منگل , 21 اگست 2018

کراچی: غیر ملکی سیکیورٹی مبصرین پی ایس ایل فائنل کی سیکیورٹی پر مطمئن

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)  غیر ملکی سیکیورٹی مبصرین نے پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) 2018 کے فائنل میچ کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات کو اطمینان بخش قرار دے دیا۔نیشنل اسٹیڈیم میں شیڈول پی ایس ایل تھری کے فائنل کے لیے فل ڈریس ریہرسل کی گئی جس میں پولیس، رینجرز اور آرمی کے جوانوں نے حصہ لیا جن کی تعداد 8 ہزار سے 10 ہزار تک تھی۔فل ڈریس ریہرسل کے پہلے مرحلے میں سیکیورٹی اہلکار کراچی کے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے نجی ہوٹل تک ریہرسل کی بعدِ ازاں ہوٹل سے نیشنل،

اسٹیڈیم تک کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔فل ڈریس ریہرسل کے دوران کراچی اسٹیڈیم کے گیٹ پر مامور سیکیورٹی اہلکار ذیشان احمدفل ڈریس ریہرسل کے دوران کراچی اسٹیڈیم کے گیٹ پر مامور سیکیورٹی اہلکار اسٹیڈیم پہنچنے کے بعد سیکیورٹی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں غیر ملکی سیکیورٹی مبصرین کو بریفنگ دی گئی۔اس دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات بھی کیے گئے،جبکہ اسٹیڈیم کے اطراف میں پولیس رینجرز اور آرمی کے اعلیٰ افسران بھی موجود رہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سیکیورٹی سربراہ کرنل (ر) اعظم نے غیر ملکی مبصرین کو سیکیورٹی کے حوالے سے غیر ملکی مبصرین کو بریفنگ دی، جبکہ کمانڈوز نے گراؤنڈ کے اندر کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایکشن بھی کرکے دکھایا۔غیر ملکی مبصر ریگ ڈیکاسن نے نیشنل اسٹیڈیم میں قائم کیے جانے والے کنٹرول روم اور موبائل ہسپتال کا دورہ کیا جس بعد انہوں نے تمام تر سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ریگ ڈیکاسن نے کہا کہ وہ پی ایس ایل 2018 کے فائنل کے لیے۔

سیکیورٹی انتظامات سے مطمئن ہیں تاہم وہ اس کی رپورٹ 7 روز میں پی سی بی کو پیش کریں گے۔انہوں نے پی ایس ایل تھری کے فائنل کو کراچی میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے اہم قدم قرار دیا۔کراچمی میں تمام انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد غیر ملکی سیکیورٹی مبصرین کا قافلہ لاہور کے لیے روانہ ہوگیا جہاں پر پلے آف مقابلوں کے لیے سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔صوبائی وزیر داخلہ کا ریہرسل کا جائزہ،اس تمام ریہرسل اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیرِ داخلہ سہیل انور سیال نے بھی اسٹیڈیم کا دورہ کیا۔

وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل فائنل کے لیے سیکیورٹی کے انتظامات عالمی معیار کے مطابق ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ برس وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے کراچی میں پی ایس ایل فائنل کروانے کا وعدہ کیا تھا جسے پورا کیا اور امید ہے کہ کراچی میں یہ فائنل خوش اسلوبی کے ساتھ ہوگا۔یاد رہے کہ 9 فروری کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پی ایس ایل فائنل کی سیکیورٹی کی تیاری سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا،جس میں،

صوبائی وزیر داخلہ، وزیر صحت، وزیر بلدیات، وزیر کھیل، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس، کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل آئی جی اسپشل برانچ، سینئر مینجر سیکیورٹی پی سی بی، جنرل مینجر قومی کرکٹ اسٹیڈیم کراچی و دیگر سمیت اہم سیکیورٹی اور سول حکام شریک ہوئے۔وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کے جاری بیان کے مطابق کراچی میں ہونے والے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) تھری کے فائنل کے لیے سیکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا جس کے تحت

سیکیورٹی کی ذمہ داری پولیس، رینجرز اور فوج کے سپرد کردی گئی جبکہ میچ کے دوران سیکیورٹی کے لیے سول ایوی ایشن سے دو ہیلی کاپٹر بھی طلب کرلیے گئے۔اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ برس وعدہ کیا تھا کہ پی ایس ایل فائنل کراچی میں کروائیں گے، ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا اب ہم سب کو اس ایونٹ کو کامیاب بنانا ہے۔بیک اپ پلان تیار ہے، نجم سیٹھی،پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب غیر ملکی کھلاڑیوں سے معاہدہ،

کیا گیا تو ان سے یہ بھی معاہدہ کیا گیا تھا کہ اگر ان کی ٹیم ایونٹ کے پلے آف مقابلوں اور فائنل مقابلے کے لیے کوالیفائی کرتی ہے تو انہیں پاکستان آنا ہوگا۔نجم سیٹھی نے بتایا کہ پلے آف مقابلوں اور فائنل کے عین موقع پر غیر ملکی کھلاڑیوں کے پاکستان آنے میں مسائل ہوسکتے ہیں تاہم اس کے لیے ’بیک اپ پلان‘ تیار کیا گیا ہے تاکہ ایونٹ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی بھی شرکت یقینی بنائی جاسکے۔جب ان سے پی ایس ایل کو مکمل طور پر پاکستان میں منعقد کروانے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم،

قدم بقدم آگے بڑھ رہے ہیں، اس سال 2 میچز لاہور اور ایک کراچی میں منعقد کیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جیسے جیسے ہمیں سیکیورٹی کے حوالے سے گرین سگنلز ملتے رہیں گے ویسے ویسے پاکستان میں ایونٹ کے میچز کی تعداد کو بڑھا دیا جائے گا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے کرکٹ اسٹیڈیمز گزشتہ 9 سالوں سے عدم توجہ کا شکار ہیں اور یہاں پر بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں، تاہم انہیں بھی آہستہ آہستہ بہتر کرتے ہوئے یہاں میچز منعقد کیے جائیں گے۔

چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ رواں ماہ ویسٹ انڈیز کا دورہ پاکستان شیڈول ہے، تاہم کوشش ہے کہ اس برس کرکٹ کی صف اول کی دیگر ٹیموں کو بھی پاکستان لایا جائے۔نیشنل اسٹیڈیم میں کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ میڈیا نمائندوں کو بھی سخت چیکنگ کے بعد اسٹیڈیم کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

پی ایس ایل تھری

پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کا آغاز 22 فروری سے ہوگا اور پہلا مقابلہ گزشتہ ایڈیشن کی چیمپیئن ٹیم پشاور زلمی اور ایونٹ میں پہلی مرتبہ شرکت کرنے والی ملطان سلطانز کے درمیان متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے شہر دبئی میں کھیلا جائے گا۔ایونٹ کے پلے آف مقابلے لاہور میں کھیلے جائیں گے جبکہ فائنل شیڈول کے مطابق نیشنل اسٹیڈیم میں 25 مارچ کو کھیلا جائے گا۔پاکستان کی اس سب سے بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگ کے ماضی کے دو ٹورنامنٹس کے دوران سیکیوٹی خدشات کے پیشِ نظر غیر ملکی،

کھلاڑیوں نے پاکستان آکر کھیلنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا۔تاہم گزشتہ ایونٹ کے دوران غیر ملکی کھلاڑیوں کی ہچکچاہٹ میں کمی دیکھنے میں آئی تھی جہاں کئی کھلاڑیوں نے لاہور میں پی ایس ایل 2017 کے فائنل میں شرکت کے لیے لاہور کا رخ کیا تھا۔مذکورہ فائنل میچ کے بعد جنوبی افریقہ کی ون ڈے ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی کی قیادت میں نامور بین الاقوامی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیلی تھی جس میں پاکستان نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

گزشتہ برس سری لنکن ٹیم نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا جہاں تین ٹی ٹوئنٹی پر مشتمل سیریز کا آخری میچ لاہور میں کھیلا گیا تھا جبکہ سیریز کے گزشتہ دو میچز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں کھیلے گئے تھے۔یاد رہے کہ 3 مارچ 2009 کو لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کردیا گیا تھا جس میں سری لنکا کے 6 کھلاڑیوں سمیت 2 میچ آفیشلز بھی زخمی ہوگئے تھے۔پنجاب پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنادیا جس میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی اسپورٹس مکمل طور پر بند ہوگیا تھا، تاہم ملک کی بہتر ہوتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کئی بین الاقوامی مقابلے منعقد کرائے گئے ہیں۔کراچی میں لاہور واقعے کے بعد سے اب تک کوئی بھی بین الاقوامی سطح کی کرکٹ کا مقابلہ منعقد نہیں کرایا گیا اور اس ضمن میں پی ایس ایل تھری کا فائنل گزشتہ 9 سالوں کے دوران پہلا مقابلہ ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

احمد شہزاد کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ؛ غیرمعمولی تاخیر معاملے کو پُرسرار بنانے لگی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) احمد شہزاد کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ میں غیرمعمولی تاخیرمعاملے کوپراسرار بنانے لگی.بیٹنگ ...