اتوار , 25 فروری 2018

مصری صدر السیسی نے عمان کا دورہ کیوں کیا؟

(تسنیم خیالی)
چند روز قبل مصری صدر السیسی نے سلطنت عمان کا دورہ کیا تھا،جہاں ان کی ملاقات عمان کے سلطان قابوس بن سعید سے ہوئی۔دورے کے حوالے سے کویتی اخبار ’’الجریدہ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ مصری صدر السیسی نے قابوس کو یمنی معاملے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے لیے لائحہ عمل پر مشتمل دستاویزات پیش کیں۔

اس مصری اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ السیسی سعودی عرب کو یمنی دلدل سے نکالنا چاہتا ہے اور کویتی اخبار کے مطابق قابوس کو پیش کی جانے والی دستاویزات میں یمن میں متنازعہ اطراف کے درمیان مذاکرات کرانے کی بات کی گئی ہے۔

اخبار کے بقول دستاویزات میں یمن تنازعہ حل کرنے کے لیے اہم نقاط درج ہیں جن میں جنگ بندی،یمن میں انسانی امداد داخل ہونے کی اجازت اور تمام متنازعہ اطراف کے درمیان مذاکرات جیسے اہم اقدامات کی بات کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں مصری دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حوثی سعودی عرب پر میزائل داغنے بند کردے اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو ختم کرتے ہوئے مذاکرات کرے۔حوثیوں کے حوالے سے دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ حوثیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہتھیار پھینک کر یمنی افواج میں باقاعدہ طور پر شامل ہوجائیں۔

مصری تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ یمن تنازعے کے حل میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھی شامل کیا جائے۔کویتی اخبار کا مزید کہنا ہے کہ مصر اس بات پر مصر ہے کہ یمن میں متنازعہ اطراف کے درمیان ہونے والے تمام معاہدے دستاویزاتی شکل میں ہوں نہ کہ زبانی۔

اخبار کے بقول السیسی کی کوشش یہی ہے کہ یمن کے معاملے میں سلطنت عمان اور دیگر خلیجی ریاستوں کے نقطہ نظر کو ایک دوسرے سے قریب لایا جائے اور تحفظات کو دور کیا جائے تاکہ یمن کے معاملے کا حل ممکن ہوسکے ،نیز عرب ممالک کے آپسی اختلافات بھی دور ہوجائیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یمنی معاملے کا حل عمان کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ سعودی عرب کے بعد عمان ہی وہ ملک ہے جس کی یمن کے ساتھ متصل سرحد ہے،عمان تو شروع سے ہی یمن کے خلاف سعودی جنگ کا مخالف رہا اور عمان کی اس جنگ میں عدم شرکت سعودی عرب کی یمنی دلدل میں پھنسنے کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور بلاشبہ عمان کی خواہش ہے کہ یمن کی جنگ جلد از جلد اختتام پذیر ہو۔

دوسری جانب اگر یمن کی بات کی جائے تو عام طور پر یمنیوں کے تعلقات عمان کے ساتھ انتہائی خوشگوار اور اچھے تعلقات ہیں اور حوثیوں کو اس بات پر اعتراض نہیں ہوگا کہ عمان اس جنگ کے خاتمے کے لیے کردار نبھائے۔البتہ یہ سب تبھی ممکن ہوسکتا ہے کہ اگر مصری تجاویز سے عمان اور یمنیوں کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچتا۔یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہوگی کہ السیسی کی امارات اور سعودی عرب کے گہرے اور اچھے تعلقات ہیں اور السیسی کی کوشش ہوگی کہ سعودی عرب اور امارات کو کم سے کم نقصان ہو۔

یہ بھی دیکھیں

جزیرہ نما کوریا میں قیام امن اور امریکہ

(تسنیم خیالی) گزشتہ صدی کے وسط میں امریکہ نے جزیرہ نما کوریا کو دو حصوں ...