جمعہ , 25 مئی 2018

چند عادات کو اپنا کر نوکری کو جنت بنائیں

 نوکری پیشہ افراد کے لیے تناؤ والا ماحول اور دفتر میں ہونے والی منفی سرگرمیاں ذہنی دباؤ سمیت متعدد مسائل کا سبب بنتی ہیں تاہم اگر آپ کے اپنے باس سے تعلقات اچھے ہوتے ہیں تو یہی نوکری آپ کے لیے جنت سے کم ثابت نہیں ہوتی۔

نوکری پیشہ خواتین اور حضرات اکثر اوقات اپنے دفتر ی ماحول اور افسر کے مزاج کا شکوہ اس انداز سے کرتے نظر آتے ہیں کہ ’اتنے کم وقت میں بہت سارا کام دیتےہیں، ذہنی دباؤ ڈالتے اور کام غلط ہونے پر سخت جملے استعمال کرتے ہیں‘۔

اس تمام تر صورتحال کے باوجود اداروں میں چند افراد ایسے ہوتے ہیں جن کے افسران سے تعلقات بہت اچھے اور خوشگوار ہوتے ہیں اور وہ نوکری کو بھرپور طریقے سے انجوائے بھی کرتے ہیں۔

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں چند عادات جن پر عمل کر کے آپ اپنی دفتری ماحول کو بہتر بناسکتے ہیں۔

مینیجر سے تعلقات اچھے کریں

دفتری اوقات کے بعد کچھ دیر اپنے مینیجر کے پاس جائیں اور اُن سے تعلقات بہتر کریں، آفس کے کام کے علاوہ ادھر اُدھر کی بات کریں اور انہیں اپنی روزمرہ کی کارکردگی کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔

افسر کیا چاہتا ہے؟

وہ کام یا اہداف مکمل کریں جو آپ کا افسر چاہتا ہے، جیسے کہ اگر آپ کے افسر کو ای میل پر احکامات دینا پسند ہیں تو ای میل کے بعد اُس کے کمرے میں جاکر منہ زبانی بھی لکھی ہوئی بات بتائیں تاکہ وہ آپ کے مزاج کو سمجھ سکے، ہفتے یا مہینے کا جو بھی ہدف دیا گیا ہے اُسے مکمل کر کے ضرور آگاہ کریں۔

روزانہ کیا کام کرتے ہیں؟

آپ جس کے ماتحت ہیں اُسے روزمرہ کے کاموں کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ افسر کے علم میں آسکے کہ آپ کیا کام کرتے ہیں، اس طرح کرنے سے کوئی بھی مینیجر ملازم سے کارکردگی کا سوال کم سے کم کرتے ہیں۔

مقررہ تاریخ سے قبل کام مکمل کریں

اگر آپ کو ماہانہ یا ہفتہ وار ہدف دیا جاتا ہے تو اُسے وقتِ مقررہ سے قبل مکمل کرنے کی کوشش کریں اور جیسے ہی کام مکمل ہو اپنے افسر کو ضرور آگاہ کریں۔

مسائل حل کریں

اگر آپ دفتر میں بیٹھے ہیں اور کام سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش آجائے تو فوراً سے آگے بڑھ کر اسے حل کرنے کی کوشش کریں، اس طرح کرنے سے آپ اپنی ذہانت کا ثبوت بھی دے سکتے ہیں۔

اچھا ماحول بنائیں

ادارے کے کسی بھی محکمے میں اگر کوئی جھگڑالو شخص آجائے تو اُس سے پورے ڈپارٹمنٹ کا ماحول خراب ہوجاتا ہے، لہذا اپنے افسران اور ساتھیوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔بشکریہ اے آر وائی نیوز


یہ بھی دیکھیں

صہیونی معاشی پابندیوں کا شکار القدس کے روزہ دار!

تاریخی اعتبار سے مقبوضہ بیت المقدس کے مسلمانوں کو تیسرے مقدس ترین مقام یعنی قبلہ ...