منگل , 21 اگست 2018

اسرائیل-بھارت گٹھ جوڑ ’دوزخ میں ہوا یا جنت‘ میں؟

(عرفان حسین)
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے چار روزہ بھارتی دورے کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کی ‘شادی جنت میں طے’ پائی تھی لیکن گزشتہ دنوں تہران کے دورے پر پاکستان کے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کا گٹھ جوڑ دوزخ میں ہوا تھا۔انہوں نے امریکا، اسرائیل اور بھارت کے گٹھ جوڑ کو مسلم ممالک کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

رضا ربانی کو اس گٹھ جوڑ میں سعودی عرب کو بھی شامل کرنا چاہیے تھا، سعودی حکام کے جملوں اور کردار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست پر محض لفظی باتیں کرکے اسرائیل کی خاموشی سے مدد کررہے ہیں۔

اسی دوران فلسطین کے صدر محمود عباس پر دباؤ بڑھایا گیا کہ وہ امریکی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا دارالحکومت بیت المقدس سے منتقل کرکے تل ابیب لے جائیں، سعودی شہزادے محمد بن سلمان کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں وہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی ہمدردیاں کس جانب مائل ہیں۔

عرصہ دراز سے بھارت اور صیہونی ریاست کے مابین سفارتی و تجارتی تعلقات قائم ہیں، لاکھوں اسرائیلی سیاح ہر سال بھارت آتے ہیں، اس وقت امریکا اور روس کے بعد اسرائیل تیسری بڑی ریاست ہے جو بھارت کو اسلحہ فراہم کررہی ہے لیکن بھارتی حکومت نے بیت المقدس کے معاملے پر فلسطین کی حمایت پر اسرائیل سے تھوڑا فاصلہ اختیار کیا۔

نیتن یاہو کا پر جوش استقبال اور اس کے دورے پر کسی قابل ذکر احتجاج کے نہ ہونے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بھارت میں رائے عامہ کی سوچ میں بڑی تبدیلی آچکی ہے۔

ظاہر ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات میں تبدیلی رونما ہوئی ہے، اسرائیل بہت ہی جدید ترین ہتھیار بنانے اور برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور گزشتہ برس اس کا جدید اسلحہ کا برآمدی حجم 6 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورے میں انٹی ٹینک میزائل پر مشتمل 50 کروڑ ڈالر کے معاہدے کیے، اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے بھارت کو مقامی سطح پر میزائل بنانے کے حوالے سے بھی پیش کش کی تھی جو یقیناً بھارت کے لیے زیر غور ہوگی، اسرائیل نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف خصوصی آپریشن کی ٹریننگ دینے کی بھی پیش کش کی تھی۔

بھارت کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کے حوالے سے رضا ربانی نے واضح موقف اختیار کیا، یقیناً سعودی عرب امریکا کو خوش کرنے کے لیے تل ابیب پر خصوصی مہربان ہے، جیسا کہ مشرق وسطیٰ میں کسی نے کہا تھا کہ ‘واشنگٹن کا راستہ اتل ابیب سے گزر کر جاتا ہے’۔

جب باراک اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کیے تو اس سے سعودی حکمران خاندان کو شدید جھٹکا لگا لیکن پھر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابق ہم منصب کی پالیسیوں کو رد کرتے ہوئے تہران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دی جو طویل کوششوں کے بعد جرمنی، فرانس، برطانیہ، روس، چین اور اقوام متحدہ کے مابین طے پایا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا تہران مخالف بیان اسرائیل اور سعودی عرب کے لیے کانوں میں موسیقی کی طرح ثابت ہوا، دونوں ہی ممالک اس بات سے پریشان تھے کہ کسی طرح امریکا، تہران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان مخالف بیان آنے کے بعد بھی پاکستان، چین اور سعودی عرب کے بارے میں سوچتے رہے کہ وہ ہمارے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں گے لیکن انہیں نیند سے بیدار ہو جانا چاہے۔

سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل اور امریکا کی حمایت کا مطلب یہ ہی ہے کہ وہ بھارت کے قریب ہے۔

بھارت کو کسی بھی نوعیت کا فائدہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے اور کچھ اسی طرح پاکستان کی کامیابی بھارت کی ناکامی تصور کی جاتی ہے، چاروں ممالک کو پس پردہ ایک دوسرے کا حمایتی ہونا پاکستان کے لیے بدترین نقصان کی طرح ہے۔

اسی دوران چین، بھارت کو پیچھے کی طرف دھکیلنے کے لیے پاکستان کی مدد جاری رکھے گا، اس کا مطلب بلینک چیک کا اجزا نہیں بلکہ پاک بھارت محاذ آرائی میں اسے استعمال کیا جائے گا۔

سفارتی کاری کا ایک مقصد مخالف طاقتوں کو الجھائے رکھنا اور انہیں ڈیفنس لائن سے دور رکھنا ہوتا ہے اس تناظر میں پاکستان بدترین شکست سے دوچار ہے۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ عالمی سطح پر کشمیر کے معاملے پرکوئی سپورٹ حاصل نہیں ہو سکی۔

یقیناً اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کو خطے میں انفرادی حیثیت کا حامل ملک سمجھا جانے لگا ہے اس کے برعکس پاکستان ایسا ملک قرار پایا جہاں جہادیوں کو دعوت دی جاتی ہے اور دہشت گردانہ نظریات پروان چڑھتے ہیں۔

حافظ سعید اس کی تازہ مثال ہے، جنہیں ممبی حملے کا ماسٹر مائینڈ سمجھا جاتا ہے اور وہ گزشتہ 10 برسوں سے اسلام آباد کی آزاد فضاؤں میں گھوم رہے۔

دہشت گرد عناصر کے سدباب کے لیے ہماری نااہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے چین بھی کچھ افسردہ ہے، پاکستان میں چینی انجنیئروں اور ورکرز کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں موصول ہوتی ہیں۔

بیجنگ نے یقیناً متعدد مرتبہ پاکستانی حکام کو تجویز دی ہوگی کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے سنجیدہ کوشش کی جائے بصورت دیگر پاک چین اقتصادی راہدری (سی پیک) کو خطرہ لاحق ہو سکتے ہیں۔

نواز شریف سے متفق ہونا ضروری نہیں لیکن جب وہ کہتے ہیں کہ اداروں کو درست سمت میں کرنے کی ضرورت ہے، تو وہ اس میں حق بجانب ہیں، سعودی عرب اور چین بھی اپوزیشن نہیں چاہتے، لیکن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت کن بنیادوں پر مخالف جماعتوں کو جب چاہیں احتجاج کی اجازت دے دیتی ہے اور وہ ملک میں نقل و حرکت کو مفلوج کردیتے ہیں جبکہ امریکا جیسا ملک بھی احتجاجی مظاہروں کو پسند نہیں کرتا۔

ہماری اپنی سیاسی منطق ہے اور اسی وجہ سے دنیا سے کٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اس ضمن میں صرف سفارت خانہ قصور وار نہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ خارجہ اور سیکیورٹی پالیساں بھی ملٹری اسٹیشبلمنٹ کے بغیر ترتیب نہیں پاتیں، جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

ہمارے سیاستدان اور ناقدین کہتے ہیں کہ امریکی امداد بند ہونے سے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے ہمیں وہ عسکری ٹیکنالوجی دی ہے جو چین بھی نہیں دے سکتا، دوسری جانب بھارت، اسرائیل اور روس سے جدید ہتھیار لے رہا ہے۔

پریشان کن اقتصادی حالت کے باوجود بھی ہم پڑوسی ممالک سے اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور ہم اس کے متحمل ہو سکتے ہیں جبکہ ہماری سفارتکاری کے جوہر بھی کام کر سکتے ہیں۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

ماورائے عدالت قتل، فلسطینی اتھارٹی صہیونیوں کی راہ پر!

اگست 2016ء سے 2018ء کے دوران فلسطین میں پے درپے ایسے کئی واقعات رُونما ہوئے ...