جمعرات , 22 فروری 2018

فلسطینی تنازعہ:امریکی میڈیا بے نقاب

( محمد اسلم خان)

یروشلم تنازعے میں ‘غیرجانبدار اور روشن خیال’ امریکی میڈیا بے نقاب ہو رہا ہے۔ امریکہ میں خود کو ترقی پسند کہلوانے والا میڈیا اور قدامت پسند صحافت دونوں کا اسرائیل اور فلسطین پرموقف ایک ہے۔ دونوں کی زبان کا فرق ہے وگرنہ تصورات اور خیالات درحقیقت ایک ہی ہیں۔ امریکی مرکزی میڈیا میں اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کے اقدامات پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ ترقی پسندی کا لبادہ اوڑھے ’لبرلز‘ نے اخلاقی قدروں کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ یہ نام نہاد ترقی پسند پھیپھڑوں کا تمام تر زور ٹرمپ کے فیصلے کے چنائو پر صرف کررہے ہیں۔ اصل مدعا پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ غیرقانونی فیصلے پر آنکھوں اور زبان دونوں پر تالا پڑا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے کالم نگار تھامس فرائیڈمین ٹرمپ پر اس لئے برس رہا ہے کہ اس نے اپنے اعلان کو فلسطینیوں سے سودے بازی کیلئے زیادہ پرکشش اور ترغیب کا باعث کیوں نہیں بنایا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیتے۔ عالمی پایہ کے تجزیہ نگار کی شہرت رکھنے والے نے نوآبادیاتی لب ولہجہ میں امریکہ پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے دو مزید ناجائز قبضوں کو بھی تسلیم کر لے۔ ان میں سے ایک یروشلم ہے تو دوسرے نمبر وہ بڑے بڑے رہائشی بلاکس ہیں جنہیں صیہونی ریاست کے پھیلائو کیلئے آبادی کے بڑے حصوں سے باہر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ توسیعی کالونیوں کا حصہ ہے۔

فرائیڈ مین اس چرب زبانی میں اکیلا نہیں بلکہ طویل قطار میں کھڑا ایک لکھاری ہے۔ 1991ء سے عرب اسرائیل مذاکرات کے وقت سے ترقی پسندوں میں یہی رجحان مشاہدے میں آیا ہے۔ ترقی پسندی کو چسپاں کئے یہ نام نہاد ٹولہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کا حمایتی ہے۔ اپنی غیرجانبداری کا چورن بیچتے ہوئے ’’ توازن‘‘، ’’اعتمادسازی کے اقدامات‘‘، ’’دہشتگردی کے مقابلے‘‘ اور ’’امن کی خاطر‘‘ جیسی اصطلاحوں کا پوری بے شرمی سے سہارا لیتے ہیں۔ فرائیڈ مین جیسے پکے صیہونی نرم گفتاری کو ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ الفاظ کا ہیر پھیر اور ان کا مناسب استعمال انکی شخصیت کے اصل زہر کو چھپانے میں مددگار رہتا ہے۔ ان جیسے قلم کاروں کو اسرائیل کے ناجائز قبضے ، مظلوم فلسطینیوںکی نسل کشی یا ریاستی جبر سے کوئی سروکار نہیں۔ حالات وواقعات کی نقش گری پر وہ زیادہ متفکر نظرآنے کی تگ ودو میں رہتے ہیں۔ اسرائیلی جرائم کی حقیقت میں چشم پوشی ہوتی ہے۔

کٹر یا معتدل کی تقسیم سے قطع نظراس استدلال کے حامل افراد صیہونیوں تک محدو د نہیں۔ لبرلز کی اکثریت اسرائیلی’ سرکاری سچ‘من وعن تسلیم کرکے بڑی آسانی سے عالمی قانون کو نظرانداز کردیتی ہے۔ استثنیات سے ہٹ کر اس وقت امریکی میڈیا کا مرکزی دھارا اس حقیقت کو سراسر فراموش کرچکا ہے کہ یروشلم پر اس وقت فوجی قبضہ ہے۔ اس حقیقت کو بھی بھلادیاگیا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں بالخصوص 478کی خلاف ورزی ہے۔ قرارداد478 اور جینیوا کنونشن چہارم یروشلم پر اسرائیلی قبضے کو مسترد کرتے ہیں اور زیرقبضہ علاقوں میں آبادی کے تناسب میں جبری تبدیلی لانے پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کا ناجائز قبضہ کو نامنظورکرنا اور اپنے حق کیلئے جدوجہد کرنا غیرمنطقی جذباتی ردعمل کے طورپر ظاہر کیاجاتا ہے۔ میڈیا کے یہ شہ دماغ فلسطینیوں کے اس جذبہ سے خوف کشیدکرتے ہیں، انکے اس عزم کا احترام کرنے کو تیار نہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریہ میں دوٹوک انداز میں ٹرمپ کے دعویٰ کی حمایت کی۔ یروشلم کو صیہونی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر امریکہ کا تسلیم کرنا اس عالمی اخبار نے ’حقیقت کا اعتراف‘ قرار دیا۔ اخبار نے وضاحت کی کہ وہ مغربی یروشلم کے بارے میں خاص کر بات کر رہا ہے لیکن یہ جھوٹ گھڑتے ہوئے اس اخبار نے قاری کو یہ بتانے کی زحمت نہ کی کہ یروشلم کے مغربی حصے پر بھی اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی ہے۔ اسے کبھی جائز تسلیم نہیں کیاگیا۔ یہ ہی وہ عالمی حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا کے کسی بڑے ملک نے مغربی یا مشرقی یروشلم اپنا سفارت خانہ قائم نہیں کیا۔ فلسطین اور اسرائیل میں امن مذاکرات پر عالمی اتفاق رائے ہے کہ مشرقی یروشلم فلسطین اور مغربی یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیاجائے۔ یہ دوریاستی حل ہے۔ اس شہر کو دونوں اپنے اپنے دارالحکومت کے طورپر استعمال کریں۔ مغربی میڈیا اوراگرامریکی میڈیا کی بات کریں تو وہاں اور بھی زیادہ عام رجحان ہے جس میں فلسطینیوں کی جدوجہد اور انکے حقوق کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ اسرائیل کے مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت بھی ندارد۔ ان سفاکیوں اور ریاستی جبرواستبداد پر وہاں کی جمہوریت پر سوال نہیں اٹھایاجاتا۔

فرائیڈ مین نے خود کو اسرائیلی سٹوری کے ہر ہر موڑ سے آگاہ ’ گرو دیو‘کے درجہ میں خود کو متعارف کرایا۔ پس پردہ حقیقت یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ صیہونی تھنک ٹینکس کے ہاتھوں کی ایک پتلی ہے۔ ان تھنک ٹینکس میں سے ’واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ آف دی نیئر ایسٹ‘ کا زیادہ نام سامنے آیا ہے جس کے ارکان ڈینیس راس، مارک میکوسکی اور رابرٹ سیٹلوف نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے الفاظ پر زیادہ اثرات مرتب کئے ہیں۔ ٹرمپ کی تقریر کے موقع پر راس اور میکوسکی نے کھلے عام کہاکہ ٹرمپ کو سیدھا سیدھا کہنا چاہئے کہ یروشلم ہمیشہ اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا۔ راس کو ’اسرائیل کا وکیل‘ کا لقب اس وقت دیاگیا تھا جب وہ امریکی ایلچی کے طور پر اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن مذاکرات میں کردار ادا کر رہا تھا۔ میکوسکی سابق صدر اوبامہ کا سابق مشیر ہے۔ ان دونوں نے ٹرمپ کی تقریر میں بڑی احتیاط سے ایسے الفاظ چن کر شامل کئے جس سے نام نہاد امن کے عمل کی راہ استوار رہے۔ اسکے ساتھ ہی ساتھ عرب اور عالمی ردعمل بھی نرم رہے۔ یہ دونوں اگرچہ غلط ثابت ہوئے لیکن یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا بذات خود کوئی غلط نہیں، اس تصور کو مزید راسخ کرنے کا کام ان دونوں نے کر دکھایا ہے۔ امریکی صدر نے مشرقی یروشلم کے درجہ کو مبہم رکھ کر مذاکرات کا دروزاہ کھلا چھوڑا ہے۔

ملاحظہ فرمائیں فرائیڈمین ڈینیس راس کا حوالہ دے کر کہتا ہے کہ جب (موجودہ صیہونی ناجائز) آبادی کے بلاکس سے باہر تعمیرات روکتے ہیں تو دو ریاستی حل کا امکان غالب حد تک اپنی جگہ برقرار رہتا ہے اور اس سے فلسطینیوں سے اسرائیل کو الگ کرنے کی صلاحیت کم سے کم ہوکر رہ جاتی ہے۔ فلسطینی آبادی والے گنجان علاقوں میں تعمیرات جاری رکھیں جو تقسیم کے عمل کو ناممکن بنادے۔ یہی وہ شخص تھا کہ جس نے مغربی کناے اور مشرقی یروشلم میں ناجائز بستیوں کی تعمیر کو ’یہودی پڑوس‘ کی اصطلاح کا رنگ دیا۔ یہ فلسطینی اراضی پر اسرائیلی نوآبادیاتی جھوٹ کو جائز قرار دینے کی مذموم کوشش کہا جا سکتا ہے۔ اب یہ شخص ٹرمپ کو اپنے اعلان کو باضابطہ امریکی پالیسی بنانے کیلئے کہہ رہا ہے۔

امریکی بڑے اخبارات کے لبرل گردانے جانے والے کالم نگار نسل پرستی کی بدترین مثال بن چکے ہیں۔ ان کا ایک ہی سبق ہے کہ امن عمل کی موت ہوچکی ہے۔ انتہاپسندی سے ڈرانا ان کا دوسرا تیر ہے جسے وہ خوب خوب چلاتے رہتے ہیں۔ انتہاء پسندی اور حملوں کا خوف دلانے کے شور میں فلسطینیوں کے جائز حقوق اور ان پر مظالم کی تمام حقیقتیں غائب ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ہی سکے کے رخ ہیں۔

ویتنام، الجیریا، جنوبی افریقہ ،مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر آزادی کی جدوجہد کرنیوالی اقوام کی طرح فلسطین کے مستقبل کا تعین بھی ذاتی مفادات کے پجاری پنڈتوں نے نہیں کرنا۔ آزادی اور انصاف کی جنگ ایسے جغادریوں اورجھوٹ پر پلنے والوں کو روند کر تاریخ میں راستہ بناتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نماز اور اذان پر تنقید کرنے والا سعودی دانشور گرفتار

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں ایک سرکردہ صحافی اور تجزیہ نگار کو نمازپر تنقید ...