بدھ , 24 اکتوبر 2018

شام سے ملحقہ سرحدپرترک فوج کی تعدادمیں اضافہ

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترکی کی افواج نے اپنی سرحدوں کے قریب شام سے متصل علاقوں میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور عفرین میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔

ترک میں میڈیا کےمطابق ترک فوج کے دستے جنوب مشرقی صوبے شانلی اورفہ پہنچ گئے ہیں۔ یہ دستےغازی عنتاب کی جانب روانہ ہونگے۔اس کے علاوہ جنوبی صوبے ہتائے میں بھی فوجیوں کو لے جانے والی بکتربند گاڑیاں عسکری ساز و سامان کے ساتھ پہنچ چکی ہیں۔

ترکی کا یہ منصوبہ امریکا کے زیر قیادت داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے سرحدی فورس کی تشکیل کے بعد سامنے آیا ہے، اس فورس کی سربراہی کرد گروپوں کے پاس ہے۔

ترکی کے صدر نے بین الاقوامی اتحاد کے اس اقدام کو باعثِ تشویش اور ناقابل قبول قرار دیا۔مذکورہ فورس 30 ہزار ارکان پر مشتمل ہو گی جن میں کم از کم نصف کا تعلّق سیریئن ڈیموکریٹک فورسز سے ہے۔ اس فورس کو ترکی اور عراق کے ساتھ شام کی سرحدوں پر تعینات کیا جائے گا۔

اسی طرح بین الاقوامی اتحاد اس فورس کی تربیت کی ذمّے داری سنبھالے گا اور ان کرد گروپوں کو تیار کرے گا جو شام ترکی سرحد پر چیک پوائنٹس کے انتظامی امور سنبھالیں گے۔ اس سرحد کی لمبائی 820 کلومیٹر ہے۔دوسری جانب ترکی کی فوج کے توپ خانوں نے عفرین میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے دھمکی دی تھی کہ ان کے ملک کی سرحد کے نزدیک مسلح کردوں کی موجودگی قبول نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

خاشقجی قتل: سعودی پالیسیوں کے ناقد، سعودی شہری، خوف کا شکار

واشنگٹن (اسلام آباد) جمال خاشقجی کے سعودی قونصل خانے میں قتل کے بعد دوسرے ممالک ...