اتوار , 21 اکتوبر 2018

منشیات کا خاتمہ سب کی ذمہ داری

ایک نوجوان ایک گھرانے کا ہی نہیں پوری قوم کا مستقبل ہوتا ہے۔ اہل دانش نے نوجوان نسل کو ہری بھری فصلوں سے تعبیر کیا ہے، فصلوں کے لئے دیمک اور نوجوان نسل کے لئے منشیات یکساں طور پر تباہ کن ہیں۔ تاہم وطن عزیز میں بے شمار گھر محض کسی ایک فرد کے منشیات کا عادی ہوجانے کی وجہ سے برباد ہو چکے ہیں۔ اس کی ذمہ داری صرف خاندان پر نہیں پوری قوم پر عائد ہوتی ہے ۔ ملک میں وزارت انسداد منشیات کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق دیگر اداروں کے ہوتے ہوئے نشے کے عادی افراد کی تعداد کا67لاکھ سے متجاوز ہوجانا یقیناًانتہائی تشویشناک بات اور پوری قوم کے لئے لمحۂ فکریہ ہے ۔

پاکستان جنوبی ایشیا کی آبادی کا 10فی صد جبکہ یہاں سگریٹ نوشی کی شرح32فیصد ہے اور یہ نہ صرف خود ٹی بی اور کینسر جیسے موذی امراض کا باعث ہے بلکہ دوسری منشیات تک پہنچنے میں یہ خشت اول کا کام کر رہی ہے سیکنڈری سے لیکر انٹر میڈیٹ تک ،نوجوان نسل کے لئے انتہائی حساس دور ہوتا ہے۔ اس دوران گھر میں والدین اور دیگر اہل خانہ اور تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کی غفلت طالب علموں کو تیزی سے منشیات کی طرف لے کر جار ہی ہے۔ دوسری طرف منشیات مافیا اس قدر منظم اور متحرک ہے کہ اس پر ابھی تک قانون نافذ کرنے والے ادارے آہنی ہاتھ نہیں ڈال سکے ہیں۔

وزارت انسداد منشیات کا یہ دعویٰ ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ سال مختلف کارروائیوں میں400 ارب روپے کی منشیات تلف کی گئی ہے۔ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان میں پوست کی کاشت میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے تاہم چونکہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام تکمیل کے قریب ہے لہٰذا امید ہے کہ وہاں سے یا کسی بھی دوسرے مقام سے منشیات کی لعنت وطن عزیز میں نہیں آسکے گی۔اس چیلنج سے نمٹنا یقیناًاسی طرح ضروری ہے جیسے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹا جارہا ہے۔(بشکریہ روزنامہ جنگ)

یہ بھی دیکھیں

کلین اینڈ گرین پاکستان

(جاوید چوہدری) لندن کی آبادی 1750ء سے 1810ء کے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی ...