اتوار , 25 فروری 2018

سعودی عرب اور اردن کے درمیان اختلافات اور ان کی وجوہات

(تسنیم خیالی)
سعودی عرب اور اردن کے درمیان حالیہ عرصے میں کشیدگی اور اختلافات پائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے علاقے پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس ضمن میں امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اردن کے درمیان موجودہ کشیدگی اور اختلافات کی کئی اہم وجوہات ہیں۔اخبار کے مطابق سب سے پہلی وجہ یمن میں تین سال سے جاری جنگ ہے ،اردن اس جنگ میں سعودی عرب کا اتحادی ہونے کے باوجود اس جنگ میں اپنی زمینی فوج کو یمن میں لڑنے کے لیے نہیں بھیجا،جس کی وجہ سے سعودی عرب کو ایک بہت بڑا جھٹکا لگا،سعودیوں کی خواہش تھی کہ اردن جس طرح یمن پر حملے میں اپنے لڑاکے طیارے فراہم کررہا ہے ،ٹھیک اسی طرح اپنے فوجی بھی بھیجے مگر اردن نے ایسا نہیں کیا۔

اخبار کے مطابق دوسری وجہ قطر کا بائیکاٹ کا معاملہ ہے ،اردن قطر کے خلاف سعودی عرب،امارات،بحرین اور مصر کے اقدامات کا مخالف ہے کیونکہ اس وقت قطر میں 50 ہزار سے بھی زائد اردنی باشندے روزگار کے سلسلے میں قطر میں موجود ہیں۔جو قطر کے بائیکاٹ سے متاثر ہورہے ہیں۔

علاوہ ازیں بائیکاٹ کے شروع دنوں میں سعودی عرب نے اردن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھی قطر کا بائیکاٹ کرے مگر اردن نے ایک بار پھر سعودیوں کے مطالبے پر عمل نہیں کیا۔

تیسری وجہ کے حوالے سے امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ اردن اخوان المسلمین کے خلاف اقدامات کے مخالف ہے،اردن کے نزدیک اخوان المسلمین کے خلاف انٹیلی جنس کے اقدامات اور خفیہ طریقوں سے کارروائی کھلم کھلا اقدامات اور کارروائیوں سے زیادہ موثر ہے اور سعودی عرب اور امارات کا کھل کر اخوان المسلمین کی مخالفت کرنا درست پالیسی نہیں۔

اخبار کے بقول علاقے میں اردن امریکہ کا اہم اتحادی ہے ،اس کے باوجود سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اب کوشش یہی ہے کہ سعودی عرب اردن کی جگہ لے اور علاقے میں امریکہ کا اہم اتحادی بن جائے۔

تمام وجوہات کے علاوہ بن سلمان کی کوشش یہ بھی ہے کہ سعودی عرب ہی کے ذریعے مسئلہ فلسطین حل کیا جائے جو کہ اردن کو قابل قبول نہیں جو کہ اس معاملے میں دہائیوں سے کلیدی کردار ادا کرتا آرہا ہے۔

ایسی پیچیدہ صورتحال میں اردن ایک سخت قسم کے اقتصادی بحران سے گزررہا ہے جبکہ آس پاس کا علاقہ جنگ کی لپیٹ میں ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ اس کے تعلقات امارات اور سعودی عرب سے خراب ہوتے جارہے ہیں جو کچھ عرصہ پہلے اسے مالی امداد دیا کرتے تھے۔تو کیا اردن سعودی عرب کے ساتھ مقابلہ جاری رکھے گا،یا پھر سعودی عرب کے آگے اپنے گھٹنے ٹیک دے گا۔

یہ بھی دیکھیں

جزیرہ نما کوریا میں قیام امن اور امریکہ

(تسنیم خیالی) گزشتہ صدی کے وسط میں امریکہ نے جزیرہ نما کوریا کو دو حصوں ...