اتوار , 21 اکتوبر 2018

غلامی کی زنجیریں کشمیریوں کیلئے ناقابل برداشت ہوگئیں‘ بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے

مجاہدین نے فوجی کیمپ اڑا دیا۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعرے‘ مقبول بٹ کی برسی پر وادی میں مکمل ہڑتال
مقبوضہ کشمیر میں فوجی کیمپ پر حملے کے دوران 2 بھارتی فوجی افسر ہلاک اور 6 اہلکاروں سمیت 9 زخمی ہو گئے۔ حملہ جموں کے مضافاتی علاقے سنجوان میں جموں‘ پٹھان کوٹ شاہراہ پر واقع فوجی کیمپ پرہفتے کی صبح تقریباً 5بجے ہوا۔ اطلاعات کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے کیمپ کے باہر سنتری بنکر پر فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد تین تھی۔ پولیس سربراہ ایس پی وید نے کہاحملہ آوروں نے کیمپ کے عقب سے حملہ کیا۔حملے میں فوج کا ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر، ایک نان کمیشنڈ آفیسر ہلاک اور 6 فوجی جوان زخمی ہوئے۔ بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت الزام لگایا کہ حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے ہے۔ بعد ازاں انڈین سرکاری ہینڈ آئوٹ میں بھارتی فوج نے بھی اپنے میڈیا کی تائید کرتے ہوئے کہا حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے ہے۔ الزام لگایا گیا کہ حملہ آوروں نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی اور انکے پاس ہینڈ گرنیڈ اور دوسرا اسلحہ تھا۔ جموں میں فوجی کیمپ پر حملے کے حوالے سے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے براہ راست ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید سے فون پر بات کرکے معلومات حاصل کیں۔بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد بھارتی سیکرٹری دفاع ہنگامی دورے پر مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سپیکر کیوندر گپتا نے اسمبلی میںیہ کہہ کر ایک تنازع کھڑا کردیا کہ جموں کے سنجوان فوجی کیمپ پر حملہ علاقے میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی وجہ سے ہوا ہے۔اپوزیشن ممبران نے سپیکر کے اس بیان پر ہنگامہ کیا اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔اپوزیشن نے سپیکر سے اس بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ اور واک آوٹ بھی کیا۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز جماعت نیشنل کانفرنس کے رکن اکبر لون نے نام نہاد اسمبلی میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگا دیے۔ انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان کی طرف سے لگائے جانے والے پاکستان مخالف نعروں کے جواب میں لگایا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اکبر لون نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے پاکستان مخالف نعرے لگائے تو وہ اپنے جذبات قابو میں نہ رکھ سکے۔
دنیا میں کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ سخت سکیورٹی فوجی چھائونی اور فوجی کیمپوں کی ہوتی ہے۔ ان میں بھی کبھی کبھی دہشت گردی کے واقعات ہوجاتے ہیں مگر یہ واقعات بھی سکیورٹی لیپس کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کو وہاں آزادی کا حق مانگنے والے چیلنج کررہے ہیں۔ گو جدید اسلحہ سے لیس اور لاتعداد بھارتی فوج اور نہتے حریت پسندوں کے مابین کوئی مقابلہ اور موازنہ نہیں ہے مگر ان کو جب بھی موقع ملتا ہے‘ بھارتی فوج‘ اسکی گاڑیوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ انہی حریت پسندوں نے اڑی چھائونی کو اڑا کے رکھ دیا تھا۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر لگایا‘ بدلہ لینے کیلئے سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیاں دی گئیں اور کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ایک سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ بھی کیاگیا جسے خود بھارتی دفاعی اور سیاسی ماہرین نے جھٹلا دیا۔ پاکستان کو ایسے حملوں کی ضرورت نہیں‘ کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کو مظفر برہان وانی کی شہادت کے بعد ایسی مہمیز ملی کہ ہر نوجوان آزادی کا مجاہد بنا نظر آتا ہے۔ انہیں پیلٹ گنوں سے خوفزدہ کیا جا سکتا ہے نہ دیگر جدید اسلحہ کے استعمال سے ہراساں کیا جا سکتا ہے۔
بھارتی حکومت اور سفاک فوج نے اڑی کی طرح سنجوان کیمپ پر حملے کا الزام بھی بالواسطہ پاکستان پر لگایا ہے۔ بھارت کی ساڑھے سات لاکھ فوجانسانیت سوز قوانین کے ساتھ کشمیریوں کو بھارت کا ہمنوا بنانے کیلئے ظلم‘ جبر اور بربریت کا ہر حربہ آزما رہی ہے۔ اسے کشمیریوں کی طرف سے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔ کم از کم فوجی کیمپوں کی سکیورٹی تو فول پروف ہونی چاہیے۔ مجاہدین نے صرف اڑی اور سنجوان کیمپ ہی میں سکیورٹی کو مفلوج نہیں بنایا دیگر کئی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج اگر اپنی افواج اور انکی حفاظت پر تعینات محافظوں کا بھی تحفظ نہیں کر سکتی تو واپس چلی جائے۔ اب ویسے بھی کشمیری اپنی آزادی سے کم کسی طرح تیار نہیں جس کا انکی طرف سے برملا اور بغیر کسی خوف و خطر اظہار بھی ہورہا ہے۔
گزشتہ روز شہید کشمیر محمد مقبول بٹ کی 34 ویںبرسی پر وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیری عوام نے کاروبار زندگی معطل رکھ کر بھارت کے خلاف احتجاج کرکے ایک بار پھر باور کرادیا کہ وہ اسکی جارحیت کے سامنے جھکنے پر تیار نہیں۔ ہڑتال کی اپیل مشترکہ مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک نے کی تھی۔ اس موقع پر سری نگر کے علاقے سونہ وار میں قائم اقوام متحدہ کے مبصرین کے دفتر کی طرف مارچ کیا گیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک، محمد اشرف صحرائی، مختار احمد وازہ، غلام احمد گلزار، محمد یوسف نقاش، بلال صدیقی، محمد اشرف لایہ، عمر عادل ڈار اور سید امتیاز حیدر کو مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں، تھانوں اور جیلوں میں بند کر دیا ۔ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے جنوب سے شمال تک اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے‘ مگر ہڑتال کامیاب رہی۔ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے حریت پسندوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ’’ محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی پھانسی عدل و انصاف کی تاریخ کا ایک سیاہ باب اوردیگرلاکھوں شہداء کی قربانیاں کشمیریوں کا بیش بہا اثاثہ ہیں ۔‘‘ کشمیری اپنے ان عظیم شہداء کے مقدس مشن کو ہر قیمت پر پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ مقبول بٹ‘ افضل گورو اور مظفربرہان وانی جیسے شہداء نے آزادی کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ کشمیریوں کی نسلیں شہداء کی قربانیوں کو مشعل راہ بنائے ہوئے ہیں جو یقیناً رنگ لائیں گی۔
مقبوضہ کشمیر میں جلسوں جلوسوں میں‘ مظاہروں اور احتجاجوں کے ساتھ ساتھ سکولوں اور کھیل کے میدانوں میں بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہیں۔ نوجوان بھارتی سفاک فوج اور پولیس کے ساتھ مقابلوں میں شہید ہو کر پاکستان کے پرچم میں دفن ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ بچے گلیوں بازاروں اور سڑکوں پر اپنی جانوں پر کھیل کر پاکستان کا پرچم لہراتے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ اب تو مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج اٹھے ہیں جو بھارت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چاہیے۔ بھارت جتنا جلد ممکن ہو‘ حقائق کا ادراک کرلے‘ اس کیلئے بہتر ہے۔
اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سرگرداں بھارتی قیادت چور مچائے شور کے مصداق مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں تیزی کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے دھمکی آمیز زبان استعمال کرتی ہے۔اسے ایل او سی پر پاکستان کی جارحیت نظر آتی ہے جس سے بڑا جھوٹ اور فریب کاری کوئی نہیں ہو سکتی۔ گزشتہ روز ایک بار پھر بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے دھمکی دی ہے ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی بند نہ کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کی طرف سے بار بار معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا بھارت پاکستان سے پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تاہم یہ اسلام آباد ہی ہے جو بگاڑ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا اب دنیا بھارت کو ایک کمزور ملک کے طور پر شمار نہیں کر رہی بلکہ سرجیکل سٹرائیکس کے ذریعے ہم نے دنیاکو یہ دکھا دیا ہے ہم بھی مضبوط ایکشن لے سکتے ہیں۔
لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر اشتعال انگیزی بھارت کی طرف سے ہوتی ہے جس کا پاکستان کی طرف سے بھرپور جواب دیا جاتا ہے۔ گزشتہ روز بٹل سیکٹر میں بھارتی فورسز کی گولہ باری سے تین شہری زخمی ہوگئے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارتی فوج کی فائرنگ سے بچوں اور خواتین سمیت 20 کے قریب افراد شہید اور بیسیوں زخمی ہوئے جس پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو کم از کم چھ مرتبہ دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔ بھارت نے اڑی حملوں کے بعد جعلی سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا تھا۔ راجناتھ نے پھر ایسی دھمکی دی ہے جس پر بھارت عمل کر سکتا ہے۔ ایسی صورحال کے مقابلے اور بھرپور جواب کیلئے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

کلین اینڈ گرین پاکستان

(جاوید چوہدری) لندن کی آبادی 1750ء سے 1810ء کے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی ...