اتوار , 25 فروری 2018

امریکہ قزاقستان میں کیا چاہتا ہے؟

قزاقستان کے صدر «نورسلطان نظربایف» نے امریکہ کے دورے کے دوران ٹرمپ کے ساتھ 20 تجارتی معاہدے کیے ہیں۔دونوں سربراہان نے قزاقستان کی خودمختاری اور صلح میں اس ملک کے کردار پر تاکید کی ہے اور قزاقستان C5+1 کے فارمیٹ کے ذریعے ایشیاء کے مسائل میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

ٹرمپ نے بھی قزاقستان کی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی 2017 سے 2018 کی سربراہی میں ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔

نظربایف اور ٹرمپ نے شمالی کوریا کے غیر قانونی ایٹمی پروگراموں پر اعتراض کیا ہے اور قزاقستان میں عالمی ایٹمی ادارے کی پرامن انریچمنٹ کے ذخیرہ کی حمایت کی ہے۔

قزاقستان کی جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسیوں کی حمایت:
ٹرمپ نے قزاقستانی صدر کی امریکی حمایت اور افغانستان میں قزاقستان کی امن کی کوششوں کی تعریف کی اور شام کے مسائل میں آستانہ میں کردار اور انسانی ہمدردی کے سرگرمیوں کو بھی سراہا گیا۔

دفاعی اور سیکیورٹی مسائل میں تعاون:
دونوں سربراہان نے دفاعی تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے اور اس دورے میں پانچ سال فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے ہیں۔

معاشی امور میں تعاون کا اعلان:
نظربایف اور ٹرمپ نے دونوں ممالک میں معاشی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔اس سفر میں دونوں ممالک میں 20 تجارتی معاہدے ہوئے ہیں، جس میں فضائی تعاون، عدالتی تحقیقات، پیٹروکیمیکل، زرعی آلات، انفراسٹرکچر وغیرہ شامل ہیں۔ جس کی لاگت تقریباً 7 ارب ڈالر ہے۔

اسی سلسلے میں روسی وزیر خارجہ «سرگئی لاوروف» نے کہا ہے کہ امریکہ C5+1 سے تعاون کے بہانے ان ممالک کو استعمال کرنا چاہتا ہے.

انہوں نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ ممالک کے تعلقات باہمی تعاون اور احترام پر مبنی ہو، ہمارے پاس معلومات ہیں کہ امریکہ مرکزی ایشیائی ممالک کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، جیساکہ چین کے پڑوسی ممالک کو استعمال کر رہا ہے۔

مرکزی ایشیاء روس کے بغیر:
لاوروف نے کہا: اگر امریکہ ان ممالک کے سربراہان سے مضبوط مرکزی ایشیاء کی بات کر رہا ہے جس میں روس شامل نہیں ہوگا، تو اس کام سے امریکہ ان ممالک کی معیشت کو مضبوط نہیں کر رہا بلکہ اپنے علاقائی مفادات حاصل کر رہا ہے، جبکہ روس کے پیش کیے ہوئے منصوبوں سے ان ممالک کے آپس میں تعلقات میں اضافہ ہوگا، جیسے ازبکستان میں «شوکت میرضیایف» کے صدر بننے کے بعد سابق سوویت یونین کے ممالک میں تعاون بڑھا ہے۔بشکریہ IVUMPنیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا شاہد خاقان عباسی نوازشریف سے بہتر وزیراعظم ہیں؟

کیا شاہد خاقان عباسی نوازشریف سے بہتر وزیراعظم ہیں؟