جمعرات , 22 فروری 2018

بن سلمان کی تشکیل کردہ ’’السیف الاحرب‘‘ بریگیڈ کیا ہے؟

(تسنیم خیالی)
ایک روسی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ماتحت ’’السیف الاحرب‘‘نامی بریگیڈ جس نے حال ہی میں شاہی محل کے سامنے احتجاج کرنے والے شہزادوں سے نمٹ کر ان میں سے 11 کو گرفتار کیا تھا،دراصل حساس اور انتہائی مشکل قسم کی کارروائیوں پر مامور ہے اور اس بریگیڈ میں بیشتر غیر ملکی کرائے کے قاتل شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ بریگیڈ غیر معمولی کاموں پر مامور ہے اور ایک انوکھی فورس ہے جن کے افراد بن سلمان کی خدمت کے بعد کسی اور ملک میں بھی کرائے پر کام کرسکتے ہیں۔

روسی اخبار نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’السیف الاحرب‘‘ بریگیڈ کے افراد نے ہی گزشتہ نومبر میں بن سلمان کے حکم پر کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات میں الولید بن طلال سمیت متعدد شہزادوں ،سابقہ اور موجودہ سرکاری عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کیا تھا۔

اخبار کے بقول یہی غیر ملکی افراد گرفتار شخصیات پر نظر رکھنے، ان سے پوچھ گچھ اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے پر مامور ہیں اور ان غیر ملکی عناصر میں امارات کی ’’آلیو گروپ‘‘نامی سیکورٹی کمپنی کے عناصر شامل ہیں۔(نیز بلیک واٹر کے عناصر بھی ’’الیسف الاحرب‘‘ میں شامل ہیں)۔

اخبار کا مزید کہنا ہے کہ سیف الاحرب بریگیڈ میں شامل بیشتر عناصر امریکی شہریت کے حامل ہیں اور ان عناصر پر صرف ہونے والی رقم حتمی طور پر انہی پیسوں سے دی جاری ہے جو گرفتار ہونے والے متعدد افراد کو آزاد کرنے کے عوض ہتھیائے گئے تھے۔

روسی اخبار کا مزید کہنا تھا کہ غیر ملکی عناصر پر مشتمل السیف الاحرب بریگیڈ سعودی رائل گارڈز کا حصہ ہیں جو شاہی محل اور ولی عہد محمد بن سلمان کی حفاظت پر مامور ہے،اس بریگیڈ کو محمد بن سلمان نے اپنے والد کے اقتدار میں آنے کے بعد تشکیل دیا تھا جبکہ اس بریگیڈ میں شامل افراد کی تعداد 5000 ہے جو مختلف قسم کے عسکری رینکوں پر فائز ہیں۔

رہی بات السیف الاحرب کے معنی کی تو السیف الاحرب ایک سعودی تلوار ہے جسے آل سعود کے اجداد میں سے ایک سعود بن فیصل بن ترکی بن عبداللہ نے 1286ء ہجری میں بحرینی حکمران شیخ عیسیٰ بن خلیفہ کو تحفے میں پیش کی تھی (بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تلوار محمد بن فیصل بن ترکی نے شیخ عیسیٰ بن خلیفہ کو دی تھی)۔تب سے یہ تلوار بحرین میں ایک حکمران سے دوسرے حکمران کے ہاتھ میں گئی اور بالآخر 2010ء میں موجودہ بحرینی فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ’’الیسف الاحرب‘‘ تحفے میں سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کو دی اور اب یہ تلوار موجودہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی ملکیت میں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عراق: داعش سے منسلک ترک خاتون کو پھانسی اور دیگر 10 کو عمر قید

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراقی عدالت نے داعش سے منسلک ترک خاتون کو سزائے موت کا ...