اتوار , 21 اکتوبر 2018

سعودی عرب: ’’ذہبان‘‘ جدہ کے قریب ایک انتہائی خوفناک جیل

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) «ذہبان» جدہ کے قریب ایک جیل ہے، جو میڈیا اور انسانی حقوق کے اداروں کی نگاہ سے دور ہے۔جدہ سے 20 کلو میڑ کے فاصلے پر ایک گاوں میں ساحل کے قریب «ذہبان» نامی جیل واقع ہے ۔ سعودی حکام نے اس جیل میں ہزاروں سیاسی قیدی اور دہشتگردی کے الزام میں افراد کو قید کیا ہوا ہے۔

سعودی قیدیوں کی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے زیادہ
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 5300 سعودی اس جیل میں ہیں، انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ سعودیہ میں سیاسی گرفتاریوں کی بڑی لہر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قیدیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوگی۔

لندن میں مقیم ایک سعودی سیاسی فرد کا کہنا ہے کہ اس جیل میں 4 ہزار سیاسی قیدی ہیں اور اس کے علاوہ باقی جرائم میں افراد قید ہیں ۔

انسانی حقوق میں سرگرم افراد اور رپورٹروں کے لئے اس جیل کے دروازے بند
«ذہبان» کا جیل 10 سال پہلے بنایا گیا تھا اور اس جیل میں انسانی حقوق کے ادارے کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے، صرف حکومتی میڈیا یا سعودی حکومت کے حامی مصنفین کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

سعودی حکومت سے وابستہ رپورٹر کی اس جیل کی تعریف
سعودی رپورٹر عبدالعزیز قاسم نے اس جیل کے دورے کے بعد لکھا ہے کہ یہ جیل ایک ایسے ادارے کی طرح ہے جہاں انسان کی اصلاح ہوتی ہے، جو لوگ کسی عقیدے کی وجہ سے جیل میں ہیں جیسا کہ سلمان العودہ انہیں وہاں کوئی مشکل نہیں ہے۔

ذہبان جیل کی سہولیات کے بارے میں مبالغہ
سعودی حکام اس جیل کو 5 سٹار ہوٹل قراد دیتے ہیں ان کے مطابق اس جیل میں شادی شدہ افراد کے لیے الگ کمرے بنے ہوئے ہیں اور اس جیل میں تمام سہولیات فراہم ہیں اور قیدیوں کی تفتیش کے دوران ان کے وکلا کو ساتھ رکھا جاتا ہے۔

قیدیوں کی ہاتھ پاؤں کاٹنے تک کی سزا
جو لوگ اس جیل سے زندہ بچے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس جیل میں اعتراف لینے کے لیے ٹارچر کیا جاتا ہے اس حد تک کہ انسانی جسم کاٹ دیا جاتا ہے اور پھر وہ مر جاتا ہے جس کی ایک مثال خالد محمد الغامدی ہیں جو 2012 میں سیاسی قیدی کے طور پر اس جیل میں لائے گئے تھے۔

لندن میں مقیم انسانی حقوق کے ادارے نے کہا ہے کہ سعودیہ میں سیاسی قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں اسمگلرز اور شراب فروشوں کے ساتھ قید کیا جاتا ہے۔

اس ادارے کے سربراہ «یحییٰ عسیری» نے کہا ہے کہ سعودیہ اپنے خاص میڈیا گروپ یا افراد کو اس جیل کا دورہ کروا کر یہ دیکھانا چاہتا ہے کہ سعودی حکومت قیدیوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔سعودی حکام قیدیوں کی سزا ختم ہونے کے بعد بھی مختلف بہانوں سے اس جیل سے انہیں آزاد نہیں کر رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

یوٹیوب سے سالانہ ایک ارب روپے کمانے والا 6 سالہ بچہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں 6 سالہ بچہ رائن یوٹیوب پر اپنے تخلیق کردہ پروگرام ...