جمعہ , 25 مئی 2018

عادل الجبیر ماموں نہ بنیں اور اپنے کام سے کام رکھیں

(تسنیم خیالی)
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر آئے روز اپنے بیانات کے باعث مذاق کا باعث بنتے رہتے ہیں ،ان بیانات میں وہ اکثر ایران کو نشانہ بناتے ہوئے ایران پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرتے دکھائی دیتے ہیں ،بعض اوقات اپنے بیانات کے باعث یوں لگتا ہے کہ الجبیر یا تو اپنی اوقات بھول گئے ہیں یا پھر بھولا بننے کی کوشش کرتے ہوئے لوگوں کو بےوقوف بنا رہے ہیں۔

اس قسم کا ایک بیان موصوف نے حال ہی میں بیلجیم میں اپنے بیلجیم ہم منصب ’’دیدیہ رینڈرز‘‘ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دیا۔الجبیر کہتے ہیں کہ ایران کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ آیا ایک انقلاب ہے یا ایک ریاست ،اگر وہ انقلاب ہے تو ہم اس سے نمٹنا جانتے ہیں اور اگر وہ ریاست ہے تو اسے عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پڑوسی ممالک کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنی چاہے اور دہشت گردی کی حمایت اور سرپرستی سے اجتناب کرنا چاہیے۔

الجبیر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ایران کے لیے واضح پیغام ہے کہ اس کا رویہ قابل قبول نہیں۔الجبیر نے اپنے بیلجیم ہم منصب کے ساتھ ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی موقف کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس معاہدے میں ترامیم کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے تو الجبیر کو اس بات کی یاد دہانی کرانی چاہیے کہ ایران اسلامی انقلاب کی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ایک ریاست ہے،البتہ الجبیر کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ پتہ لگائیں کہ سعودی عرب کیا ہے؟ریاست،بادشاہت،بن سلمان کی جاگیر یا کچھ اور۔

اس کے علاوہ الجبیر ایران سے نمٹنے کی دھمکی دے رہے ہیں جو کہ انتہائی گرا ہوا لہجہ ہے ،ایران سے نمٹنے کی تو دور کی بات آپ پہلے سعودی عرب پر داغے جانے والے یمنی میزائلوں سے نمٹ لیں!

علاوہ ازیں پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے سلوک اور رویے کی ضرورت تو اس وقت ایران کو نہیں بلکہ سعودی عرب کو ہے،ایران کے اپنے آس پاس ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ،البتہ سعودی عرب ایک پڑوسی ملک (یمن) کے خلاف تین سال کے قریب عرصے سے جنگ لڑ رہا ہے ،بےگناہ یمنیوں کا قتل عام کر رہا ہے جبکہ دوسرے پڑوسی (قطر) کا غیر انسانی ،غیر اخلاقی اور غیر قانونی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی بات کی جائے تو اس وقت سعودی عرب (بلاشبہ اپنے اتحادی امریکہ کے بعد) دیگر ممالک کی اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے جس کی مثالیں ہمیں عراق،شام ،لبنان ،نائجیریا،لیبیا،بحرین اور دیگر کئی ممالک سے ملتی ہیں۔جہاں مداخلت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب نے ان ممالک میں سے کچھ میں دہشت گردی کی پشت پناہی کی تو بحرین میں عوام کی مخالفت میں ظالم نظام کی حمایت کی۔

الجبیر پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس قسم کا سعودی سلوک یورپی دنیا کو قابل قبول نہیں۔اب رہی ایرانی جوہری معاہدے کی بات تو یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان طے نہیں پایا گیا تھا ،اس معاہدے میں دیگر 5 ممالک بھی شامل تھے جن میں سعودی عرب شامل نہیں،یہ پانچ ممالک ایرانی جوہری معاہدے کی مکمل حمایت کررہے ہیں اور اس معاہدے میں امریکی خواہشات پر مبنی کسی بھی قسم کی ترمیم کی حمایت نہیں کررہے تو پھر آپ اس معاملے میں بولنے والے کون ہیں؟

ماموں نہ بنیں اور اپنے کام سے کام رکھیں!!!

یہ بھی دیکھیں

ایران سے متعلق امریکہ کی 12 حسرتیں

(آئی اے خان) امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے 21 مئی کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں ...