منگل , 21 اگست 2018

شام میں کُرد فورس تشکیل دینے کا امریکی منصوبہ

(عبد الباری عطوان)
ترکی کا کہنا ہے کہ امریکہ شام سے ملحقہ سرحدوں میں کُرد فورس تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے تاہم امریکہ کو کامیاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔عبدالباری عطوان نے اپنی ایک یادداشت میں لکھا ہے کہ امریکہ، ترکی اور شام سے ملحقہ سرحدوں میں کُرد فورس کی تشکیل کا خواہاں ہے، اس صورتحال میں کیا روس کی سربراہی میں ترکی، ایران، عراق اور شام کا ایک نیا اتحاد ممکن ہے؟

داعش کے خلاف جنگ میں امریکی اھداف کیا تھے؟ آئی ایس آئی ایس سے لڑنے کے لئے امریکہ کا بنیادی مقصد کیا تھا؟

مشرقی شام اور مغربی عراق میں داعش کے خلاف جنگ کا مقصد جس طرح امریکی حکام کہتے ہیں وہ ہرگز نہیں تھا بلکہ امریکی حکام کا اصل مقصد ان علاقوں میں کُرد فورس کی تشکیل تھا تاکہ اسرائیل اور امریکہ کے لئے ہمیشہ اس خطے میں رہنے کا ٹھکانہ مہیا ہوسکے۔

داعش کے خلاف امریکی نام نہاد جنگ کا اصل مقصد جب فاش ہوا!
داعش کے خلاف امریکی نام نہاد جنگ کا اصل مقصد اس وقت کھل کر سامنے آیا جب عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل میں عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے داعش کو شکست سے دوچار کردیا، موصل سے جب داعشی دہشت گرد فرار کرگئے تو امریکی حکام نے اربیل سے شام اور ترکی کی سرحدوں تک ایک نئی فورس کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا: "نئی فورسز بنانے کا مقصد داعش کو دوبارہ عراق اور شام میں داخل ہونے سے روکنا ہے۔”

نئی کردش فورس کا قیام
امریکی حکام داعش کی واپسی کو روکنے کے بہانے باقاعدہ طور پر کردش فورس کا قیام عمل میں لائے اور اس وقت 30ہزار افراد پر مشتمل فورس کو امریکی فوجی ماہرین تربیت دے رہے ہیں۔

کردش فورس بنانے کا مقصد کیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ نے شام میں سات سال کی جنگ اور 7 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باجود شامی حکومت مخالف گروہوں کو منظم نہیں کرسکا ہے اور وہ تمام عرب جو امریکہ پر بھروسہ کرتے تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے ہیں جس کی وجہ سے اب امریکی حکام کے پاس کُرد فورس کی تشکیل کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، کیونکہ کُرد لوگ ایران، عراق، شام، اور ترکی کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف کُردوں کے اسرائیل کے ساتھ بھی کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اس کے علاوہ کُردوں نے شام اور عراق میں پوری طاقت کے ساتھ داعش کو ختم کرنے کی کوشش بھی کی۔

امریکہ کے خلاف شامی حکومت کے حمایتی ممالک کے اتحاد کا امکان
اس میں کوئی شک نہیں کہ کُرد فورس کی تشکیل کے امریکی منصوبے سے شام کے ہمسایہ ممالک سخت ناراض ہیں جس کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ روس کی سربراہی میں ان ممالک کا امریکہ کے خلاف ایک مضبوط اتحاد بن کر سامنے آئے۔ جیسے کہ ترک رہنما رجب طیب اردگان نے امریکی حکام کو دھمکی دی ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر کرد فورس کو قبول نہیں کریں گے اور ترکی کے مسلح افواج کردوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے لئے بالکل آمادہ ہیں اور ان کے خلاف یہ کارروائی شمالی شام کے علاقے عفرین اور منبج سے شروع ہوسکتی ہے۔

دوسری طرف شام کے وزارت خارجہ کی جانب سے کُرد فورس کی تشکیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فورس میں شامل ہونے والے شہریوں کو غدار تصور کیا جائے گا۔

کردش فورس کے قیام پر روسی وزارت خارجہ نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے پورے خطے کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ کرد فورس خطے کے ممالک کو ٹکڑے کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ روس نے امریکی حکام سے کردش فورس کی تشکیل کے متعلق وضاحت طلب کیا ہے۔

ترکی کے خلاف امریکی اشتعال انگیز کارروائیاں
ترکی کسی بھی وقت امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز پر حملہ کرسکتاہے اور یوں امریکہ اور ترکی میدان جنگ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوسکتے ہیں۔ ترکی کے حزب اختلاف کی تمام سیاسی پارٹیاں بھی اس مسئلے میں ترک حکومت کی حمایت کررہی ہیں کیونکہ وہ کرد فورس کے خطرات سے بخوبی واقف ہیں۔

ترک رہنماء کے متنازع بیانات اور موقف
اس بات میں بھی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کہ ایران، روس، شام اور عراق کی مدد حاصل کئے بغیر اکیلا ترکی امریکی منصوبوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن رجب طیب اردگان کبھی کبھار ایسی بیان بازیاں کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ممالک سخت خفا ہوجاتے ہیں اور ترکی اکیلا رہ جاتاہے۔ بطور مثال جب امریکہ نے شامی فوج کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا تو اردغان نے شام کی حمایت کرنے کے بجائے بشار الاسد کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی جبکہ ایران اور روس نے شام کی بھرپور حمایت کی اور امریکی اقدام کی سخت مذمت کرکے واضح کردیا کہ کسی بھی صورت میں امریکی منصوبے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ترکی تقسیم ہوسکتا ہے
اردگان ایران، روس، شام اور عراق سے مل کر امریکی منصوبوں کے خلاف کام کرے یا اکیلا سب سے زیادہ خطرات ترکی کو ہی لاحق ہیں۔بشکریہ تسنیم نیوز

یہ بھی دیکھیں

ماورائے عدالت قتل، فلسطینی اتھارٹی صہیونیوں کی راہ پر!

اگست 2016ء سے 2018ء کے دوران فلسطین میں پے درپے ایسے کئی واقعات رُونما ہوئے ...