جمعہ , 20 جولائی 2018

داعش کی سینا میں موجودگی کا ایک اہم مقصد کیا ہے؟

(تسنیم خیالی)
دہشت گرد تنظیم داعش کی مصری علاقہ سینا میں موجودگی کے پیچھے کئی چھپے ہیں اور ان مقاصد میں سے کچھ کا تعلق فلسطین مزاحمتی تحریک حماس سے ہے جو داعش کی دشمنوں میں شمار ہوتی ہے حال ہی میں سینا میں سرگرم داعش کی شاخ نے حماس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی باشندے کا سرقلم کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی، اس ویڈیو میں داعش نے حماس کو کھلی دھمکی دی اور تنظیم کو نیست و نابود کرنے کا وعدہ کیا۔
اس حوالے سے ’’یونی بن مناحیم‘‘ نامی اسرائیلی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ داعش کی ویڈیو جاری ہونے کےبعد حماس اور داعش کے درمیان جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، ایک اسرائیلی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے کالم میں بن مناحیم کا کہنا تھا کہ داعش کی وجہ سے حماس کے لئے سینا میں ہتھیار کی سمگلنگ معطل ہو گئی ہے، یہ ہتھیار سینا سے غزہ داخل کیے جاتے تھے اور وہاں سے حماس کو حاصل ہو جاتے تھےسابقہ دور میں اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے رکن بن مناحیم کے مطابق داعش کی حماس کے خلاف نفرت تو شروع سے ہی ہے، البتہ اس نفرت میں اس وقت اضافہ ہوا ،جب حماس نے غزہ میں داعش سے منسلک متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا اور غزہ کی سینا کے ساتھ متصل سرحد پر سیکیورٹی بڑھا دی تھی، یہی اقدام داعش نے بھی کیا جس کی وجہ سے اب حماس کو ہتھیاروں کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔
اس اقدام میں داعش کو کافی کامیابی حاصل ہوئی اور واقعی میں حماس کو سیناء سے ہتھیار حاصل نہیں ہو رہے کیونکہ اسمگلرز کو اپنی جان کا خطرہ ہے اور وہ داعش کے ساتھ الجھنا نہیں چاہتے۔
بن مناحیم کے مطابق داعش اور حماس کے درمیان ہونے والے اس تصادم میں حماس کو عسکری نقصان حاصل ہو رہا ہے، غزہ کے ساحلی علاقوں پر اسرائیلی بحری فورسز متعین ہے اور وہاں سے حماس کے لئے ہتھیاروں کی سمگلنگ انتہائی مشکل اور تقریباً نا ممکن ہے۔
بن مناحیم کی باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ داعش کے لئے اسرائیل کوئی دشمن نہیں بلکہ اسکے نزدیک اصل دشمن حماس ہے، جو صیہونی ریاست کے خلاف دہائیوں سے جنگ لڑتا آ رہا ہے اور بلا شبہ حماس کے لئے ہتھیاروں کی سمگلنگ معطل ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو حاصل ہو رہا ہے۔
سینا کا علاقہ جغرافیائی اور اسٹراٹیجک اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل علاقہ ہے جس پر کنٹرول ہمیشہ سے اسرائیل کی خواہش رہی۔
اگرچہ اسرائیل بذات خود اس علاقے پر کنٹرول نہیں کر رہا مگر داعش اب اس علاقے کے وسیع رقبے پر قابض ہو چکی ہے جو در اصل امریکہ اور اسرائیل ہی کی پیداوار ہے۔داعش کو سینا پر بلاوجہ مسلط نہیں کیا گیا ہے مسلط کرنے کی وجوہات میں سے ایک حماس کو ہتھیاروں کی ترسیل کو معطل کرنا ہے جو حقیقت میں ہو بھی رہی ہے، سینا کے ایک بڑے حصے پر اس وقت بظاہر تو داعش کا قبضہ ہے مگر یہ قبضہ اصل میں اسرائیل کا ہے اور اس میں داعش کی موجودگی سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہی حاصل ہو رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نگرانوں کی جانبداریاں اور قائدؒ کی ہدایات

(ذوالفقار احمد چیمہ) پہلے بھی پنجاب اور سندھ کی نگران حکومتوں کو کوئی غیرجانبدارنہیں سمجھتا ...