اتوار , 25 فروری 2018

شامیوں نے اسرائیل طیارہ مار گرایا

(تسنیم خیالی)
گزشتہ روز شامی فورسز نے مقبوضہ گولان نامی علاقے کے قریب اسرائیلی ایف۔16 طیارہ مار گریا ہے ،یہ طیارہ شام میں حملے کے دوران گرایا گیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں انتہائی کشیدہ صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

سب سے پہلے تو اس اہم کارنامے پر شامی افواج کو مبارکباد پیش ہے جس نے اسرائیلی طیارہ مار گرا کر امریکہ ،اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے منہ پر زور دار طمانچہ دے مارا ہے ،خاص طور پر اسرائیل کے منہ پر!جو علاقے میں خود کو سب سے طاقتور ملک تصورکرتا ہے۔

شامیوں نے یہ کارروائی لمبے عرصے سے جاری صبر وتحمل کے مظاہرے کے بعد کی ہے،گزشتہ سالوں میں اسرائیلی طیاروں نے بے دریغ شامی شمار فضائی کارروائیاں کی اور شام کو نقصان پہنچایا۔شامیوں نے ہر بار تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کو باز رہنے کا کہا مگر اسرائیل نے شامیوں کی ایک نہ سنی اور کارروائیاں کرتے گئے،اس معاملے میں امریکہ اور مغربی ممالک سمیت متعدد عرب ممالک نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کی جس کی وجہ سے اسرائیل بے لگام ہوا اور سبھی یہ سوچنے لگے کہ شام میں جرأت نہیں کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روک سکے یا اسرائیلی طیاروں کو مار گراسکے۔مگر اب اتنے سالوں بعد شامیوں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ اب اسرائیل کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے اور سبق بھی ایسا سکھایا کہ اسرائیلی ایف 16 طیارہ مار گرایا ہے۔

اس واقعے کے بعد اسرائیل نے امریکہ اور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور شامیوں کو باز رہنے کے لیے کہیں۔اسرائیل کی اس حرکت سے واضح ہوتا ہے کہ شامیوں کی جوابی کارروائی نے اسرائیل کی کھوکھلی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہ خوفزدہ ہوگیا ہے (اگر ایسی بات ہے تو آپ کو شامی علاقوں پر حملے کرنے کی کیا ضرورت تھی؟اگر مار کھانے کی ہمت نہیں تو مارا بھی نہ کرو)

یہ ایک حقیقت ہے کہ شامیوں نے ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں طاقت کے توازن میں کھلبلی مچ گئی ہے اور اب اسرائیل کو شام پر حملہ کرنے سے قبل ہزار بار سوچنا پڑے گا۔

اسرائیل کے اتحادی اس واقع کی مذمت کرتے ہوئے شام کو دھمکی دیں گے ،مقابل روس شامیوں کی حمایت کرتے ہوئے یہ کہے گا کہ شام کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے جس کی وجہ سے اسرائیل سیخ پا ہوگا۔

اس شامی کارروائی کے بعد علاقے م یں کشیدگی بڑھے گی اور اسرائیل شام کے خلاف سازشیں تیز کرے گا مگر وقتی طور پر اسرائیلی فضائی کارروائیاں رک جائیں گی اور ایک نئی اسٹرائیٹجی ترتیب دی جائے گی۔ایک بات طے ہے اور یہ کہ اسرائیلی حملوں کا وطیرہ پہلے جیسا نہیں ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

جزیرہ نما کوریا میں قیام امن اور امریکہ

(تسنیم خیالی) گزشتہ صدی کے وسط میں امریکہ نے جزیرہ نما کوریا کو دو حصوں ...