پیر , 20 اگست 2018

ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی امریکا کی سب سے بڑی اسٹریٹیجیک غلطی ہوگی۔ صدر حسن روحانی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی امریکا کی سب سے بڑی اسٹریٹیجیک غلطی ہوگی۔تہران میں متعین غیر ملکی سفیروں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کی مبارکبادپیش کرنے کے لئے ہفتے کو صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر غیر ملکی سفیروں اور سیاسی دفاتر کے نمائندوں کو خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ اسلامی انقلاب کا پیغام آزادی وخود مختاری، ملک میں اغیار کی مداخلت کی نفی اور دنیا کے ساتھ آزادانہ اور منصفانہ تعلقات کی برقراری تھا۔صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران تیل و گیس، پیٹروکیمیکل اور دوسرے قدرتی ذخائر شعبوں میں دیگر ملکوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ملکوں کی تقسیم کا منصوبہ علاقے کے لئے سنگین خطرہ ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے پچھلے برسوں کے دوران دہشت گردی اور تقسیم کے منصوبے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سمجھتا ہے کہ علاقے کی مشکلات کو صرف سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتاہے کہ دہشت گردی کی حمایت، دوسرے ملکوں میں مداخلت یا ہمسایہ ملک پر بمباری کرکے اپنے مقاصد حاصل کرسکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایٹمی معاہدے کے بارے میں جو رویّہ اپنائے ہوئے ہے اگر وہ ایک سیاسی ڈرامہ نہ ہو اور اس معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ ہو تو میں صراحت کے ساتھ یہ کہتاہوں کہ واشنگٹن نے ایک بڑی اسٹریٹیجک غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور دنیا امریکا کی سب سے بڑی غلطی کا مشاہدہ کرے گی۔

صدر حسن روحانی نے تہران میں متعین غیر ملکی سفیروں اور سیاسی دفاتر کے نمائندوں سے خطاب کے دوران کہا کہ ہم علاقے کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے پہلے سے بھی زیادہ پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں دیگر ملکوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدہ عالمی مشکلات کے حل کے لئے سفارتکاری کا ایک بہترین ماڈل ہے اور یہ طریقہ علاقے اور دنیا کی سیکورٹی کو یقینی بناسکتا ہے اور ساتھ ہی اس سے دنیا کے اقتصادی تعلقات بھی مستحکم ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ایٹمی معاہدے کے سبھی فریق اپنے اپنے وعدوں پر پوری طرح سے عمل کرتے اور خاص طور پر ا مریکا اس معاہدے کی پابندی کرتا تو آج علاقے میں صورتحال بہت بہتر ہوتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایٹمی معاہدہ باقی رہے گا اور مشکلات کے حل کے لئے ایک بہترین ماڈل کے طور پر دیکھا جائے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے تعلق سے اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے اور وہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے میں پہل نہیں کرے گا لیکن اگر امریکا نے خلاف ورزی کی تو اس کو بھاری نقصان پہنچے گا۔اس موقع پر تہران میں متعین غیر ملکی سفیروں نے صدر مملکت کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔

یہ بھی دیکھیں

مصری صدر کی صدی کے سازشی معاملے کو مکمل کرنے کے لئے 4 فریقی اجلاس بلانے کی کوشش

قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ،صدی کے سازشی معاملے کو پایہ تکمیل تک ...