جمعرات , 16 اگست 2018

سعودی عرب 2004 سے عراق کے ساتھ یہ کیا کررہا ہے؟

(تسنیم خیالی)
عراقی وزارت دفاع سے جاری ہونے والی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب 2004 سے دہشت گردوں کو عراق میں داخل ہونے میں مدد کرتا آرہا ہے،رپورٹ کے مطابق عراق اور شام میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں سال 2017ء تک 20 فیصد سعودی دہشت گرد شامل تھے جو سعودی عرب سے با آسانی عراق سے داخل ہوتے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی حکام، سعودی عرب میں موجود دہشت گردوں سے جان چھڑانے کیلئے انہیں عراق میں داخل ہونے میں مدد کیا کرتے تھے۔سعودی حکام کے نزدیک ان دہشت گردوں کی سعودی عرب میں موجودگی سعودی عرب کے لیے پریشان کن تھی اور اور اس پریشانی سے جان چھڑانا ضروری تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں میں دہشت گردوں کی عراق آمد میں کمی واقع ہوگئی ہے اور دہشت گردوں کی عراق سے واپسی کا رجحان بڑھ گیا ہے جو کہ ایک مثبت ڈویلپمنٹ ہے۔

عراقی وزارت دفاع کی اس حالیہ رپورٹ سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کئی سالوں سے چلنے والی دہشت گردی کی لہر میں سعودی عرب کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور بات صرف دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ تک نہیں ہے،بلکہ دہشت گرد تنظیمیوں کو دہشت گرد جنگجوؤں کی فراہمی بھی ہے۔

اس حقیقت میں کسی بھی قسم کا شبہ نہیں کہ سعودی عرب دہشت گرد تنظیموں کا سب سے بڑا حمایتی اور سرپرست ہے خواہ وہ طالبان ہوں،القاعدہ ہوں،داعشی ہوں،احرارالشام والے ہوں یا پھر کوئی بھی دوسری دہشت گرد تنظیم ہو۔

اس عراقی رپورٹ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردوں کو بناتا ہے اور انہیں تیار کر کے دیگر ممالک بھیج دیتا ہےتاکہ وہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے تیار کردہ درندوں کی سفاکیت سے بچا رہے جو کہ انتہائی شرمناک عمل ہے۔

اس شرمناک سعودی سازش نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی جان لی،کئی ممالک کو تباہ و برباد کیا،لاکھوں افراد کو دربدر کردیا۔اس حوالے سے سعودی عرب سے تفتیش ہونی چاہیے اور اس کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہیں ،مگر ایسا کون کرے گا؟

امریکہ جو اس سازش میں شامل اور اس کا ماسٹر مائنڈ ہے،کیا یہ اقدامات عالمی برادری اٹھائے گی جو کئی سالوں سے تماشائی بن کر خاموش کھڑی ہے۔سعودی عرب کا یہ اقدام عراقی عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے اور بہت بڑا جرم ہے جس کا سعودی عرب کو جواب ملنا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

بدلتی دنیا میں خارجہ پالیسی کی تشکیل نو ضروری

نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے تیزرفتاری سے تبدیل ہوتی بین الاقوامی صورت حال ...