جمعہ , 25 مئی 2018

بھارت کافریبِ نظر

(عارف بہار)
خطے کی موجودہ کشیدہ صورت حال میں پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین ایک بار پھر جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کے بیانات کا تبادلہ ہوا ہے ۔یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت ایک دھوکا ہے حکومت نے حکم دیا تو بھارتی فوج پاکستان کے اندر داخل ہوکر کارروائی کرے گی۔جس کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قراردیا اور کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار صرف بھارت کے لئے ہیں اور ہمارے قابل بھروسہ جوہری ہتھیاروں نے ہی بھارت کو کسی مہم جوئی سے روک رکھا ہے ۔بھارت ہمارے عزم کو آزمانا چاہتا ہے توآزما لے اس کا نتیجہ وہ خود دیکھ لے گا۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ تبصرہ کیا کہ بھارت ہمارے عزم کو آزمانا چاہتا ہے تو بخوشی آزمالے۔بھارتی آرمی چیف کے بیان پر بھارت کے اندر بھی بہت سے طبقات نے خوشی کا اظہار نہیں کیا بالخصوص وہ سرمایہ دار طبقہ جن کے لاکروں اور تجوریوں کی رونقیں ہی امن اور علاقائی استحکام سے وابستہ ہیں کس طرح چاہیں گے کہ دو ملکوں کے درمیان جوہری تصادم ہوجائے اوران کی سرمایہ کاری ڈوب جائے ۔یوں بھی ایٹمی جنگ کوئی کھیل نہیں ہوتا ۔اس جنگ کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کو دیکھنا ہو تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی کو دیکھنا چاہئے ۔یہ اس زمانے کی یادگار ہیں جب ایٹم بم زیادہ مہلک اور تباہ کن نہیں ہوتے تھے ۔اب تو ایٹم بم کے استعمال کا مطلب ایک وسیع وعریض رقبے پر قیامت برپا ہونا ہے۔

پاکستان نے ایٹم بم کی تیاری کا کام شوقیہ طور پر شروع نہیں کیا بلکہ عالم مجبوری میں پاکستانیوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر ایٹمی طاقت حاصل کرنے کی تگ ودو شروع کی ۔ اس خواہش کا واحد محرک بھارت کا جارحانہ رویہ تھا ۔بھارت نے پاکستان کو دولخت کرکے ثابت کیا کہ پاکستان کا خوف بے سبب نہیں تھا ۔بھارت کو جب بھی موقع ملتا پاکستان کے باقی حصے پر بھی مہم جوئی سے باز نہ رہتا ۔اسی لئے پاکستان نے ایٹمی طاقت کے حصول کا فیصلہ کیا اور ایک مختصر عرصے میں یہ معجزہ کر دکھایا ۔ بھارت کو پاکستان پر جارحیت کی دوبارہ جرأت نہ ہو سکی ۔بھارت کی اس مشکل کو آسان بنانے کے لئے عالمی طاقتیں پاکستان کے ایٹم بم کے پیچھے لگی ہوئی ہیں ۔پاکستان باربار کہتا چلا آیا ہے کہ اس کی جوہری صلاحیت جارحیت کے لئے نہیں بلکہ دفاع کے لئے ہے ۔بھارت پاکستان کی جوہری طاقت کو ایک فریب اور سراب کہہ کر ایٹمی جنگ کے خطرات کو مزید بڑھا رہا ہے ۔

پاکستان کے اندر داخل ہونے کے اسی فریب اور دھوکے میں بھارت کے فوجی جنرل کہیں خطے کو تباہ نہ کروا بیٹھے ۔ بیانات کے انہی تیروں کے درمیان بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر کوٹلی سیکٹرجندروٹ میں کمیونیکیشن لائن کی مرمت کرنے والے پاک فوج کے جوانوں پر بلااشتعال فائرنگ کی جس میں چار جوان شہید ہوگئے ۔پاک فوج کی جوابی فائرنگ سے تین بھارتی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے اس جارحیت کے خلاف احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوٹلی سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے ۔

کنٹرول لائن پر جارحیت کا تازہ واقعہ قطعی نیا نہیں بلکہ کشمیر کی کنٹرول لائن مسلسل کشیدگی کا مرکز چلی آرہی ہے جہاں آئے روز تصادم کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔فوجوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تو معمول کی بات ہے مگر بھارتی فوج عام آبادی کو بھی فائرنگ اور گولہ باری کا نشانہ بناتی ہے۔خواتین اور بچے بھی اس سفاکی سے محفوظ نہیں رہ سکتے ۔بھارت اس وقت کسی اور کندھوں پر سوار ہو کر مہم جوئی کے خواب دیکھتا ہے ۔وہ کندھا کسی اور کا نہیں پاکستان کے ساتھ دوستی اور تعلق کے دعوے دار امریکہ کا ہے ۔

چند دن قبل ہی دہلی میں سی آئی اے چیف کے دورے کی خبر آئی تھی اور ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان سی آئی اے چیف کی دہلی میں سرگرمیوں سے آگاہ ہے ۔سی آئی اے چیف اس وقت بھارت میں کیا کرنے آئے تھے ؟یہ زیادہ مشکل سوال نہیں ۔اس وقت امریکہ اور بھارت سٹریٹجک اتحاد کی ڈور میں بندھ چکے ہیں ۔سٹریٹجک اتحاد اور شراکت داری کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے دوست اور دشمن یکساں اور مشترک ہو چکے ہیں ۔پاکستان اس وقت بھارت کے ساتھ کئی محاذوں پر حالت جنگ میں ہے۔گویا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت دشمنی کا تعلق ہے ۔دونوں کے درمیان سرد جنگ اور کشیدگی فریز ہی نہیں بلکہ باقاعدہ تصادم بھی جاری ہے ۔اس لئے امریکہ بھی پاکستان کو دبائو میں لانے کے لئے بھارت کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکہ پاکستان پر براہ راست جارحیت اورسلالہ جیسی کسی کارروائی کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس طرح پاکستان افغان فوج کی رسد کی صورت اس کی شہ رگ کاٹنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔اس لئے امریکہ بھارت کے ذریعے پاکستان کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کراسکتا ہے مگر امریکہ اور بھارت دونوں یہ بات فراموش کررہے ہیں کہ یہ 1971ء کا زمانہ نہیں بلکہ آج پاکستان جارحیت کے مقابلے کے لئے پوری طرح کیل کانٹے سے لیس ہے ۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایران سے متعلق امریکہ کی 12 حسرتیں

(آئی اے خان) امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے 21 مئی کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں ...