اتوار , 17 نومبر 2019

یمن میں امارات اور سعودی عرب آمنے سامنے! آخر ہو کیا رہا ہے؟

(تسنیم خیالی)
یمن کے جنوب میں واقع ساحلی شہر عدن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ فوجیوں کے درمیان گزشتہ چند دنوں سے شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں اب تک 221 افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔سب سے پہلے تو بات کرتے ہیں عدن شہر کی جو کہ یمنی دارالحکومت صنعاء کے بعد یمن کا دوسرا بڑا اور اہم شہر ہے۔

عدن یمن کے جنوبی حصے پر آبنائے باب المندب پر واقع ہے اور معاشی لحاظ سے یہ شہر یمن کی اقتصادی شہ رگ ہے،یمنی آبنائے باب المندب پر واقع ہونے کی وجہ سے عدن انتہائی حساس اور اہم ترین شہر ہے اور اسٹراٹیجک لحاظ سے اس کی اہمیت صنعا سے بھی زیادہ ہے۔

عدن میں حالات اور واقعات صنعا سے کافی مختلف ہیں،صنعا میں جہاں شہر پر انصاراللہ کا مکمل کنٹرول ہے وہیں عدن میں ایک سے زائد اطراف کا کنٹرول ہے اور سبھی کی یہی خواہش ہے کہ شہر پر صرف اس کا کنٹرول ہو۔

اس وقت عدن میں اماراتی فورسز اور ان کے حمایت یافتہ یمنی مسلح گروہ،سعودی عرب اور ان کے حمایت یافتہ مسلح گروہ موجود ہیں۔علاوہ ازیں عدن میں سابق یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کے وفادار فوجی اورمسلح گروہ بھی موجود ہیں جنہیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے ،مگر امارات کی نہیں۔

تین سال قبل جب یمن کی جنگ شروع ہوئی تھی تو سعودی عرب ،امارات اور ان کے اتحادیوں کے اعلان کردہ جنگ کے مقاصد میں منصور ہادی کی بطور صدر بحالی اہم مقصد تھا،جس بنیاد پر یہ جنگ شروع کی گئی تھی۔

البتہ کچھ عرصے سے اماراتیوں نے منصور ہادی کو پھر سے بحال کرنے کا مقصد ترک کر دیا ہے اور یمن کی دو حصوں میں تقسیم کے منصوبے پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔امارات کے منصوبے کے مطابق یمن کو شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔سعودی عرب کے جنوبی سرحد کے ساتھ واقع شمالی حصے میں حوثیوں کا کنٹرول ہے اور امارات حوثیوں کو جنوبی حصے سے دور رکھنے کے لیے شمال اور جنوب کو الگ الگ کرنا چاہتا ہے۔

جنوبی حصے میں امارات کا اثرورسوخ سعودی عرب سے کئی گنا زیادہ ہے۔جس کی بناء پر امارات جنوبی یمن کو علیحدہ ریاست بنا کر اسے اپنے ہی زیر اثر رکھنا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں اماراتیوں کا کنٹرول یمن کے جنوبی ساحلی حصوں اور آبنائے باب المندب پر قائم ہوگا۔اس کے علاوہ یمنی تیل کے ذخائر کا بیشتر حصہ بھی یمن کے جنوبی حصوں میں واقع ہے اور ان ذخائر پر اماراتیوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب اس اماراتی منصوبے کو قبول نہیں کررہا کیونکہ یہ اس کے لیے گھاٹے کا سودا ہے،سعودیوں کے لیے یمن کی عدم تقسیم ضروری ہے اور یمن کا صدر منصور ہادی کا ہونا اس سے بھی ضروری ہے کیوںکہ سعودیوں کا وفادار اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والا شخص ہے اور امارات کو اس بات کا اچھی طرح سے علم ہے۔

اس وقت عدن میں جھڑپیں دراصل امارات کے حمایت یافتہ جنگجوؤں اور ہادی کی فورسز کے درمیان ہو رہی ہیں اور ان جھڑپوں میں ہادی کی فورسز کو سعودی حمایت حاصل ہے۔

دیکھا جائے تو امارات یمن کی تقسیم کے منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہے اور عدن میں ہونے والی جھڑپیں اس منصوبے کی طرف واضح اشارہ ہے۔ہوسکتا ہے کہ یہ جھڑپیں اچانک بند ہوجائیں،مگر یہ وقتی ہوگا جس کے بعد یہ پھر سے شروع ہوجائیں گی ،کیونکہ اماراتی کسی بھی صورت اس منصوبے کو مکمل کرنے کی کوشش کریں گے اور خوفناک بات یہ ہے کہ وہ اس شیطانی منصوبے کی کامیابی کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …