جمعرات , 22 فروری 2018

دورہ بھارت سے نیتن یاہو کے مقاصد اور ماحصل

نیتن یاہو انڈیا سے تعاون کو بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے علاوہ انڈیا کے فوجی آلات کو اسلامی مزاحمت کی کاروائیوں کو روکنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے قدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کرنے کے بعد نیتن یاہو کا یہ پہلا دورہ تھا، وہ اسرائیلی معیشت کے لیے پریشان ہیں کیونکہ پہلے اور دوسرے انتفاضہ کے دوران اسرائیلی معیشت 6+ سے 6- تک پہنچ گئی تھی، اور اب تیسرے انتفاضہ جو مسلح جنگ پر بھی مشتمل ہے، اس سے اسرائیلی معیشت پر کیا اثرات پڑینگے اس کا اندازہ زیادہ مشکل نہیں۔

فلسطین کے اندر سے عربوں کی جانب سے 1948 کی سرزمين کا مطالبہ، دوسری جانب یہودی مہاجرین کی جناب سے سڑکوں پر احتجاج کی وجہ سے اسرائیلی معیشت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں ،اس لیے وہ انڈیا سے معاشی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

اسرائیل، انڈیا سے دفاعی تعاون بھی بڑھا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی میزائل سسٹم کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے اس لیے ختم کیئے گئے ہیں کہ اسرائیل اس سے پہلے امریکی مصنوعات کی ٹیکنالوجی کی جاسوسی کرتا رہا ہے، اور اگر انڈیا بھی میزائل سسٹم میں اسرائیل سے تعاون کرے تو ممکن ہے انڈیا کی ٹیکنالوجی کو اسرائیل میں استعمال کیا جائیگا۔

نیتن یاہو انڈیا سے تعاون کو بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے علاوہ انڈیا کے فوجی آلات کو اسلامی مزاحمت کی کاروائیوں کو روکنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے، اس وجہ سے پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کی جانب سے انڈیا پر دباؤ بڑھ جائیگا، اور ممکن ہے کہ پاکستان فوجی اور مالی طور پر اسلامی مزاحمت کا ساتھ دے، کیونکہ انڈیا کا سب سے بڑا دشمن یعنی کہ پاکستان، اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن یعنی ایران کے قریب تر ہوجائیگا۔ اس وجہ سے انڈیا نے دفاعی میزائل پروگرام کے معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔اسرائیل بھی چین اور انڈیا کے ساتھ تجارت بڑھا کر آئندہ کے معاشی بازار میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔بشکریہ شفقنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

پیڑول اور ڈیزل کی اصل قیمت کیا ہے؟

پیٹرول اور ڈیزل کی اصل قیمت کیا ہےاور حکومت فی لیٹر پیٹرول کی فروخت پر ...