جمعرات , 22 فروری 2018

’ماورائے عدالت قتل‘ ازخود نوٹس کیس: راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات کیس کے دوران کراچی کے معطل سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کا تذکرہ ہوا تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس کیس کے لیے مقرر کرتے ہوئے راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس کا نوٹس لیا جس میں بتایا گیا تھا کہ گذشتہ ہفتے کراچی کے علاقہ شاہ لطیف ٹاؤن میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کے مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاکت کے الزام میں ملیر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راؤ انوار کو معطل کردیا گیا جبکہ وہ واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سامنے بھی پیش نہیں ہورہے۔

رپورٹس میں مقتول کے ایک قریبی عزیز کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پولیس نے نقیب اللہ کو 2 جنوری 2018 کو اس کی دکان سے حراست میں لیا تھا اور بعد ازاں ایک جعلی مقابلے میں اسے قتل کردیا گیا۔

چیف جسٹس نے ابتدا میں کیس کی سماعت بدھ کے روز (24 جنوری 2018) کے لیے مقرر کی تھی تاہم راؤ انوار کی جانب سے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد چیف جسٹس نے وقفے کے بعد کیس کی سماعت کی اور نئی ہدایات جاری کردیں۔

نئی ہدایات کے مطابق کیس کی سماعت کراچی رجسٹری میں 27 جنوری 2018 کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کرے گا جس میں آئی جی سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ، تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کو پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا جبکہ راؤ انوار کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

اس کے علاوہ چیف جسٹس نے راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم بھی دے دیا۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ راؤ انوار کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو رہے۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ماضی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت گری تو اس کی ایک وجہ ماورائے عدالت قتل بھی تھے۔

اس موقع پر وکیل طارق اسد نے عدالت سے کہا تھا کہ راؤ انوار کے معاملے پر از خود نوٹس لیا گیا لیکن پورے ملک میں ایسے مقابلے ہورہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تمام اقدامات بنیادی انسانی حقوق کے لیے کئے جبکہ سپریم کورٹ اپنا دائرہ اختیار خود طے کرے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی تکریم کبھی کم نہیں ہونے دیں گے اور وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گڑے مردے مت کھودیں اگر یہ ادارہ نہ رہا تو آپ کے بچوں کو انصاف کون دے گا۔

اس سے قبل اسلام آباد کے بینظیر انٹر نیشنل ایئرپورٹ کے ذرائع کے مطابق سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار گزشتہ شب اسلام آباد سے ای کے 615 کی پرواز سے دبئی فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم امیگریشن کاؤنٹر پر ایف آئی اے کے عملے نے بیرون ملک جانے سے روک دیا اور ان کی بیرون ملک فرار کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔

اس معاملے پر معطل ایس ایس پی راؤ انوار نے بات چیت کرتے ہوئے ان کے ملک سے فرار ہونے کی خبریں بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیا پر دبئی فرار سے متعلق غلط خبریں چلائی جارہی ہیں اور ’میں بالکل ٹھیک ہوں‘۔

سابق ایس ایس پی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روز بھی ان کے گھر پر پولیس کے چھاپے کی خبر چلائی گئی تھی جو غلط ہے اور ’آج میرے دبئی فرار ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے کی غلط خبر چلائی جارہی ہے‘۔

تاہم ذرائع کے مطابق ایف آئی اے عملے نے راؤ انوار کو یہ کہہ کر دبئی جانے سے روک دیا کہ ان کے خلاف نقیب اللہ محسود کے قتل کی تفتیش جاری ہے لہٰذا جب تک یہ تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی وہ بیرون ملک نہیں جاسکتے۔

ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو امیگریشن آرڈر 506 کے تحت روکا گیا، تاہم انہیں کسی ادارے نے حراست میں نہیں لیا جبکہ اس وقت تک معطل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا نام ابھی تک ای سی ایل میں شامل نہیں تھا۔

خیال رہے کہ 19 جنوری 2018 کو چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے قتل کا از خود نوٹس لیا تھا۔چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس سے 7 روز میں واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

شریف خاندان کی نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی چیمبر اپیل مسترد

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے شریف خاندان کی نیب ریفرنسز یکجا کرنے ...