پیر , 22 جنوری 2018

ایم کیو ایم لندن کے رہنما حسن ظفر عارف کی پراسرار ہلاکت

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پولیس نے ابراہیم حیدری کے علاقے ریڑھی گوٹھ سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے ڈپٹی کنوینئر حسن ظفر عارف کی لاش ایک گاڑی سے برآمد کی ہے۔
پولیس نے گاڑی سے برآمد ہونے والی لاش کے بارے میں تصدیق کی ہے کہ وہ ایم کیو ایم لندن کے رہنما پروفیسر حسن ظفر عارف کی ہے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق مقتول کی شناخت ان کی جیب سے ملنے والے کارڈ سے ہوئی ہے جس پر ان کے گھر کا پتہ ڈیفنس فیز 6 کا درج ہے بعدازاں پولیس نے ہلاکت کے محرکات جاننے کے لیے لاش کو جناح ہسپتال منتقل کردیا۔
بعد ازاں جناح ہسپتال میں شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق لاش پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات موجود نہیں۔
سیمی جمالی نے خدشہ ظاہر کیا کہ موت طبعی ہو سکتی کیوں کہ جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ مقتول کو قتل کیا گیا یا ان کی طبعی موت ہوئی۔
سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ حسن ظفر عارف کو جب ہسپتال منتقل کیا گیا تو وہ مردہ حالت میں تھے۔
خیال رہے کہ حسن ظفر عارف سیاسی منظر نامے پر اس وقت ابھر کر سامنے آئے تھے جب 22 اگست 2016 کو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین نے کراچی اور امریکا میں کارکنان سے ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان مخالف نعرے لگائے تھے جبکہ پاک فوج سے لڑنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
جس پر 23 اگست کو ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے ہی بانی اور قائد الطاف حسین سے اعلان لاتعلقی کیا تھا۔
بعدازاں ایم کیو ایم لندن نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار، عامر خان، خواجہ اطہار الحسن، فیصل سبزواری اور کشور زُہرا کی پارٹی کی بنیادی رکنیت خارج کردی تھی۔
ایم کیو ایم لندن نے ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان کیا تھا جس میں حسن ظفر عارف کا مرکزی کردار تھا۔
22 اکتوبر 2016 کو ایم کیو ایم لندن کی جانب سے کراچی پریس کلب (کے پی سی) پر پریس کانفرنس سے قبل ہی حسن ظفر عارف کو اس وقت رینجرز نے گرفتار کیا جب وہ کراچی پریس کلب کے باہر ایک موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے تھے۔
اسی دن لندن رابطہ کمیٹی رہنما کنور خالد یونس اور کمیٹی رکن امجد اللہ کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
ایم کیو ایم لندن کے رہنماؤں کو این پی او کے تحت حراست میں لے کر 90 روز کے لیے کراچی کے سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
تاہم انہیں کراچی کے میئر وسیم اختر کو سینٹرل جیل سے رہائی کے بعد یادگار شہدا جانے سے قبل ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں درج ایف آئی آر کے تحت دوبارہ حراست میں لے کر عزیزآباد تھانے منتقل کردیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی عدالت 18 اپریل 2017 کو حسن ظفر کو ایک لاکھ روپے ضمانت کے عوض رہائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

چیف جسٹس کا زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش ...