پیر , 22 جنوری 2018

کیا امریکی صدر نسل پرست ہیں، امریکہ میں بحث

ٹرمپ کے نسل پرستانہ خیلات کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے ڈیڑھ سو اور شہری آزادیوں کے قانون سول رائٹس ایکٹ کی منظوری کے پچاس سال بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افریقی اور جنوبی امریکی ممالک کے تارکیں وطن کے بارے میں اشتعال انگیز کلمات سے ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا امریکی صدر نسل پرست ہیں؟

امریکہ میں حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی اور کچھ مورخیں کا کہنا ہے کہ صدر کے اقدامات اور بیانات کے بعد اب اس میں کوئی شک باقی نہیں کہ صدر نسل پرست ہیں۔ سابق صدر باراک اوباما کی شہریت کے بارے میں جھوٹے بیانات اور اس کے بعد میکسیکو سے امریکہ آنے والے تارکین وطن کو قاتل اور زانی کہہ کر صدر ٹرٹپ نے سیاست میں اپنی جگہ بنائی۔

امریکی قانون سازوں کے ساتھ ایک نجی ملاقات میں جمعرات کو صدر ٹرمپ نے حیران کن سوال کیا کہ ہیٹی اور دوسرے ‘گٹر’ افریقی ملکوں سے تارکین وطن کو امریکہ کیوں قبول کرتا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ناروے جیسے سفید فام اکثریت والے ملک کے لوگوں کو ترجیح دینے کی بات کی۔
سینیٹر ڈک ڈربن نے جو اس ملاقات میں موجود تھے انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے ایسی بات کہی جو ’نفرت سے بھری، گھنونی اور نسل پرستانہ‘ تھی۔
حکمران رپبلکن جماعت کے ارکان کی اکثریت صدر کے اس جملے کے بارے میں خاموش رہی تاہم چند ارکان نے صدر کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔
لیکن جنہوں نے صدر ٹرمپ کے دفاع میں لب کھولے وہ بھی صرف اس حد تک محدود رہے کہ صدر کا تبصرہ ان ملکوں کی اقتصادی حالت کے بارے میں تلخ حقیقت کی نشاندھی کرتا ہے اور کسی نسل پرستانہ متعصب ذہن کا عکاس نہیں ہے۔ کچھ ارکان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ جو سیاسی مصلحتوں کو نہیں مانتے انھوں نے خاموش اکثریت کی سوچ کی عکاسی کی ہے۔
ریگن کے نسل پرستانہ بیانات نجی محفلوں تک محدود تھے،امریکی ریاست اوہایو سے سینیٹ کی رکنیت کے لیے حزب اقتدار رپبلکن پارٹی کے امیدوار جم ریناسی نے ٹی وی چینل فوکس نیوز سے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ صدر ٹرمپ ان خیالات کی نمائندگی کرتے جو بہت سے لوگوں کی سوچ ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہمیں ہمارے بیانات کی کسوٹی پر مت پرکھیں بلکہ جو کام ہم کر رہے ہیں ان پر ہمیں پرکھا جائے۔’ٹرمپ نے متعدد مرتبہ ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ نسل پرست ہیں۔ انھوں نے سنہ 2016 کی انتخابی مہم کے دوران یہاں تک کہا کہ وہ سب سے کم نسل پرست ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کو ایک مبہم تردید جاری کی اور ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھوں نے ہیٹی کے لوگوں کے بارے میں کوئی تضحیک آمیز بات نہیں کی۔ انھوں نے اپنے اشتعال انگیز جملے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کے جواب نہ دینے کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔
وڈرو ولسن سنہ 1913 سے 1921 تک امریکہ کے صدر رہے
لیکن اس بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ مذکورہ بیان نے صدر ٹرمپ پر لگائے جانے والے نسل پرستی کے الزامات کو مزید تقویت دی ہے اور یہ الزامات ان پر اُس زمانے سے لگتے رہے ہیں جب وہ ابھی صدر بھی نہیں بنے تھے۔
وفاقی حکومت نے سنہ 1970 میں جائیداد کی خرید و فروخت کی ٹرمپ کی کمپنی پر دو مرتبہ سیاہ فام افراد پر سفید فام کو ترجیح دینے کے الزام میں مقدمات قائم کیے تھے۔
صدر ٹرمپ نے سیاہ فام اور لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے اُس گروہ کو پھانسی دینے کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی تھی جن پر نیویارک کے سینٹرل پارک میں سفید فام خواتین کا ریپ کرنے کا الزام تھا لیکن بعد میں انھیں عدالت نے ان الزامات سے بری کر دیا تھا۔
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کلمات کے خلاف سیاہ فاموں نے احتجاج کیا
لیکن اب صدر کے بیانات کی ان کے عہدے کی وجہ سےبہت اہمیت اور معنی رکھتے ہیں اور اس عہدے نے ہمیشہ قوم کی اخلاقی سمت کا تعین کیا ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں عوام کے لیے امریکہ کو ایک مثال بنایا ہے۔

گو غلامی، نسلی امتیاز اور سیفد فام اور دیگر اقلیتیوں میں اقتصادی ناہمواری جیسے مسائل امریکی کی پیچیدہ نسلی تاریخ کا ہمیشہ سے حصہ رہے ہیں لیکن ٹرمپ سے پہلے آنے والے صدور نے مساوات کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے اور ایسی پالیسیاں بنائیں جن سے لاطینی امریکہ اور افریقہ سے لاکھوں افراد کو امریکہ آنے میں مدد ملی۔

امریکہ کی صدارتی تاریخ رقم کرنے والے مورخ ڈگلس برنکلے کا کہنا ہے امریکہ کا کوئی صدر نسلی تعصب کے بارے میں اس قدر بے حس نہیں رہا اور نہ ہی کسی نے اس طرح ان لوگوں کے بارے میں نفرت کا اظہار کیا جو سفید فام نہیں ہیں۔
برنکلے نے کہا کہ ٹرمپ سنہ 1913 سے سنہ 1921 تک صدر کے عہدے پر رہنے والے وڈرو ولسن کے بعد سب سے زیادہ نسل پرست صدر ہیں۔
ولسن نے وفاقی حکومت کے اداروں سمیت معاشرے میں نسلی امتیاز کی حمایت کی تھی اور ان کی پالیسیوں کو سیاہ فام شہریوں کی بہتر ہوئی معاشی حالت کو روکنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔
ولسن کے بعد صدر رچرڈ نکسن یہودیوں اور سیاہ فام لوگوں کے بارے میں نجی محفلوں میں اشتعال انگیز خیالات کا اظہار کرتے تھے اور ایک جگہ انھوں نے کہا کہ سیاہ فاموں کا کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے جو بہتر طریقے سے چل رہا ہو۔
سابق صدر ریگن کے بہت سے بیانات ان کے صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے بہت دنوں بعد سامنے آئے جب وائٹ ہاؤس کی ان کے زمانے کی ٹیپ منظر عام پر آئیں۔
صدارتی تاریخ لکھنے والی ایک اور مورخ اور نکسن صدارتی لائبریری کی سابق ڈائریکٹر ٹموتھی نفتالی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بہت سے بیانات اس لیے بھی ناقابل برداشت ہیں کیونکہ وہ ان کی صدارت کے دورے میں سامنے آ رہے ہیں اور ان اجلاسوں اور ملاقات میں دیے جا رہے ہیں جہاں ایسے امور زیر بحث ہوتے ہیں کہ کس کو امریکہ میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے اور کسے نہیں۔
نفتالی نے کہا کہ یہ بیانات اس ضمرے نہیں آتے جنہیں اس لیے ’لیک‘ کیا جاتا ہے کہ صدر کو بے وقوف ثابت کیا جا سکے بلکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صدر ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو ان کے نسلی پرستانہ ذہن سے امیگریش پالیسی مرتب کرنے کی مظہر ہے۔
حیران کن طور پر ایوان صدر وائٹ ہاؤس نے صدر کے ان جملوں کی تردید نہیں کی بالکہ ان کے مافی الضمیر کی توثیق کی۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان راجہ شاہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہمارا ملک مضبوط تر ہو سکے اور اس لیے ان لوگوں کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے جو ہمارے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں، معیشت کی ترقی میں مدد کر سکیں اور ہماری عظیم قوم میں ضم ہو سکیں۔
ٹرمپ سے ملاقات میں موجود دو رپبلکن سینیٹروں، ارکنساس کے ٹام کاٹن اور جارجیا کہ ڈیویڈ پرڈیو نے کہا کہ انھیں یاد نہیں کہ صدر نے کسی افریقی ملک کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ ادا کیے ہوں۔
ملاقات میں شریک ایک اور رپبلکن رکن ساؤتھ کیرولینا سے سینیٹر لنڈسے گراہم نے اس بات کی تصدیق کی کہ صدر نے یہ جملہ ادا کیے تھا۔
صدر ٹرمپ کے سیاسی اتحادیوں کو اس طرح کی صورت حال کا اکثر سامنا رہتا ہے جہاں ان کے لیے صدر کے متنازع بیانات کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
گزشتہ سال اگست میں ورجینا کے علاقے شارلٹ وائل میں نسل پرست گروہ وائٹ سپرماسٹ اور مخالفین کے درمیان لڑائی پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ تشدد کے دونوں فریق ذمہ دار ہیں۔ صدر کے اس بیان کی رپبلکن پارٹی کے بہت سے ارکان نے مذمت کی تھی لیکن انھوں نے صدر کی عمومی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

شتر بے مہار امریکی خفیہ ادارے

(کالم نگار | ناصر رضا کاظمی) دنیا بھر کے امن کواگرکسی عالمی خفیہ ایجنسی سے ...