیں۔
کیا یہ احساسِ جرم سے نگاہیں چرانے کی کوشش نہیں کہ ہر اسرائیلی بچے کو ہوش سنبھالتے ہی گھر اور اسکول میں ذہن نشین کروایا جاتا ہے کہ یہودی تاریخی اعتبار سے دنیا کی مظلوم ترین قوم ہیں۔فلسطینی پیدائشی قاتل ہیں اور ان کی یہودیوں سے نفرت بلا جواز ہے۔فلسطینی ہماری طرح کے انسان بھی نہیں۔اب جب ایک بچہ اس طرح کی باتیں مسلسل سنتا سنتا جوان ہوگا تو اس کا رویہ فلسطینوں سے کس طرح کا ہوگا۔یہ جاننے کے لیے ارسطو ہونا بالکل ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر میزائل مارتے ہوئے امریکیوں اور یورپیوں کی گھبراہٹ

محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہو تو کسی بھی فوجی طاقت پر بھروسہ نہیں کیا ...