پیر , 23 اپریل 2018

امریکہ میں اسرائیلی اثر و رسوخ پر ایک نظر

(تسنیم خیالی)
امریکہ میں یہودی مختلف ناموں کے ذریعے امریکہ میں سرگرم رہتے ہیں کبھی لابی (Lobby) ،کبھی (Pressure Group) ،کبھی (Interest Group) اور کبھی (The Third House) جیسے ناموں کے تحت یہودی امریکہ کے تمام اداروں میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے ہیں، اس مضبوط اثر و رسوخ کا اثر امریکہ کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں میں بخوبی نظر آتا ہےجس کی بنیاد ’’پہلے اسرائیل‘‘کے مقولے پر استوار ہے۔
یہودی امریکی کانگریس جس کے ذریعے اسرائیلی امریکی کمیٹی معرض وجود میں لائی گئی، اس وقت اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ طور پر اہم ادارہ ہے یہ ادارہ ہمیشہ اسرائیل کی ہمایت کرتا ہے اور اسرائیل کے خلاف کسی بھی عرب یا اسلامی اتحاد سے نبردآزما ہوتا ہے، علاوہ ازیں یہودی امریکی کانگریس عرب اور مسلمانوں کو ہتھیار فروخت کرنے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔
یہ ادارہ بہت سی اقتصاری، سیاسی اور میڈیا طاقتوں پر مشتمل ہے (ادارے کےاراکین ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہیں)جو امریکہ کی سیاسی و حکومتی فیصلوں پر مکمل اور مضبوط اثر و رسوخ رکھتے ہیں، یوں کہیں کہ دہائیوں سے امریکہ میں مقیم 5 ملین یہود 300 ملین امریکیوں پر کنٹرول کر رہے ہیں، اس ادارے نے دنیا بھر میں امریکہ کی قتل و غارت گری پر مبنی پالیسیوں میں اہم کردار ادا کیا اور امریکہ کو ان پالیسیوں کی راہ پر چلا دیا۔
صیہونی لابی امریکی فیصلوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟
گزشتہ عرصے میں امریکہ میں صیہونی لابی کی طاقت اور اثر و رسوخ میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا یہاں تک امریکہ سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہونے کے اسرائیل اب امریکہ کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے، کسی دور میں سابق امریکہ صدر جمی کارٹر نے بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن پر دبائو ڈالنے والے اسرائیلی ’’پریشر گروپ‘‘ امریکہ میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ کی حامل جماعتیں بن چکی ہیں۔
صیہونی لابی نے امریکیوں کو اپنی من چاہی اور مرضی کی پالیسیوں پر عملدرآمد کروایا خواہ یہ پالیسیاں خود امریکہ کے لئے ہی نقصان دہ کیوں نہ ہوں، مثال کے طور پر 2003ء میں عراق پر حملہ کروانا اور ایران اور شام کے خلاف اکساتے رہنا، اس ضمن میںایک اور تازہ ترین مثال یہ ہے کہ صیہونی لابی نے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ بیت المقدس کو بطور اسرائیلی دار الحکومت تسلیم کرے اس فیصلے نے امریکہ پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب کئے جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد امریکہ تنہائی کا شکار ہو گیا فیصلے پر اس کے قریبی اتحادی بھی اس سے دور ہو گئے۔
امریکہ میں سرگرم صیہونی لابی دو طرح سے کام کرتی ہے ایک بلاواسطہ جس میں یہ لابی امریکی صدر، کانگریس اور ایوان زیریں کے اراکین اور دفتر خارجہ کے عہدیداروں سمیت تمام امریکی عہدیداروں سے رابطے اور ملاقاتیں کرتی ہے، جبکہ دوسرا طریقہ بالواسطہ ہوتا ہے جس میں میڈیا، تشہیری مہم اور مختلف سیمینارز کے ذریعے امریکی عوام کی حمایت حاصل کی جاتی ہے۔
میڈیا اور پیسے کا کردار
یہودی دولت مندافراد نے بھی امریکی فیصلوں کو اسرائیل کے حق میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اربوں ڈالر کی مالیت رکھنے والے ان یہودیوں نے اپنے پیسوں کے ذریعے کانگریس اور امریکی ایوان زیرین کے اراکین کو ہمیشہ کے لئے خریداجس کے ذریعے امریکی فیصلوں پر خاصا دبائو پڑ جاتا ہے اور یہ فیصلے اسرائیل کے حق میں ہوتے ہیں۔
پیسوں کی طاقت کے علاوہ امریکی یہودی امریکی میڈیا کے ذریعے امریکی عوام کی عقل اور سوچ پر بھی قابض ہو چکے ہیں ان یہودیوں کا اس بات کا ادراک ہے کہ میڈیا ایک انتہائی طاقتور ہتھیار ہے جسکا باخوبی استعمال کیا جانا چاہئے، لہٰذا امریکہ اور یورپ کے بڑے نشریاتی اداروں کے مالک یہودی ہیں، ABCنیوز، CNNنیوز، فاکس نیوز،BBC، CBCنیوز، NBC جیسے بڑے ادارے یہودیوں کی ملکیت ہیں۔نیویارک ٹائمز اخبار آرتھر سالیزبرگ‘‘ نامی یہودی خاندان کی ملکت ہے، واشنگٹن پوسٹ اخبار ’’کیتھرین گرایام مایر‘‘ نامی یہودی خاندان کی ملکیت ہے،وال سٹریٹ جورنال امریکہ میں بکنے والاسب سے بڑا اخبار ہے وہ بھی ’’پیٹرکان‘‘ نامی یہودی خاندان کی ملکیت ہے امریکہ اور برطانوی نیوز چینلز کے علاوہ فرانسیسی، جرمن اور متعدد دیگر یورپی ممالک کے نیز چینلز کے مالکان بھی یہودی ہیں، علاوہ ازین دنیا کی دو اہم ترین نیوز ایجنسیاں ’’روٹینرز‘‘ اور ’’فرانس پریس‘‘ بھی یہودیوں کی ہے،روئیٹرز کا بانی جو لیاس پائول جرمن یہودی تھا اور فرانس پریس کا پرانا نام ہائوس تھا جو کہ اس کے یہودی بانی کے نام سے منسوب تھا، روزناموں اور نیز ٹی وی چینلز اور نیز ایجنسیوں کے علاوہ امریکہ میں یہودی بڑے بڑے استاعتی اداروں کے بھی مالک ہیں مثال کے طور پر(Time warner tread group simson schuster) اور (Random House) جیسے نامور اشاعتی اداروں کے مالک یہودی ہیں، لہٰذا امریکی اداروں میں جوفیصلے کیے جاتے ہیں اور امریکہ میں میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر جو کچھ شائع ہوتا ہے مکمل طور پر اسرائیل کی حمایت میں ہوتا ہے، امریکہ اور امریکی کسی بھی طرح اسرائیل اور صیہونی کی مخالفت نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں اسرائیل اور صہیونی ہی چلا رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر میزائل مارتے ہوئے امریکیوں اور یورپیوں کی گھبراہٹ

محاذ مزاحمت کا مقابلہ کرنا ہو تو کسی بھی فوجی طاقت پر بھروسہ نہیں کیا ...